انڈر 19 ورلڈ کپ کی بہترین ٹیم میں پاکستانی فاسٹ بولر شامل
اشاعت کی تاریخ: 8th, February 2026 GMT
انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے مینز انڈر 19 کرکٹ ورلڈ کپ 2026 کے اختتام پر ٹورنامنٹ کی بہترین ٹیم (ٹیم آف دی ٹورنامنٹ) کا اعلان کر دیا ہے، جس میں پاکستان کے نوجوان فاسٹ بولر علی رضا نے بھی جگہ بنا لی ہے۔
یہ ٹیم اُن 12 باصلاحیت کھلاڑیوں پر مشتمل ہے جنہوں نے ورلڈ کپ کے دوران اپنی شاندار کارکردگی سے سب کو متاثر کیا۔ ٹیم کی قیادت انگلینڈ کے کپتان اور وکٹ کیپر تھامس ریو کو سونپی گئی ہے، جبکہ ان کے ہم وطن کھلاڑی مینّی لمسڈن اور بین مائس بھی ٹیم کا حصہ ہیں۔
ٹورنامنٹ کے چیمپئن بھارت کے تین کھلاڑیوں کو بھی اس اعزازی ٹیم میں شامل کیا گیا ہے، جن میں نوجوان اسٹار ویبھاو سوریا وشنّی نمایاں ہیں، جنہوں نے فائنل میں 80 گیندوں پر شاندار 175 رنز کی اننگز کھیل کر سب کی توجہ حاصل کی۔
پاکستان کی نمائندگی صرف علی رضا نے کی، جو ٹیم آف دی ٹورنامنٹ میں شامل واحد پاکستانی کھلاڑی ہیں۔ علی رضا نے پورے ایونٹ میں 13 وکٹیں حاصل کیں اور ان کی اوسط 13.
ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا انتخاب ایک تجربہ کار پینل نے کیا، جس میں شامل کھلاڑیوں کے نام یہ ہیں:ویبھاو سوریا وشنّی، ویران چامودیتھا، فیصل خان شینوزادہ، تھامس ریو (کپتان/وکٹ کیپر)، اولیور پیک، بین مائس، کانشک چوہان، نورستانی عمرزئی، ویٹل لاوز، علی رضا، مینّی لمسڈن اور ہینل پٹیل۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: علی رضا
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک