کالج آف فزیشن اینڈ سرجنز پاکستان کے خازن پروفیسر محمد مسرور نے انٹر نیشنل ٹریننگ فیلوشپ (آئی ٹی ایف) پروگرام سے متعلق حالیہ دنوں میں برطانوی میڈیا، بالخصوص برٹش میڈیکل جرنل (بی ایم جے) اور ڈیلی میل میں شائع ہونے والی رپورٹس میں لگائے گئے تمام الزامات کو بےبنیاد، گمراہ کن اور حقائق کے منافی قرار دیا ہے۔

اتوار کو بورڈ آف ٹرسٹی کے اراکین، سی ایس پی کے عہدیداروں اور ریجنل ڈائریکٹر برمنگھم کے ہمراہ پریس کا نفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ سی پی ایس پی ایک خود مختار، شفاف اور قواعد و ضوابط کے تحت کام کرنے والا ادارہ ہے جہاں کسی قسم کی مالی یا انتظامی بے قاعدگی کی گنجائش موجود نہیں۔ 

پریس کانفرنس میں بتایا گیا کہ سی پی ایس پی کے تحت چلنے والے یونٹ یو ایچ بی اور سی پی ایس پی  آئی ٹی ایف سمیت تمام ذیلی اداروں کے آڈٹس باقاعدگی سے کرائے جاتے ہیں اور حالیہ آڈٹ رپورٹس میں بھی کسی بدعنوانی یا مالی خرد برد کی نشاندہی نہیں کی گئی۔ 

حکام کے مطابق آڈٹ میں بعض تکنیکی نوعیت کی آبزرویشنز سامنے آئیں جن کا تعلق انتظامی بہتری اور دستاویزی امور سے تھا، تاہم ان کا مالی بدعنوانی یا غیر قانونی ادائیگیوں سے کوئی تعلق نہیں۔

عہدیداروں نے کہا کہ سی پی ایس پی گزشتہ کئی دہائیوں سے پاکستان سمیت بیرونِ ملک طبی تعلیم و تربیت کے اعلیٰ معیارات برقرار رکھے ہوئے ہے اور ادارے کے تمام فیصلے آئین، قواعد اور متعلقہ قوانین کے مطابق کیے جاتے ہیں۔ 

ان کا کہنا تھا کہ فیسوں، اخراجات اور ترقیاتی منصوبوں سے متعلق تمام معاملات گورننگ باڈیز کی منظوری سے طے پاتے ہیں اور کسی فردِ واحد کو من مانی کا اختیار حاصل نہیں۔

پریس کانفرنس کے دوران اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ سی پی ایس پی میں تقرریاں، ترقیات اور مالی فیصلے ادارہ جاتی طریقۂ کار کے تحت ہوتے ہیں اور ان میں شفافیت کو یقینی بنایا جاتا ہے۔ 

حکام نے دعویٰ کیا کہ آڈٹ رپورٹس کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کر کے ادارے کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جا رہی ہے، جو نہ صرف غیر ذمہ دارانہ ہے بلکہ قومی سطح کے ایک معتبر تعلیمی ادارے کے خلاف منفی تاثر پیدا کرنے کے مترادف بھی ہے۔

عہدیداروں نے مزید کہا کہ اگر کسی کو آڈٹ یا انتظامی امور پر اعتراض ہے تو اس کے لیے ادارہ جاتی فورمز اور قانونی راستے موجود ہیں، تاہم میڈیا میں ادھوری معلومات یا غیر مصدقہ دعوؤں کے ذریعے مہم چلانا مناسب نہیں۔ 

انہوں نے واضح کیا کہ سی پی ایس پی ہر قسم کی جانچ پڑتال کے لیے تیار ہے اور تمام متعلقہ ریکارڈ کسی بھی مجاز فورم کے سامنے پیش کیا جا سکتا ہے۔ 

پریس کانفرنس کے اختتام پر سی پی ایس پی حکام نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ادارہ طبی تعلیم، تربیت اور امتحانی نظام میں شفافیت، میرٹ اور احتساب کے اصولوں پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا اور پاکستان میں میڈیکل پروفیشنلز کی اعلیٰ معیار کی تربیت کا سلسلہ بلا تعطل جاری رکھا جائے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: کہ سی پی ایس پی پریس کا کیا کہ

پڑھیں:

حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف

حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔

قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔

آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔

چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔

رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔

سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔

چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔

شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔

پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • موبائل کال اور انٹرنیٹ پیکجز مہنگے، صارفین پر نیا مالی بوجھ
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • پی اے سی کی تمام ڈسکوز کے ملازمین کی تصدیق کی سفارش