دہشت گردی میں اضافہ ہو رہا ہے جبکہ معیشت تباہی کے دہانے پر کھڑی ہے، فہمیدہ مرزا
اشاعت کی تاریخ: 8th, February 2026 GMT
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے سابق اسپیکر قومی اسمبلی نے زور دیا کہ ملک کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے شفاف طرزِ حکمرانی، قانون کی بالادستی اور حقیقی جمہوری اقدار کا فروغ کے لیے تمام سیاسی جماعتوں اور عوامی قائدین کو اعتماد میں لینا ناگزیر ہے، بصورت دیگر عوامی بے چینی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور وفاقی وزیر ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے 8 فروری 2024ء کے عام انتخابات کو ملکی سیاسی تاریخ کا یومِ سیاہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ انتخابات بدترین دھاندلی، فراڈ اور جمہوریت پر شب خون کے مترادف تھے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ عوام کے ووٹ پر ڈاکہ ڈال کر اور غیر آئینی طریقوں سے نتائج تبدیل کرکے موجودہ حکمرانوں کو فارم 47 کے ذریعے زبردستی مسلط کیا گیا، جس کا سب سے زیادہ نقصان ملک، جمہوری نظام اور عوام کے اعتماد کو پہنچا۔ ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے اپنی رہائش گاہ پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جب عوام کی رائے کو نظر انداز کیا جاتا ہے تو اس کے اثرات ریاستی استحکام پر بھی مرتب ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق موجودہ حکومت تمام محاذوں پر مکمل طور پر ناکام نظر آتی ہے، دہشت گردی میں اضافہ ہو رہا ہے جبکہ معیشت تباہی کے دہانے پر کھڑی ہے، بے روزگاری غربت اور مہنگائی عروج پر ہے، جس سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومتی مشینری کے مبینہ غیر قانونی اور غیر جمہوری ہتھکنڈوں کے باوجود یومِ سیاہ کے موقع پر عوام کے بھرپور ردِعمل نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ شہری کسی بھی صورت مسلط حکمرانوں کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں اور وہ اپنے ووٹ کے تقدس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ سابق اسپیکر ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے اسلام آباد میں پیش آنے والے دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت امن و امان برقرار رکھنے اور شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا بلوچستان میں حالات پہلے ہی خراب ہیں، کے پی کے بھی ہونے والی دہشتگردی سے عوام پریشان ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات اور واقعات حکومتی کارکردگی پر سنگین سوالات اٹھاتے ہیں۔ ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے کہا سندھ میں بیڈ گورننس کی وجہ سے ادارے کمزور اور مفلوج ہو چکے ہیں۔ کراچی میں گل پلازہ میں لگنے والی آگ کے واقعے کو بھی حکومتی اداروں کی مبینہ ناہلی، غفلت اور ناقص انتظامات کا نتیجہ قرار دیا اور مطالبہ کیا کہ شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے فوری اور موثر اقدامات کیے جائیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے کے لیے
پڑھیں:
فیلڈ مارشل عاصم منیر کا بلوچستان میں پائیدار امن کے عزم کا اعادہ
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا ہے کہ سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے عوام کی بھرپور حمایت سے بلوچستان میں دیرپا امن کے قیام کے لیے پرعزم ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ دہشت گردی اور اس کے سہولت کاروں کے خلاف کارروائیاں اپنے منطقی انجام تک جاری رہیں گی۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق 20ویں نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے شرکاء نے جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) کا دورہ کیا، جہاں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے قومی اتحاد، استحکام اور ثابت قدمی کی اہمیت پر زور دیا۔
فیلڈ مارشل نے کہا کہ بلوچستان پاکستان کا فخر ہے اور یہ صوبہ قدرتی وسائل سے مالا مال ہے۔ ان کے مطابق بلوچستان کے محب وطن، باصلاحیت، باہمت اور ثابت قدم عوام ہی اس صوبے کا سب سے قیمتی سرمایہ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے بلوچستان میں جاری ترقیاتی منصوبوں کا مقصد صوبے کی سماجی اور معاشی ترقی کو یقینی بنانا، عوام کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانا اور خوشحالی کے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل نے کہا کہ سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے عوام کے تعاون سے بلوچستان میں امن و امان کے قیام کے لیے بھرپور کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں اور ان کی یہی مشترکہ کاوشیں صوبے میں پائیدار امن کی بنیاد بنیں گی۔
انہوں نے اس موقع پر کہا کہ فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے خلاف ٹارگٹڈ آپریشنز پوری قوت کے ساتھ جاری رہیں گے اور یہ کارروائیاں دہشت گردی اور اس کے سہولت کاروں کے مکمل خاتمے تک بلا تعطل جاری رہیں گی۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان کی مسلح افواج عوام کے اتحاد، عزم اور ثابت قدمی کی بدولت ہر قسم کے مذموم عزائم کو ناکام بنائیں گی اور ملکی سلامتی، خودمختاری اور استحکام کے تحفظ کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری کرتی رہیں گی۔