جو انسان بھی سرکاری نوکری شروع کرتا ہے ، قطعاً مستقل نہیں ہوتی۔ مخصوص مدت گزارنے کے بعد رٹائر ہونا پڑتا ہے۔ہمارے ملک میں رٹائرمنٹ کی عمر ساٹھ برس کی ہے۔ مطلب یہ آپ نے جس طرح اور جس سطح کی بھی سرکاری ملازمت کی ہے، مقررہ وقت پر بہر حال رٹائر ہونا ہے۔ سرکاری ملازمین کی واضح اکثریت اس عمل سے بہت خائف رہتی ہے۔
چند افسران تو سیاسی خانوادوں کے تلوے چاٹتے رہتے ہیں تاکہ انھیں چند مزید برس کی نوکری کسی بھی شرط پر مل جائے۔ قلیل سے بڑھاوے کے لیے یہ کچھ بھی کرنے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں۔ مگر یہ وقت بھی ختم ہوتے بالکل دیر نہیں لگتی۔ چنانچہ ایک نہ ایک دن‘ انھیں میز ‘ کرسی‘ دفتر اور گھنٹی کے کلچر سے باہر آنا پڑتا ہے۔ اکثریت کے لیے یہ کافی تکلیف دہ مرحلہ ہوتا ہے۔ انھیں بالکل سمجھ نہیں آتا کہ اب وہ باقی زندگی کیسے گزاریں گے؟یہ حد درجہ سنجیدہ سوال ہے۔ ہر انسان کا جواب بھی اپنا اپنا ہے۔ضروری نہیں کہ ایک شخص کے خیالات دوسرے سے ملتے جلتے ہوں۔
افسروں کی وہ قسم ‘ جنھوں نے کبھی ناک پر مکھی نہ بیٹھنے دی ہو، ماتحتوں اور سائلین کے لیے عذاب سے کم نا ہوں، ان کی رٹائر منٹ کے بعد کا مسئلہ سب سے سنگین ہوتا ہے۔اس قبیل کے افسروں نے سائلین کو کبھی عزت نہیں دی ہوتی اور انھیں قطعاً اپنے برابر نہیں گردانا ہوتا ۔ کوئی بھی انسان‘ جس سے انھوں نے منفی برتاؤ کیا ہو، وہ ہر طرح ان سے درگزر کرتا ہے۔بلکہ دور بھاگتا ہے۔ اگر ماضی کا جابر افسر ‘ راستے میں نظر آئے تو اکثر جاننے والے راستہ بدل لیتے ہیں۔ کوشش کرتے ہیں کہ آمنا سامنا نہ ہو جائے۔ بڑے بڑے تگڑم خان افسر تھوڑے عرصے میںاس رجحان کوسمجھ لیتے ہیں۔شرمندگی اور ندامت کی وجہ سے ان میں سے کثیر تعداد ‘ اپنے گھروں سے باہر نکلنا چھوڑ دیتی ہے۔
نوکروں‘ کو اپنے شاندار ماضی کے قصے سناتے رہتے ہیں۔کیونکہ ان سے بات کرنے والا بھی کوئی نہیں ہوتا۔ گوشہ نشینی اختیار کرنا‘ ان کی مجبوری بن جاتی ہے۔ انھیں کوئی خوش دلی سے ملنے بھی نہیں آتا۔ دیکھنے میں آیا ہے کہ ایسے لوگ‘ جو اپنی سرکاری نوکری میں ساتھیوں کے لیے خوف کی علامت تھے، بہت جلد ملک الموت کی گرفت میں آ جاتے ہیں۔ متعدد بیماریاں انھیں زندہ نہیں رہنے دیتیں۔ رٹائرمنٹ ان کے لیے موت کا پروانہ بن جاتی ہے۔ ہاں‘ ان میں سے چند فیصد ‘ حد درجہ مذہبی رنگ اختیار کر لیتے ہیں۔ باریش ہو کر‘ ایک نیا روپ دھار لیتے ہیں۔ دنیا کی بے ثباتی پر آہیں بھرتے ہیں۔ اپنی تمام زندگی کی شخصی خرابیاں ‘ دین کے ذریعے چھپانے کی بھرپور مگر ناکام کوشش کرتے ہیں۔ اگر آپ کو کہیں مل جائیں ‘ تو فوراً درس و تبلیغ شروع کر دیتے ہیں۔
آپ کو ہر وہ وصف اختیار کرنے کی استدعا فرماتے ہیں جو انھوںنے اپنی عملی زندگی میں دور دور تک نہیں اپنایا ہوتا۔ حد درجہ نرمی اختیار کرنے کا سبق دیں گے ، بھول جائیں گے کہ انھوںنے تو کبھی لوگوں کے ساتھ درشت لہجے کے سوا کلام نہیں کیا۔ یعنی سرکاری زندگی میں وہ صرف اور صرف بدتمیزی کا شیوہ اختیار رکھے رہے۔
اب ایک دم اپنا ہر عمل بھول کر آپ پر پند و نصائح کے دروازے کھول دیںگے۔اگر انھیں یاد کروانے کی جرأت کریں کہ حضور‘ جناب نے تو اپنی پوری سرکاری زندگی دیگر لوگوں کی سانسیں اجیرن کر رکھی تھی ‘ تو یہ حد درجہ معصومیت سے فرمائیں گے کہ انھیں قدرت نے ہدایت ذرا دیر سے دی ہے۔ یہ جواب کس سطح کا ہوتا ہے۔ آپ خود تجربہ کر لیں۔ان رٹائرڈ افسران میں تھوڑی سی بھی انسانیت کی رمق ہو ‘ تو یہ اپنی عملی زندگی میں عوام کے لیے آسانیاں پیدا کریں۔مگرایسا انھوں نے کیا نہیں ہوتا۔ اور پھر قدرت ان سے انتقام ضرور لیتی ہے۔
چلیے‘ان منفی لوگوں کا ذکر چھوڑیئے۔ آپ کو سرکاری نوکری میں ایسے نرم خو افسر بھی ملیں گے ۔ جو خوش دل بھی ہوںگے اور خوش اخلاق بھی۔ یہ محفلی لوگ‘ لوگوں کے مسائل بھی حل کرنے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں۔ سائلین سے ان کا رویہ بھی بہتر ہوتا ہے ۔ رٹائرمنٹ ان کی شخصیت کو کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچاتی۔ وہ بالکل تازہ دم رہتے ہیں۔ دوستوں یاروں سے ہردم رابطے میں رہتے ہیں۔ بلکہ رٹائرمنٹ کے بعد انھیں جو آزادی ملتی ہے، اس کا بھرپور استعمال کرتے ہیں۔ ورزش کرتے ہیں۔
سیر و تفریح میں مصروف رہتے ہیں۔ ذاتی زندگی پر خوب توجہ دیتے ہیں۔یہ اول ذکر افسروں سے مختلف اور بہتر مخلوق ہوتی ہے۔یہ نئے دوست بنا لیتے ہیں۔ وقت کا تصرف اس طرح کرتے ہیں کہ دن گزرنے کا پتہ ہی نہیں چلتا۔ مجموعی طور پر خوش باش رہتے ہیں۔ اور طویل عمری کے خزانے سے مالا مال ہوتے ہیں۔ رٹائرمنٹ ان کے لیے کوئی خطرے کی گھنٹی نہیں ہوتی۔ بلکہ ایک خوش گوار نئے سفر کا آغاز ہوتاہے۔ یہ خود بھی پرمسرت رہتے ہیں اور اپنے اردگرد کے ماحول کو بھی تروتازہ رکھتے ہیں۔ اس طرح کے افسروں سے میں اکثر ملتا رہتا ہوں۔ ہفتے میں ایک دن‘ ہم تین چار دوست‘ میرے پرائیویٹ دفتر میں خوب گپیں لگاتے ہیں۔ قہقہوں کی آواز سے صاف پتہ چلتا ہے کہ وقت اچھا گزر رہا ہے۔ دو چار گھنٹے گزرنے کا پتہ ہی نہیں چلتا۔ پھر ایک اور روٹین یہ بھی بنا رکھی ہے کہ گاہے بگاہے‘ باری باری‘ ہم شام کو اکٹھے کھانا کھاتے ہیں۔
چند پرانے دوستوں کو بھی مدعو کر لیتے ہیں۔ کسی مہنگے ریسٹورنٹ یا ہوٹل میں نہیں‘ بلکہ کسی متوسط سطح کے ریسٹورنٹ میں بیٹھ جاتے ہیں۔ بل بھی زیادہ نہیں آتا۔ کوئی بھی دوسرے پر بوجھ نہیں بنتا۔ اس طرح زندگی میں روانی برقرار رہتی ہے۔ ہاں! چند دوستوں نے واٹس اپ گروپس بھی تشکیل کیے ہوئے ہیں۔ ان پر بھی ہر دم‘تبادلہ خیال جاری رہتا ہے۔ نئی نئی معلومات بھی سمجھنے کو ملتی ہیں۔ دراصل ‘ انسان کو اس نکتہ کی سمجھ آنی چاہیے کہ اپنی ذاتی زندگی کو بہتر کرنا‘ اس کے ذاتی اختیار میں ہے۔ سرکاری زندگی کا اختتام ‘ اصل زندگی کا خاتمہ ہرگز ہرگز نہیں ہے۔ بلکہ یہ تو ایک خوب صورت تبدیلی ہے۔ جس سے آپ بہت فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔مگریہ نقطہ بہت کم لوگوں کو باور کرایا جا سکتا ہے۔ اکثر معاملات الٹ ہی چلتے ہیں ، اس کا شدید نقصان رٹائر ہونے والے افسروں کو پیہم ہوتا ہے۔
دیکھئے: رٹائرمنٹ کے بعد‘ متنوع قسم کے رویے سامنے آتے ہیں۔ ان سب کا احاطہ کرنا تو کافی مشکل ہے۔ بلکہ ناممکن ہے۔ مگر اس اہم ترین موضوع پر لکھنا اشد ضروری ہے۔ بلکہ تسلسل کے ساتھ‘اسی موضوع پر دوسرا کالم بھی لکھنے کی کوشش کروں گا۔ اب افسروں کی ایک اور قسم کا ذکر کروں گا۔ جو تعداد میں قدرے کم ہوتے ہیں ۔ مگر وہ رٹائرمنٹ کے بعد بھی ایک حد درجہ بہترین زندگی گزارتے ہیں۔ انھیں سب سے خوش قسمت افراد گردانتا ہوں۔ حادثاتی طور پر میرا تعلق اس قبیل سے ہے۔ نکتہ یہ ہے کہ رٹائرمنٹ کے بعد‘ میں نے درمیانہ سا کاروبار شروع کر دیا۔ جو خد ا کے فضل و کرم سے بڑھنا شروع ہو گیا۔
اس کی واحد وجہ صرف ایک ہے۔ نجی کاروبار میں خاکسار نے ایمانداری اور درست سمت میں کام کرنے کا وطیرہ اپنایا ہے۔ کسی قسم کی مصنوعی روش نہیں اپنائی۔ خدا نے ہاتھ پکڑا۔ دو تین برسوں کی قلیل مدت میں خاصہ اچھا کاروبار کرنے لگا۔ مارکیٹ میں ساکھ بھی قائم ہو گئی۔منافع بھی بہتر سے بہتر ہوتا چلا گیا۔ اب ایک کافی بڑا دفتر کرایہ پر لے رکھا ہے ۔ اچھا خاصا اسٹاف ہے۔ خدا نے مجھے اپنے بے پناہ فضل سے بھی نوازا ہے۔ پورا ٹیکس دیتا ہوں‘ اور بڑے آرام کی نیند سوتا ہوں۔ وہ گاڑیاں جو سرکاری زندگی میں خواب میں بھی نہیں دیکھ سکتا تھا آج میرے استعمال میں ہیں۔ ویسے یہ عرض کرتا چلوں کہ دولت انسان کو کبھی بھی جوہری خوشی نہیں دے سکتی ۔ ہاں‘ ایک اور کام بھی شروع کر رکھا ہے۔
آمدنی کا ایک خاص حصہ لوگوں کو کھانا کھلانے کے لیے مختص کر دیا ہے۔ ایک لنگر شروع کر رکھا ہے۔ جہاں بہترین کھانا بنتا ہے۔ اکثر اوقات میں بھی وہیں سے کھانا کھاتا ہوں۔ آج تک نہیں پوچھا کہ کون کھانے پر آ رہا ہے ‘ نیت صرف یہ ہے کہ مستحق لوگ‘ اچھے کھانے سے مستفید ہوتے رہیں۔ خیر قریبی دوستوں کے علاوہ کسی کے علم میں نہیں ہے کہ لنگر کے اخراجات کون برداشت کر رہاہے۔ اس خرچ کو میںنے ذمے داری سمجھ کر اپنایا ہے۔ کھانا پکانے والے باوضو ہوتے ہیں اور پورے دورانیے میں درود شریف کا وردکرتے رہتے ہیں۔ اس لنگر نے میرے سوچنے کا انداز بدل دیا ہے۔ رٹائرمنٹ کے بعد‘ خدا نے مجھے جو بھی کشادگی عطا کی ہے۔ وہ اسی عمل کی بدولت ہے۔ جائز منافع دینا اور واپس لینا بھی اسی خدا کے ہاتھ میں ہے۔ لہٰذا اب کوئی مسئلہ رہا ہی نہیں۔ اپنے چھوٹے سے کاروبار میں خدا کو حصہ دار بنا لیا ہے۔ اور یہ بات مجھے میرے ایک صوفی بلکہ بزرگ دوست نے بتائی تھی۔ کوئی خاص مذہبی شخص نہیں ہوں‘ مگر قدرت اور خدا کے ساتھ روحانی تعلق کو خوب سمجھتا ہوں۔
عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ رٹائرمنٹ‘ انسان کو بہتر بھی بنا سکتی ہے۔اس کا متضاد منفی رویہ گوشہ نشینی پر مجبور بھی کر سکتا ہے۔ یہ آپ پر منحصر ہے کہ سرکاری زندگی کے بعد کی عمر کو کس سانچہ میں ڈھال کر زندہ رہتے ہیں۔مثبت رویہ اپنائیں ۔ بغیر کسی تردد کے چھوٹا سا کاروبار شرو ع کریں ۔ اور اس کے بعد خدا کی عنائیات دیکھئے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: رٹائرمنٹ کے بعد سرکاری زندگی زندگی میں اختیار کر کرتے ہیں لیتے ہیں رہتے ہیں ہوتا ہے ہیں ہو
پڑھیں:
باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
ایک نئی جنگ شروع ہوتی نظر آرہی ہے۔ یمن کے حوثیوں نے بحیرہ احمر سے باب المندب بند کر دیا ہے۔پہلے امریکا ایران جنگ کی وجہ سے دنیا جنگ کا شکار ہے۔ پوری کوشش کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا۔آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے دنیا میں تیل کی قیمتیں اوپر جا رہی ہیں۔ اب باب المندب کی بندش تیل کی قیمتوں کو مزید اوپر لے کر جائے گی۔ جس کی وجہ تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ اور ایک بحرانی کیفیت بنتی نظر آرہی ہے۔
باب المندب کی بندش کے بعد حوثیوں نے سعودی عرب کے دو تیل کے ٹینکرز کو بھی تباہ کر دیا ہے۔ ایک تیل کے ٹینکر کو میزائیل لگنے کی سعودی عرب نے تصدیق کر دی ہے۔ عالمی منڈی کا رحجان یہی رہا ہے کہ جب تیل کا ایک ٹینکر تباہ ہوتا ہے تو انشورنس ختم ہو جاتی ہے۔
کوئی کمپنی بھی اپنا جہاز وہاں سے گزارنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ اس لیے حوثیوں کو باب المندب بند کرنے کے لیے دو جہاز ہی تباہ کرنے تھے ۔ باقی جہاز خود ہی آنے سے انکار کر دیں گے۔ اس لیے باب المندب بند ہوگیا ہے۔ اب جب تک یا تو حوثی اس کو کھولنے کا اعلان نہ کریں یا حوثیوں کی اس کو بند کرنے کی صلاحیت ختم نہ ہوجائے تب تک یہ کھل نہیں سکتا۔
حوثیوں کی جانب سے بندش کے اعلان کے بعد پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی ایک شدید سخت بیان جاری کیا تھا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ اگر کسی پاکستانی جھنڈے کے حامل جہاز پر حملہ کیا گیا تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔اس کے علاوہ باب المندب کی بندش کی مذمت بھی کی گئی تھی اور اس کے خلاف سخت رد عمل جاری کیا گیا تھا۔ لیکن اس بیان کے اگلے ہی دن سعودی عرب کے دو جہازوں پر حملہ کر دیا گیا ہے۔ یہ درست ہے کہ یہ پاکستانی جہاز نہیں تھے۔ لیکن یہ سعودی عرب کے جہاز تھے اور پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ بھی تھا۔
باب المندب بند کرنا لگتا ہے ایران کے لیے ناگزیر تھا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کم ہی سہی لیکن ایک مناسب مقدار میں اپنا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کر رہے تھے۔ اس لیے ان کی تیل کی برآمد چل رہی تھی۔ کنویں بند نہیں ہو رہے تھے۔ وہاں کوئی خاص بحران نہیں تھا۔
دنیا کو بھی تیل مل رہا تھا اور ایسی خبریں آرہی تھیں کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ایسی تیل کی لائنیں بچھا رہے ہیں کہ اگلے دو سال میں ان کا آبنائے ہرمز پر انحصار ختم ہو جائے گا۔ وہ اپنا سارا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کرنے کی پوزیشن میں ہونگے۔ یہ تیاری ایران کے آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھنے کی اہمیت کو کم کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔ اس لیے شائد ایران کو بھی سمجھ آگئی ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز سے جو بھی فائدہ اٹھانا ہے اس کی مدت کم ہے۔ عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات متبادل بندوبست تیزی سے کر رہے ہیں۔
شائد اسی لیے ایران نے بھی حوثیوں کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ باب المندب بند کر دیں ۔ کیونکہ ایران کے پاس بھی وقت کم ہے۔ویسے بھی چند دن پہلے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر نے ان کی طرف سے یہ بیان دیا تھا کہ اگر امریکا نے ایران پر بمباری بند نہ کی تو ایران جنگ کو وسیع کر دے گا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ باب المندب بند کرنا جنگ کو وسیع کرنے کی ایک شکل ہے۔ جنگ پھیل گئی ہے۔ ایران جنگ کو پھیلانا چاہتا تھا تو اس نے پھیلا دی ہے۔
باب المندب سے دنیا کے تیل کی سات فیصد ترسیل ہوتی ہے۔ اس لیے سات فیصد کی ترسیل بند ہو گئی ہے۔ لیکن یہ صرف اتنی بات نہیں کئی ماہ سے یو اے ای اور سعودی عرب کے درمیان جاری سرد جنگ بھی یک دم ختم ہوگئی ہے۔ باب المندب بند ہونے کی خبر کیا آئی سعودی عرب اور یو اے ای میں صلح ہوگئی دونوں کے وزراء نے ایک دوسرے کے ساتھ تصویر پوسٹ کر دیں کہ ہم بھائی ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش تو انھیں اکٹھا نہیں کر سکی لیکن باب المندب کی بندش نے انھیں اکٹھا کر دیا۔ اب آگے کا منظر نامہ کیا ہو سکتا ہے۔ پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ موجود ہے۔
اگر سعودی عرب باب المندب کھلوانے کے لیے حوثیوں کے ساتھ جنگ شروع کرتا ہے اور جواب میں حوثی سعودی عرب پر حملہ کرتے ہیں تو پاکستان اپنے دفاعی معاہدہ کے تحت سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہونے کا پابند ہوگا۔ کیسے اور کتنا، اس سوال کا ابھی تک کسی کے پاس کوئی جواب نہیں۔ لیکن حوثیوں نے یہ خبردار کیا ہے کہ اگر ان پر کسی بھی قسم کا کوئی بھی حملہ کیا گیا تو وہ سعودی عرب کی تیل اور دیگر تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے۔ایک عمومی رائے یہ ہے کہ اتنی سخت بمباری کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا تو کیا صرف بمباری سے باب المندب کھلوایا جا سکے گا۔ حوثی بھی جواب میں میزائل ماریں گے۔
یہ درست ہے کہ ان کے پاس ایران جتنے میزائل نہیںہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے پاس میزائل ہیں۔ انھوں نے ماضی میں اسرائیل اور سعودی عرب پر میزائیل مارے بھی ہیں۔ شاید حوثیوں کو یہ لگ رہا ہے کہ جیسے ایران کی دیگر پراکسیوں کو ختم کیا جا رہا ہے۔ اگر وہ اس جنگ سے باہر رہتے ہیں تو بعد میں ان کی باری بھی آئے گی۔ اس لیے جنگ میں شامل ہونے کا یہ بہترین وقت ہے۔ باب المندب اور آبنائے ہرمز کا معاملہ اکٹھے طے کیا جائے، مل کر بات کی جائے، اس سے طاقت بڑھ جائے گی۔
اب سوال یہی ہے کہ پاکستان ایران امریکا لڑائی میں تو غیر جانبدار رہا۔ جس کی وجہ سے وہ آج تک ثالث ہے۔ لیکن کیا وہ باب المندب کی بندش اور سعودی عرب اور حوثیوں کی لڑائی میں بھی غیر جانبدار رہے گا۔ عملی طور پر یہ ممکن نظر نہیں آرہا۔ پاکستان کو سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا۔ اس کے علاوہ کوئی اور حل نظر نہیں آرہا۔ امریکا ایران میں مصروف ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باب المندب کھلوانے کے لیے کردار ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن پہلی ترجیح ایران ہی ہوگا۔ ایسے میں یہ لڑائی فی الحال سعودی عرب کو خود ہی لڑنی ہوگی۔ اگر پاکستان اس لڑائی میں شریک ہوتا ہے تو پھر اس کی ثالث کی پوزیشن بھی ختم ہو جائے گی۔ ایران پاکستان کو بھی لڑائی میں فریق سمجھے گا۔ خدشہ ہے کہ پاکستان بھی نہ چاہتے ہوئے لڑائی میں شامل ہو جائے گا۔ ہم پہلے بھی ایران کو بتا چکے ہیں کہ سعودی عرب ہماری ریڈ لائن ہے۔ لیکن شائد حوثی پاکستان کی اس بات کو نہیں سمجھیں گے، وہ سعودی عرب پر حملے کریں گے۔
اس تناظر میں دیکھا جائے تو لڑائی وسیع ہو رہی ہے۔ ایک خطرناک منظر نامہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حوثیوں کے خلاف لڑائی میں پاکستان سعودی عرب ، یو اے ای ، امریکا اور اسرائیل مل کر لڑ رہے ہوں۔ یہ بھی لڑائی کی کوئی اچھی شکل نہیں ہوگی۔ لیکن اس کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ممکن ہے۔