جماعت اسلامی کی پریس کانفرنس کے دوران ایم پی اے محمد فاروق سمیت متعدد افراد گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 8th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی: شہر قائد میں جماعت اسلامی کی جانب سے کی جانے والی پریس کانفرنس کے دوران پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے رکن سندھ اسمبلی محمد فاروق سمیت متعدد افراد کو حراست میں لے لیا۔
ذرائع کے مطابق جماعت اسلامی کے رہنما اور کارکنان سندھ اسمبلی کے قریب پریس کانفرنس کے لیے جمع ہوئے تھے، جہاں انتظامیہ نے سیکیورٹی اور دفعہ 144 کی خلاف ورزی کا مؤقف اختیار کرتے ہوئے کارروائی کی۔ پولیس نے موقع پر موجود محمد فاروق اور دیگر کارکنان کو تحویل میں لے کر قریبی تھانے منتقل کر دیا۔
عینی شاہدین کے مطابق اس موقع پر پولیس اور کارکنان کے درمیان تلخ کلامی بھی ہوئی جبکہ علاقے میں اضافی نفری تعینات کر کے سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی۔
جماعت اسلامی کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ وہ عوامی مسائل اور 14 فروری کو سندھ اسمبلی کے باہر دیے جانے والے دھرنے کے حوالے سے میڈیا کو آگاہ کرنے آئے تھے، تاہم انتظامیہ نے انہیں پریس کانفرنس کی اجازت نہیں دی اور گرفتاریاں کر لیں۔
دوسری جانب پولیس حکام کا مؤقف ہے کہ غیر قانونی اجتماع اور امن و امان کی صورتحال کے خدشے کے پیش نظر کارروائی عمل میں لائی گئی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جماعت اسلامی پریس کانفرنس
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔