کراچی: پیسے مانگنے پر پولیس افسر کا ہوٹل ملازم پر بدترین تشدد، ویڈیو وائرل
اشاعت کی تاریخ: 8th, February 2026 GMT
کراچی: شہر قائد کے علاقے ملیر میں قانون کے محافظ نے قانون ہاتھ میں لے لیا۔ ناشتے کے پیسے طلب کرنے پر ایک پولیس افسر نے ہوٹل ملازم کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا۔پولیس ذرائع کے مطابق واقعہ ملیر کے ایک مقامی ہوٹل پر پیش آیا جہاں ایک پولیس افسر نے ناشتہ کیا۔ جب ہوٹل کے کیش کاؤنٹر پر بیٹھے ملازم نے ناشتے کے پیسے مانگے تو پولیس افسر آپے سے باہر ہو گیا اور غصے میں چیخ و پکار شروع کر دی۔سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ پولیس افسر کیش کاؤنٹر پر بیٹھے شخص کے ساتھ انتہائی غیر اخلاقی زبان استعمال کر رہا ہے۔ افسر نے سرِ عام ملازم پر تشدد کیا اور اسے حوالات میں بند کرنے کی دھمکیاں دیں۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج منظرِ عام پر آنے کے بعد تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں اور ملوث افسر کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: پولیس افسر
پڑھیں:
کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
کراچی:شہر قائد میں گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ والد کی مدعیت میں درج کرلیا۔
اس حوالے سے مدعی مقدمہ جاوید اقبال نے پولیس کو بیان دیا ہے کہ بہادر گوٹھ میں کارپٹ کی دکان پر کام کرتا ہوں جبکہ اہلیہ گھریلو ملازمہ ہے۔
23 جولائی کو میں اور اہلیہ صبح 9 بجے اپنے اپنے کام پر چلے گئے جبکہ گھر پر 18 سالہ بیٹی اکیلی تھی۔
مدعی کے مطابق صبح سوا نو بجے 2 لڑکے ہمارے گھر میں زبردستی داخل ہوئے جو کہ شلوار قمیض پہنے ہوئے تھے جبکہ سامنے آنے پر میری بیٹی انھیں شناخت کر سکتی ہے۔
مدعی کے مطابق دونوں نے میری بیٹی کو پکڑا اور کمرے میں لیجا کر اس کے ساتھ زیادتی کی اور موقع سے فرار ہوگئے۔
واقعے کے بعد میری بیٹی نے بذریعہ فون مجھے اطلاع دی جس کے بعد میں اور میری اہلیہ گھر پہنچ گئے۔
واقعے کی مدد گار 15 پولیس کو اطلاع دی جو موقع پر پہنچ گئی، مدعی کے مطابق میرا دعویٰ 2 نامعلوم صورت شناس لڑکوں پر میرے گھر میں گھس کر بیٹی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کا ہے لہذا قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ نمبر 356 سال 2026 بجرم دفعہ 376 چونتیس کے تحت درج کر کے مزید تفتیش کے لیے انویسٹی گیشن پولیس کے حوالے کر دیا ۔