بنگلہ دیش میں سیاسی بنیادوں پر قائم 23 ہزار سے زائد مقدمات واپس لینے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 8th, February 2026 GMT
بنگلہ دیش کی عبوری حکومت نے سابقہ عوامی لیگ حکومت کے دور میں قائم کیے گئے سیاسی نوعیت کے ہزاروں مقدمات واپس لینے کی سفارش کر دی ہے، جس سے اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں اور کارکنان سمیت لاکھوں افراد کو ریلیف ملنے کی توقع ہے۔
یہ بھی پڑھیں:بنگلہ دیش عام انتخابات: فوج اور سیکیورٹی اداروں کی 14 روز کے لیے تعیناتی
بنگلہ دیش کی وزارتِ قانون نے اعلان کیا ہے کہ عبوری حکومت نے سیاسی بنیادوں پر قائم 23 ہزار 865 مقدمات واپس لینے کی سفارش کی ہے۔ وزارت کے مطابق یہ مقدمات سابقہ عوامی لیگ حکومت کے دور میں دائر کیے گئے تھے اور ان سے تقریباً 5 لاکھ افراد متاثر ہوئے۔
وزارتِ قانون کا کہنا ہے کہ یہ مقدمات زیادہ تر اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں اور کارکنان کے خلاف قائم کیے گئے تھے، جن میں بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی)، جماعتِ اسلامی، حفاظتِ اسلام اور گانو ادھیکار پریشد شامل ہیں۔ یہ مقدمات جولائی میں ہونے والی عوامی تحریک سے قبل کے عرصے میں درج کیے گئے تھے، جس کے نتیجے میں سابق حکومت کا خاتمہ ہوا۔
حکام کے مطابق متاثرہ سیاسی جماعتوں کی جانب سے درخواستیں جمع کرائی گئی تھیں، جن کے بعد ایک بین الوزارتی کمیٹی نے 39 اجلاسوں میں مقدمات کا جائزہ لیا۔ ان اجلاسوں کے دوران یہ طے کیا گیا کہ کون سے مقدمات سیاسی نوعیت کے ہیں اور کنہیں واپس لیا جا سکتا ہے، تاہم جانچ پڑتال کا عمل تاحال جاری ہے۔
وزارتِ قانون کے مطابق ستمبر 2024 میں عبوری حکومت نے ضلعی سطح پر کمیٹیاں قائم کی تھیں، جن کی سربراہی ڈپٹی کمشنرز کر رہے ہیں، جبکہ ایک بین الوزارتی کمیٹی قانون کے مشیر آصف نذرل کی قیادت میں کام کر رہی ہے۔ ان کمیٹیوں کو 6 جنوری 2009 سے 5 اگست 2024 تک قائم کیے گئے مقدمات کا جائزہ لینے کی ذمہ داری دی گئی تھی۔
یہ بھی پڑھیں:بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کی جانب سے انتخابات سے متعلق ہلاکتوں کی رپورٹ بےبنیاد قرار
حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد قانونی نظام کے مبینہ سیاسی استعمال کا ازالہ کرنا اور آئندہ عام انتخابات سے قبل عوام کا عدالتی نظام پر اعتماد بحال کرنا ہے۔ حکومت نے عندیہ دیا ہے کہ مزید مقدمات بھی واپس لینے کی سفارشات سامنے آ سکتی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بنگلہ دیش جماعت اسلامی حسینہ واجد سیاسی مقدمات عوامی لیگ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بنگلہ دیش جماعت اسلامی حسینہ واجد سیاسی مقدمات عوامی لیگ
پڑھیں:
پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے لاہور سمیت صوبہ بھر میں شہریوں کو دی جانے والی مفت سفری سہولت کے مستقبل سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور شروع کر دیا ۔ ذرائع کے مطابق مفت سفری سہولت کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے مشروط کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے وزیراعلی پنجاب کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ اگر پیٹرول کی قیمتیں 300روپے فی لیٹر تک پہنچ جاتی ہیں تو مفت سفری سہولت فوری طور پر ختم کیے جانے کا امکان ہے، اس حوالے سے آئندہ ہفتے حتمی فیصلہ متوقع ہے۔ لاہور سمیت صوبہ بھر میں دی گئی مفت سفری سہولت میں مزید توسیع نہ کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے،اس کے ساتھ یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مفت سفر کی سہولت جلد ختم کر دی جائے۔(جاری ہے)
رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران صوبہ بھر میں 7کروڑ سے زائد مسافروں نے اس سہولت سے فائدہ اٹھایا۔یہ مفت سفری سہولت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث متعارف کروائی گئی تھی اور اس کا اطلاق مختلف پبلک ٹرانسپورٹ سروسز پر کیا گیا تھا جن میں میٹرو بس، اورنج لائن ٹرین، الیکٹرو بس ،سپیڈو بس سروس سروس شامل تھیں۔
حکام کے مطابق موجودہ معاشی صورتحال اور ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھا کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پالیسی کا دوبارہ جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ حتمی فیصلہ اعلی سطحی مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔