انتخابی دھاندلی پر پریس کانفرنس ،جماعت اسلامی کراچی کے قائم مقام امیر گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 8th, February 2026 GMT
سٹی 42: پولیس نے جماعت اسلامی کراچی کے قائم مقام امیر مسلم پرویز اور رکن سندھ اسمبلی محمد فاروق سمیت دیگر متعدد افراد کو گرفتار کر لیا۔
امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر نے الیکشن کمیشن سندھ کے دفتر کے باہر رہنماؤں و کارکنان کی گرفتاری پر ویڈیو بیان میں کہا کہ 8 فروری انتخابی دھاندلی کے دو سال مکمل ہونے پر عوامی پریس کانفرنس کرنا چاہتے تھے لیکن اس دوران ذمہ داران کو گرفتار کیا گیا۔
سونے کی قیمت نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی
منعم ظفر نے کہا کہ جماعت اسلامی کے ذمہ داران کی گرفتاری پیپلز پارٹی کی فسطائیت کا مظہر ہے، کارکنان پُرامن رہیں اور ادارہ نور حق پہنچیں۔
دوسری جانب، گرفتار ہونے والے رکن سندھ اسمبلی محمد فاروق کا ویڈیو بیان زیرِ گردش ہے جس میں انہوں نے کہا کہ ہم پُرامن جمہوری اور قانونی طریقے سے پریس کانفرنس کرنے جا رہے تھے کہ پولیس نے گرفتار کر لیا، ہم اپنے جمہوری حق سے پیچھے ہٹنے والے نہیں۔
13 سے 15 فروری کے درمیان زلزلہ خیز سرگرمیوں کا خدشہ
ادھر، پولیس نے بتایا کہ ضلع جنوبی میں دفعہ 144 نافذ ہے اور 4 سے زائد افراد کے جمع ہونے پر پابندی ہے، جو بھی خلاف ورزی کرے گا قانون حرکت میں آئے گا۔
پولیس نے کہا کہ جماعت اسلامی کے افراد الیکشن کمیشن کے سامنے احتجاج کیلیے جمع ہوئے تھے، دفعہ 144 کی خلاف ورزی پر رہنماؤں اور کارکنوں کو حراست میں لیا، تاحال مقدمہ درج نہیں کیا گیا۔
پاک بحریہ کے سربراہ ایڈمرل نوید اشرف کا ملائیشیا کا سرکاری دورہ
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: جماعت اسلامی کراچی گرفتار جماعت اسلامی کراچی گرفتار جماعت اسلامی گرفتار گرفتار جماعت اسلامی جماعت اسلامی پولیس نے کہا کہ
پڑھیں:
مردان: گھر سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد
مردان: خیبرپختونخوا کے ضلع مردان کے علاقے شیخ ملتون سیکٹر بی میں ایک گھر سے خاتون سمیت تین افراد کی لاشیں برآمد ہونے کا واقعہ سامنے آیا ہے۔
ریسکیو 1122 کے مطابق اطلاع موصول ہوتے ہی میڈیکل ٹیم فوری طور پر موقع پر پہنچ گئی اور پولیس کی موجودگی میں کارروائی کا آغاز کیا گیا۔
ریسکیو حکام کے مطابق تینوں لاشوں کو قانونی کارروائی اور ضروری معائنے کے لیے مردان میڈیکل کمپلیکس (ایم ایم سی) اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق جاں بحق افراد کی شناخت جلال، زوجہ جلال اور مصطفیٰ کے ناموں سے ہوئی ہے۔
واقعے کی وجوہات فوری طور پر سامنے نہیں آسکیں، جبکہ پولیس نے معاملے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ پوسٹ مارٹم اور تفتیشی عمل مکمل ہونے کے بعد واقعے کی اصل نوعیت واضح ہو سکے گی۔
پولیس اور متعلقہ ادارے مختلف پہلوؤں سے واقعے کا جائزہ لے رہے ہیں، جبکہ اہلِ علاقہ میں واقعے کے بعد تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔