ورلڈ بینک کا پاکستان کے 10 سالہ ترقیاتی پروگرام کے لیے حمایت کا اعادہ
اشاعت کی تاریخ: 8th, February 2026 GMT
وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے سعودی عرب میں ورلڈ بینک کی مینیجنگ ڈائریکٹر اینا بجرڈے سے ملاقات کی، جس میں پاکستان کے 10 سالہ ترقیاتی پروگرام پر بات چیت ہوئی۔
مزید پڑھیں: ورلڈ بینک کے صدر کا ہری پور کی تحصیل خان پور میں جولیاں اسٹوپہ کا دورہ
یہ ملاقات سالانہ ’الولا کانفرنس برائے ابھرتی ہوئی معیشتیں‘ کے موقع پر ہوئی، جہاں ابھرتی ہوئی معیشتوں کو درپیش اہم معاشی مسائل اور مواقع پر تبادلہ خیال کیا جاتا ہے۔
ملاقات میں کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک اور ترقیاتی ترجیحات کے علاوہ توانائی، تعلیم، صحت، موسمیاتی تبدیلیوں اور مالیاتی اصلاحات پر بھی بات ہوئی۔
ورلڈ بینک کی مینیجنگ ڈائریکٹر اینا بجرڈے نے پاکستان کے 20 ارب ڈالر کے 10 سالہ ترقیاتی پروگرام کے لیے بینک کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا اور اس بات پر زور دیا کہ پروگرام کے ترقیاتی اثرات کو زیادہ سے زیادہ کرنے کے لیے موثر عمل درآمد انتہائی اہم ہے۔
اس موقع پر وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے ورلڈ بینک کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا اور متعلقہ وفاقی وزارتوں کے ذریعے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
مزید پڑھیں: ورلڈ بینک نے پاکستان کے معاشی استحکام کے لیے 70 کروڑ ڈالر کی منظوری دے دی
انہوں نے کہاکہ بہتر کوآرڈینیشن اور بروقت عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے صوبائی حکومتوں کا کردار اور تعاون بھی ناگزیر ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews پاکستان ترقیاتی پروگرام حمایت کا اعادہ ورلڈ بینک وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاکستان ترقیاتی پروگرام حمایت کا اعادہ ورلڈ بینک وی نیوز ترقیاتی پروگرام پاکستان کے ورلڈ بینک کا اعادہ کے لیے
پڑھیں:
آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے آزاد جموں و کشمیر میں ترقیاتی، تعلیمی، صحت، توانائی، مواصلات اور بنیادی ڈھانچے کے مختلف منصوبوں کے لیے 54 ارب 17 کروڑ 37 لاکھ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق جاری ترقیاتی منصوبوں کے لیے 43 ارب 10 کروڑ 54 لاکھ روپے جبکہ نئے منصوبوں کے لیے 3 ارب 94 کروڑ 45 لاکھ روپے سے زائد فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ آزاد کشمیر بلاک ایلوکیشن کے لیے 33 ارب روپے اور وزیراعظم کے خصوصی ترقیاتی پیکج کے لیے 5 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پی ایس ڈی پی 2026-27 میں تعلیمی شعبے کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ آزاد کشمیر کے چار اضلاع میں دانش سکولوں کے قیام اور توسیع کے منصوبوں کے لیے 6 ارب 27 کروڑ روپے سے زائد فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔ ضلع باغ کے ہاڑی گہل میں دانش سکول کے لیے 2 ارب 14 کروڑ روپے، بھمبر میں 60 کروڑ روپے، وادی نیلم کے شاردا میں ایک ارب 55 کروڑ روپے جبکہ حویلی کہوٹہ میں دانش سکول کے قیام کے لیے 2 ارب 9 کروڑ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
توانائی کے شعبے میں جگراں-II ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے ایک ارب 14 کروڑ 94 لاکھ روپے، شاردا-II منصوبے کے لیے 10 کروڑ روپے اور نگدر ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے 30 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔ دواریاں ہائیڈرو پاور منصوبہ بھی ترقیاتی پروگرام میں شامل ہے۔
بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کمپلیکس، رٹھوعہ ہریام پل اور نوسیری لیسوا بائی پاس روڈ سمیت متعدد منصوبوں کے لیے فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
صحت کے شعبے میں میرپور، مظفرآباد اور راولاکوٹ کے میڈیکل کالجوں کے انفراسٹرکچر اور سہولیات کی بہتری کے لیے کروڑوں روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ میرپور واٹر سپلائی و سیوریج اسکیم، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ اور ایل او سی متاثرین کی بحالی کے منصوبوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
دستاویزات کے مطابق آزاد کشمیر میں لینڈ ریکارڈ کمپیوٹرائزیشن، آسان خدمت مرکز مظفرآباد، کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کی استعداد کار میں اضافے اور گورنمنٹ کالجز آف ٹیکنالوجی کے قیام کے منصوبوں کے لیے بھی فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔
حکومت نے آئندہ مالی سال کے ترقیاتی پروگرام میں تعلیم، صحت، توانائی، سڑکوں کے انفراسٹرکچر اور شہری سہولیات کے منصوبوں کو خصوصی ترجیح دی ہے۔