فراڈ کیس؛ سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کے بھائی کو بڑا ریلیف، عدالت نے گرفتاری روک دی
اشاعت کی تاریخ: 8th, February 2026 GMT
اسلام آباد:
سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کے بھائی کو فراڈ کیس میں بڑا ریلیف مل گیا، جس کے تحت عدالت نے ان کی گرفتاری روک دی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ نے فراڈ کیس میں سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کے بھائی نجف حمید کو بڑا ریلیف دیتے ہوئے اسپیشل جج سینٹرل کے فیصلے پر آئندہ سماعت تک کارروائی معطل کر دی، جب کہ عدالت نے نجف حمید کی گرفتاری سے بھی روک دیا۔
عدالت نے نجف حمید کی درخواست پر نوٹس جاری کرتے ہوئے متعلقہ فریقین سے جواب طلب کر لیا اور کیس کی سماعت ملتوی کر دی۔
فراڈ کیس؛ سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کے بھائی کی ضمانت بحالی درخواست پر پیشرفت
سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کے بھائی نجف حمید کا فراڈ کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع
فیض حمید کے بھائی کیخلاف آمدن سے زائد اثاثہ جات کی انکوائری شروع
واضح رہے کہ اسپیشل جج سینٹرل نے 16 جنوری کو نجف حمید کی ضمانت قبل از گرفتاری سے متعلق فیصلہ واپس لینے کی ایف آئی اے کی درخواست منظور کی تھی، جس کے بعد نجف حمید نے ضمانت منسوخی کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا اور اسپیشل جج سینٹرل کی جانب سے 24 جنوری کو سنائے گئے ضمانت منسوخی کے فیصلے کو چیلنج کیا تھا۔
گزشتہ سماعت میں سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کے بھائی نجف حمید کی ضمانت بحالی کی درخواست پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس راجا انعام امین منہاس کے روبرو ایف آئی اے فراڈ کیس کی سماعت کے دوران نجف حمید عدالت میں موجود تھے، جہاں عدالتنے نجف حمید کی ضمانت بحالی کی درخواست پر نوٹس جاری کیے تھے۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کے بھائی اسلام آباد ہائیکورٹ نجف حمید کی درخواست پر کی درخواست کی ضمانت عدالت نے فراڈ کیس
پڑھیں:
کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔ پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔ فیصلے کے مطابق نیب خیبر پختونخوا اپر کوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔ احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔