ڈاکٹر قاسم فکتو، جیل میں 33 سال مکمل
اشاعت کی تاریخ: 8th, February 2026 GMT
ذرائع کے مطابق، ڈاکٹر قاسم فکتو 13نومبر1967ء کو سری نگر کے علاقے زالڈگر میں پیدا ہوئے۔ وہ علمی لحاظ سے ممتاز ہیں اور 2016ء میں قید کے دوران اسلامیات میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ اسلام ٹائمز۔ غیر قانونی طور پر بھارت کے زیرِ قبضہ جموں و کشمیر میں حریت رہنما ڈاکٹر قاسم فکتو نے بھارتی جیل میں اپنی نظربندی کے 33 سال مکمل کر لیے جو بھارت کی کشمیری رہنماؤں کے خلاف انتقامی اور سیاسی بنیادوں پر کی جانے والی کارروائیوں کی ایک بدترین مثال ہے۔ ذرائع کے مطابق، ڈاکٹر قاسم فکتو 13نومبر1967ء کو سری نگر کے علاقے زالڈگر میں پیدا ہوئے۔ وہ علمی لحاظ سے ممتاز ہیں اور 2016ء میں قید کے دوران اسلامیات میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ ڈاکٹر فکتو مشہور حریت رہنما اور دختران ملت کی سربراہ آسیہ اندرابی کے شوہر ہیں۔ انہوں نے مسلم لیگ کے سربراہ اور اپنی قائم کردہ مذہبی تنظیم مسلم دینی محاذ کے چیئرمین کے طور پر خدمات انجام دیں۔ ڈاکٹر قاسم کے قانونی مسائل فروری 1993ء میں شروع ہوئے جب انہیں فرضی قتل کے مقدمے میں سیکشن 3 (ٹی اے ڈی اے) کے تحت گرفتار کیا گیا۔
1993ء میں ضمانت ملنے کے باوجود بھارتی حکام نے 2000ء میں انہیں دوبارہ گرفتار کر لیا اور 2003ء میں عمر قید کی سزا سنائی جو بھارت کے جانبدار عدالتی نظام اور قابض عدالتوں کی ناانصافی کی عکاسی ہے۔2016ء میں بھارتی سپریم کورٹ نے انہیں رہائی دینے کی درخواست مسترد کر دی۔ ان کے بیٹے احمد بن قاسم نے بتایا کہ والد پر قید کے دوران شدید ذہنی و جسمانی دباؤ رہا اور انہیں بھارتی سیاست میں دھکیلنے کی متعدد کوششیں کی گئیں۔ قاسم فکتوکی طرح ہزاروں کشمیری جعلی مقدمات میں بھارتی جیلوں میں قید ہیں۔ ڈاکٹر فکتو اپنی بینائی کا نصف سے زیادہ حصہ کھو چکے ہیں اور ریڑھ کی ہڈی کی L4ـL5 ڈسک کیلئے سرجری کی اشد ضرورت ہے۔ وہ ایروزِو ڈیوڈینائٹس، کرونک گیسٹرائٹس اور آنتوں کی مختلف بیماریوں کے لیے باقاعدگی سے ادویات استعمال کر رہے ہیں، مگر جیل حکام کی طرف سے کوئی توجہ نہیں دی گئی جس کے نتیجے میں ان کی صحت روز بہ روز خراب ہوتی جا رہی ہے۔
ڈاکٹر محمد قاسم کو جولائی 2001ء میں ٹاڈا (TADA) عدالت جموں نے بری کر دیا تھا، لیکن بھارتی حکومت نے انہیں ریلیف دینے کے بجائے پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت دوبارہ گرفتار کر کے سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا اور اعلیٰ عدالت نے انہیں دو دیگر افراد کے ساتھ عمر قید کی سزا سنائی۔ فروری 2008ء میں عمر قید کی لازمی مدت پوری ہونے کے بعد بھی ریاستی ریویو بورڈ نے رہائی کی سفارش کی لیکن سیاسی بنیادوں پر جانبدار حکومت نے سفارشات کو مسترد کر دیا۔ یہ مقبوضہ جموں و کشمیر کی تاریخ میں واحد کیس ہے جہاں عمر قید کے قیدی کے لیے ریویو بورڈ کی سفارش مسترد کی گئی۔ احمد بن قاسم نے کہا ہے کہ ”میں نے کبھی اپنے والد کو کھلی فضا میں نہیں دیکھا،” جس سے قیدی اور اس کے اہل خانہ کی کٹھن صورتحال واضح ہوتی ہے۔
ڈاکٹر فکتو گرفتار ہونے کے دوران تیسرے درجے کے تشدد، بشمول برقی جھٹکے، برداشت کر چکے ہیں۔ ان کی فلاح و بہبود پر تشویش جاری ہے اور خدشہ ہے کہ وہ بھارتی جیلوں میں دیگر آزادی پسند رہنماؤں کی طرح اذیت کا شکار ہو سکتے ہیں۔ سیاسی ماہرین کے مطابق ڈاکٹر فکتو کی قید انتقامی کارروائی اور نئی دہلی کی سیاسی رنجش کا مظہر ہے۔ حریت رہنماؤں نے ڈاکٹر قاسم کو صبر و استقامت کی مثال قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”انہیں متواتر بھارتی حکومتوں نے سیاسی انتقام کا شکار بنایا ہے۔” ان کی غیر متزلزل جدوجہد اور علمی خدمات کے اعتراف میں ڈاکٹر قاسم فکتو کو اکثر ”کشمیر کا نیلسن مینڈیلا” کہا جاتا ہے۔ حریت رہنماؤں نے کہا کہ بھارت کشمیری قیدیوں کو ان کے سیاسی نظریات کی بنیاد پر جیل میں رکھ کر جنیوا کنونشن کی کھلی خلاف ورزی کر رہا ہے، جو مودی کے انتہا پسندانہ ذہنیت کا حقیقی عکس ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
پاکستان کے معروف ریپر اور گلوکار طلحہ انجم نے نئی دہلی میں تعلیمی نظام کے خلاف احتجاج کرنے والے بھارتی طلبا سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے ان کے حوصلے اور ثابت قدمی کو سراہا ہے۔ انہوں نے طلبا پر ہونے والی پولیس کارروائی کے بعد ایک پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے غصے اور احساسات کو بخوبی سمجھتے ہیں۔
طلحہ انجم نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری پر بھارتی طلبا کے احتجاج کی ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں مظاہرین پر آنسو گیس اور لاٹھی چارج ہوتے دکھایا گیا۔ ویڈیو کے ساتھ انہوں نے لکھا کہ ’بھارت کے طلبا مظاہرین کے نام، مجھے آپ کی ثابت قدمی کا بے حد احترام ہے، میں آپ کی مایوسی اور غصے کو سمجھ سکتا ہوں، اور یہ بھی جانتا ہوں کہ آپ کے ساتھ کیا کیا جا رہا ہے، مضبوط رہیں۔‘
طلحہ انجم پاکستان کے سب سے زیادہ سنے جانے والے موسیقاروں میں شمار ہوتے ہیں اور اسٹریمنگ پلیٹ فارم اسپاٹیفائی پر ان کی مقبولیت کئی ریکارڈ قائم کر چکی ہے۔ بھارت میں بھی ان کے مداحوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ گزشتہ برس نیپال میں ایک کنسرٹ کے دوران ایک مداح کی جانب سے بھارتی پرچم پیش کیے جانے پر وہ خبروں میں آئے تھے، بعد ازاں انہوں نے پاکستان میں اس معاملے پر وضاحت بھی کی تھی۔
سماجی اور انسانی مسائل پر کھل کر مؤقف اختیار کرنے والے طلحہ انجم اس سے قبل بھی کئی معاملات پر آواز بلند کر چکے ہیں۔ اپریل میں صومالیہ کے ساحل کے قریب قزاقوں کے قبضے میں جانے والے پاکستانی ملاحوں کی رہائی کے لیے انہوں نے حکومت سے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا تھا اور وزارتِ خارجہ سے متاثرہ خاندانوں کے لیے مستقل ہیلپ لائن قائم کرنے کی اپیل بھی کی تھی۔
دوسری جانب بھارت میں تعلیمی امتحانات کے مبینہ پیپر لیکس کے خلاف احتجاج کا سلسلہ گزشتہ ماہ سے جاری ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے پلیٹ فارم سے ہونے والے اس دھرنے میں طلبہ وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے اور تعلیمی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ حالیہ دنوں پارلیمنٹ کی جانب مارچ کی کوشش کے دوران پولیس نے مظاہرین کو روکنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔