فافن کا پارلیمانی کمیٹیوں کو بااختیار بنانے کیلئے قانون سازی کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 8th, February 2026 GMT
فافن کا پارلیمانی کمیٹیوں کو بااختیار بنانے کیلئے قانون سازی کا مطالبہ WhatsAppFacebookTwitter 0 8 February, 2026 سب نیوز
اسلام آباد(آئی پی ایس )فافن نے پارلیمانی کمیٹیوں کو بااختیار بنانے کیلئے آرٹیکل 66کے تحت فوری قانون سازی کا مطالبہ کر دیا۔ وفاقی دارالحکومت سے جاری فافن کی پالیسی بریف کے مطابق واضح قانونی اختیارات نہ ہونے کے باعث پارلیمانی کمیٹیوں کی نگرانی کمزور اور غیر موثر ہے، فافن نے پارلیمانی کمیٹیوں کو طلبی اور دستاویزات طلب کرنے کے موثر اختیارات دینے کی سفارش کی ہے۔
بریفنگ میں کہا گیا کہ کمیٹی ہدایات پر عمل نہ کرنے والوں کیخلاف قانونی کارروائی اور سزائوں کا واضح نظام ہونا چاہیے، دفاع، سکیورٹی اور خارجہ امور کے نام پر معلومات چھپانے کے وسیع اختیارات محدود کرنے کی تجویز دیتے ہیں۔فافن کا مزید کہنا تھا کہ رازداری کے نام پر معلومات روکنے کیلئے تحریری جواز اور واضح معیار مقرر ہونا چاہیے، آرٹیکل 66 اور پارلیمانی قواعد کے درمیان ابہام دور کرے، کمیٹی ہدایات پر عدم عملدرآمد کے تمام واقعات ایوان میں باقاعدگی سے رپورٹ کیے جائیں، موثر پارلیمانی نگرانی جمہوری نظام کی مضبوطی اور احتساب کیلئے ناگزیر ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرعباس عراقچی کی قطری وزیر اعظم سے ملاقات، کشیدگی میں کمی پر تبادلہ خیال عباس عراقچی کی قطری وزیر اعظم سے ملاقات، کشیدگی میں کمی پر تبادلہ خیال راولپنڈی میں سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر دفعہ 144نافذ ملک احتجاجی سیاست کا متحمل نہیں ہوسکتا،پورے ملک نے پی ٹی آئی کی پہیہ جام ہڑتال کی کال مسترد کردی، مراد علی شاہ اسلام آباد حملے کے ذمہ داروں کو نشانِ عبرت بنایا جائے، مفتی تقی عثمانی کا مطالبہ عطا تارڑ کا بیان غیر ذمہ دارانہ قرار، بیرسٹر گوہر نے معافی کا مطالبہ کر دیا ملک کے مختلف حصوں میں 10فروری تک بارش کی پیشگوئیCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: پارلیمانی کمیٹیوں کو کا مطالبہ
پڑھیں:
میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔
منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔
میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔
یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔
برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔
مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں
مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔