صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے سابق اسپیکر قومی اسمبلی نے زور دیا کہ ملک کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے شفاف طرزِ حکمرانی، قانون کی بالادستی اور حقیقی جمہوری اقدار کا فروغ کے لیے تمام سیاسی جماعتوں اور عوامی قائدین کو اعتماد میں لینا ناگزیر ہے، بصورت دیگر عوامی بے چینی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور وفاقی وزیر ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے 8 فروری 2024ء کے عام انتخابات کو ملکی سیاسی تاریخ کا یومِ سیاہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ انتخابات بدترین دھاندلی، فراڈ اور جمہوریت پر شب خون کے مترادف تھے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ عوام کے ووٹ پر ڈاکہ ڈال کر اور غیر آئینی طریقوں سے نتائج تبدیل کرکے موجودہ حکمرانوں کو فارم 47 کے ذریعے زبردستی مسلط کیا گیا، جس کا سب سے زیادہ نقصان ملک، جمہوری نظام اور عوام کے اعتماد کو پہنچا۔ ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے اپنی رہائش گاہ پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جب عوام کی رائے کو نظر انداز کیا جاتا ہے تو اس کے اثرات ریاستی استحکام پر بھی مرتب ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق موجودہ حکومت تمام محاذوں پر مکمل طور پر ناکام نظر آتی ہے، دہشت گردی میں اضافہ ہو رہا ہے جبکہ معیشت تباہی کے دہانے پر کھڑی ہے، بے روزگاری غربت اور مہنگائی عروج پر ہے، جس سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ حکومتی مشینری کے مبینہ غیر قانونی اور غیر جمہوری ہتھکنڈوں کے باوجود یومِ سیاہ کے موقع پر عوام کے بھرپور ردِعمل نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ شہری کسی بھی صورت مسلط حکمرانوں کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں اور وہ اپنے ووٹ کے تقدس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ سابق اسپیکر ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے اسلام آباد میں پیش آنے والے دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت امن و امان برقرار رکھنے اور شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا بلوچستان میں حالات پہلے ہی خراب ہیں، کے پی کے بھی ہونے والی دہشتگردی سے عوام پریشان ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات اور واقعات حکومتی کارکردگی پر سنگین سوالات اٹھاتے ہیں۔ ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے کہا سندھ میں بیڈ گورننس کی وجہ سے ادارے کمزور اور مفلوج ہو چکے ہیں۔ کراچی میں گل پلازہ میں لگنے والی آگ کے واقعے کو بھی حکومتی اداروں کی مبینہ ناہلی، غفلت اور ناقص انتظامات کا نتیجہ قرار دیا اور مطالبہ کیا کہ شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے فوری اور موثر اقدامات کیے جائیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے کے لیے

پڑھیں:

مردان: گھر سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد

مردان: خیبرپختونخوا کے ضلع مردان کے علاقے شیخ ملتون سیکٹر بی میں ایک گھر سے خاتون سمیت تین افراد کی لاشیں برآمد ہونے کا واقعہ سامنے آیا ہے۔

ریسکیو 1122 کے مطابق اطلاع موصول ہوتے ہی میڈیکل ٹیم فوری طور پر موقع پر پہنچ گئی اور پولیس کی موجودگی میں کارروائی کا آغاز کیا گیا۔

ریسکیو حکام کے مطابق تینوں لاشوں کو قانونی کارروائی اور ضروری معائنے کے لیے مردان میڈیکل کمپلیکس (ایم ایم سی) اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق جاں بحق افراد کی شناخت جلال، زوجہ جلال اور مصطفیٰ کے ناموں سے ہوئی ہے۔

واقعے کی وجوہات فوری طور پر سامنے نہیں آسکیں، جبکہ پولیس نے معاملے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ پوسٹ مارٹم اور تفتیشی عمل مکمل ہونے کے بعد واقعے کی اصل نوعیت واضح ہو سکے گی۔

پولیس اور متعلقہ ادارے مختلف پہلوؤں سے واقعے کا جائزہ لے رہے ہیں، جبکہ اہلِ علاقہ میں واقعے کے بعد تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • بلاول کل چلاس جبکہ آصفہ بھٹو ہنزہ میں خطاب کریں گی
  • فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • کراچی میں گیس سلینڈر دھماکے سے تباہی، 1 جاں بحق
  • مردان: گھر سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس، معیشت کی مجموعی ترقی اور پالیسی اقدامات پر جائزہ
  • سوات: گھر کی چھت اور ہوٹل کا کمرہ گرنے سے بچیوں سمیت 3 افراد جاں بحق
  • سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں