Daily Mumtaz:
2026-07-24@02:51:14 GMT

غزہ کی تعمیرِ نو یا خاموش منتقلی؟

اشاعت کی تاریخ: 8th, February 2026 GMT

غزہ کی تعمیرِ نو یا خاموش منتقلی؟

غزہ کی تعمیرِ نو بظاہر امید کی علامت دکھائی دیتی ہے، مگر ماہرین کے مطابق یہ عمل فلسطینیوں کی بحالی کے بجائے ایک نئی قسم کے دباؤ اور کنٹرول کا ذریعہ بنتا جا رہا ہے۔ اسرائیل پر الزام ہے کہ وہ تعمیرِ نو کو ایک ’’خاموش ہتھیار‘‘ کے طور پر استعمال کر رہا ہے، جس کے ذریعے غزہ کی روزمرہ زندگی، سیاست اور آبادیاتی مستقبل کو کنٹرول کیا جا رہا ہے۔
عالمی اقتصادی فورم ڈیووس میں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور جیریڈ کشنر نے ’’نئے غزہ‘‘ کا خواب پیش کیا، جہاں فلک بوس عمارتیں، سیاحتی مراکز اور معاشی ترقی دکھائی گئی۔ لیکن زمینی حقیقت اس کے برعکس ہے۔ غزہ اس وقت تقریباً 6 کروڑ 10 لاکھ ٹن ملبے تلے دبا ہوا ہے اور ایک اینٹ تک رکھنے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔
اقوامِ متحدہ کے مطابق اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں غزہ کا 92 فیصد حصہ تباہ ہو چکا ہے اور تعمیرِ نو پر کم از کم 70 ارب ڈالر لاگت آئے گی۔ مگر سیمنٹ، اسٹیل اور دیگر بنیادی تعمیراتی سامان کی آمد بدستور روکی ہوئی ہے۔
تجزیہ کار ایہاب جبرین کا کہنا ہے کہ تعمیرِ نو دراصل جنگ کے بعد کا مرحلہ نہیں بلکہ جنگ کا تسلسل ہے، جو بیوروکریسی اور معیشت کے ذریعے لڑی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق اسرائیل تعمیراتی مواد کو ’’سیاسی دباؤ‘‘، ’’سیکیورٹی کنٹرول‘‘ اور ’’خاموشی کے بدلے سہولت‘‘ کے آلے کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ تعمیرِ نو کو اس انداز میں مشروط کیا جا رہا ہے کہ غزہ مکمل طور پر اسرائیلی منظوری کا محتاج بن جائے۔ کون حکومت کرے گا، کس کو امداد ملے گی اور کہاں تعمیر ہو گی—یہ سب فیصلے تعمیراتی اجازت ناموں سے جوڑے جا رہے ہیں۔
فلسطینی ماہرین نے بیرونی اور بالا سے مسلط منصوبوں کو مسترد کرتے ہوئے مقامی سطح پر تیار کیے گئے ’’فینکس پلان‘‘ کی حمایت کی ہے، جس میں ملبے کو دوبارہ قابلِ استعمال بنا کر زمین اور زندگی کی بحالی پر زور دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ غزہ کی تعمیرِ نو عوام کے بغیر ممکن نہیں۔
تاہم سب سے بڑی رکاوٹ اسرائیل کی ’’دوہری استعمال‘‘ کی فہرست ہے، جس کے تحت سیمنٹ سے لے کر پانی کے فلٹر اور حتیٰ کہ کینسر کی ادویات تک کو روکا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ اب سیکیورٹی کا نہیں بلکہ حکمرانی کا طریقہ بن چکا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ طویل تاخیر، پیچیدہ اجازت نامے اور غیر یقینی حالات دراصل وقت کو ایک ہتھیار میں بدل رہے ہیں۔ ان کے مطابق اگر بمباری لوگوں کو بے گھر نہ کر سکی تو طویل انتظار اور ناامیدی شاید یہ کام کر دکھائے۔
یوں غزہ کی تعمیرِ نو ایک انسانی ضرورت کے بجائے سیاسی سودے بازی، خاموش دباؤ اور مستقبل کی انجینئرنگ کی علامت بنتی جا رہی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: غزہ کی تعمیر جا رہا ہے کے مطابق

پڑھیں:

ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر

ایس یو سی کے مرکزی رہنماء نے رہبر معظم آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ ڈیرہ اسماعیل خان جامعۃ النجف کوٹلی امام حسین میں گرمیوں کی چھٹیوں سے استفادہ کرتے ملت جعفریہ کے بچوں کے لیے پرنسپل جامعتہ النجف علامہ محمد رمضان توقیر کی نگرانی بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں ڈیرہ شہر اور مضافات سے کثیر تعداد میں بچوں نے شرکت کی۔اس دین شناسی شارٹ کورس میں بچوں کو قرآن وحدیث،وضو،صوم ،صلوات اور بنیادی فقہی احکام سے روشناس کرایا گیا۔ جس میں جامعتہ النجف کے دیگر مدرسین محنت و لگن کے ساتھ بچوں کی رہنمائی کرتے رہیں۔ دین شناسی شارٹ کورس کے آخر میں مدرسین نے اپنی محنت اور طلاب کرام کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے بچوں سے امتحان لیا۔اساتذہ کی محنت اور بچوں کی محنت قابلِ تعریف تھی۔تقسیم تقریب انعامات کا اہتمام کیا گیا۔

پرنسپل جامعہ علامہ محمد رمضان توقیر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اساتذہ کی محنت اور طلاب کرام کی امتحانات میں تسلی بخش نتائج کو سراہتے ہوئے کہا کہ انشاء اللہ اس طرح دین مبین کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھیں گے اور ملت کے جوانوں کی دینی تعلیم و تربیت کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہیں گے۔ اس موقع پر رہبرِ انقلاب کی دینی و انقلابی خدمات اور ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اسی قرآن و سنت کی آگاہی اور خدا تعالیٰ کی وحدانیت کے پختہ عقیدہ کی وجہ سے ایران کی حکومت اور عوام شیطان بزرگ کے خلاف استقامت اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے دن بدن حاوی ہوتی جا رہا ہے، جو قابلِ تعریف ہے۔ لیکن کچھ ناقدین آج بھی ایران کی استقامت اور کامیابیوں سے پریشان ہیں اور شیطان بزرگ کی خوشنودی کے لیے ایران پر تنقید کر رہے ہیں کہ ایران عرب ممالک پر حملہ کر رہا ہے۔

علامہ محمد رمضان توقیر نے کہا کہ ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے۔ اس موقع پر نئے رہبر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا گیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ تقریب تقسیم انعامات میں مدرسین اور معززین علاقہ نے شرکت کی اور امتحان میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلاب کرام کو انعامات سے نوازا گیا اور انکی حوصلہ افزائی کی گئی۔ امتِ مسلمہ کے اتحاد، ایران کی فتح و نصرت، پاکستان کی سلامتی اور شہدائے اسلام، بالخصوص رہبر شہید کے لئے دعا کی گئی۔

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
  • ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف