Islam Times:
2026-07-24@00:57:11 GMT

سانحہ مسجد خدیجہ الکبریٰ کیخلاف کوئٹہ میں احتجاجی مظاہرہ

اشاعت کی تاریخ: 8th, February 2026 GMT

‍‍‍‍‍‍

اسلام ٹائمز: علمدار روڈ پر شہداء چوک کے مقام پر ہونیوالے احتجاجی مظاہرے میں شہر کے جید علماء کرام کیساتھ بزرگوں، خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد نے شرکت کرتے ہوئے سانحہ سے متاثر ہونیوالے لواحقین سے یکجہتی اور تعزیت کا اظہار کیا۔ مقررین نے کہا کہ حکومت اور ذمہ داران کیجانب سے فقط مذمتی بیانات کافی نہیں ہیں۔ سانحہ کے اصل کرداروں کو بے نقاب کیا جائے۔ متعلقہ فائیلیںرپورٹ: اعجاز علی

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے جامعہ مسجد خدیجہ الکبریٰ میں نماز جمعہ پر ہونے والے وحشیانہ حملے کے خلاف بلوچستان کی مختلف سیاسی و مذہبی تنظیموں کی جانب سے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ علمدار روڈ پر شہداء چوک کے مقام پر ہونے والے احتجاجی مظاہرے میں شہر کے جید علماء کرام کے ساتھ بزرگوں، خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد نے شرکت کرتے ہوئے سانحہ سے متاثر ہونے والے لواحقین سے یکجہتی اور تعزیت کا اظہار کیا۔ اس موقع پر مجلس علماء مکتب اہلبیت کے علامہ سید ہاشم موسوی، جامعہ امام صادق علیہ السلام کوئٹہ کے پرنسپل علامہ محمد جمعہ اسدی، ایم ڈبلیو ایم کے رہنماء علامہ علی حسنین حسینی، شیعہ علماء کونسل کے علامہ دبیر حسین، قومی مرکز کے علامہ آصف حسین حسینی، ایم ڈبلیو ایم کے علامہ ولایت حسین جعفری، علامہ رحمت رضوانی اور علماء و عمائدین نے خطاب کیا۔

مقررین نے کہا کہ حکومت اور ذمہ داران کی جانب سے فقط مذمتی بیانات کافی نہیں ہیں۔ سانحہ کے اصل کرداروں کو بے نقاب کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ احتجاج ہمارا حق ہے۔ کسی بھی ظلم پر خاموش نہیں بیٹھ سکتے ہیں۔ مقررین نے مطالبہ کیا کہ جلد از جلد واقعہ میں ملوث عناصر اور ان کے سہولت کاروں کو گرفتار کیا جائے۔ اس موقع پر دہشتگردی کے خلاف شدید نعرے بازی کی گئی۔ مظاہرین نے امام بارگاہ خدیجتہ الکبریٰ اسلام آباد میں ہونے والے حملے میں ملوث کرداروں کو کیفر کردار تک پہنچانے کا مطالبہ کیا۔ قارئین محترم آپ اس ویڈیو سمیت بہت سی دیگر اہم ویڈیوز کو اسلام ٹائمز کے یوٹیوب چینل کے درج ذیل لنک پر بھی دیکھ اور سن سکتے ہیں۔ (ادارہ)
https://www.

youtube.com/@ITNEWSUrduOfficial

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: ہونے والے کے علامہ

پڑھیں:

برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ

برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔

ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔

برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔

عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔

خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔

ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔

I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:

- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements

End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq

— Kim Johnson (@KimJohnsonMP) July 23, 2026

فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔

انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔

خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔

واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار