جو انسان بھی سرکاری نوکری شروع کرتا ہے ، قطعاً مستقل نہیں ہوتی۔ مخصوص مدت گزارنے کے بعد رٹائر ہونا پڑتا ہے۔ہمارے ملک میں رٹائرمنٹ کی عمر ساٹھ برس کی ہے۔ مطلب یہ آپ نے جس طرح اور جس سطح کی بھی سرکاری ملازمت کی ہے، مقررہ وقت پر بہر حال رٹائر ہونا ہے۔ سرکاری ملازمین کی واضح اکثریت اس عمل سے بہت خائف رہتی ہے۔
چند افسران تو سیاسی خانوادوں کے تلوے چاٹتے رہتے ہیں تاکہ انھیں چند مزید برس کی نوکری کسی بھی شرط پر مل جائے۔ قلیل سے بڑھاوے کے لیے یہ کچھ بھی کرنے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں۔ مگر یہ وقت بھی ختم ہوتے بالکل دیر نہیں لگتی۔ چنانچہ ایک نہ ایک دن‘ انھیں میز ‘ کرسی‘ دفتر اور گھنٹی کے کلچر سے باہر آنا پڑتا ہے۔ اکثریت کے لیے یہ کافی تکلیف دہ مرحلہ ہوتا ہے۔ انھیں بالکل سمجھ نہیں آتا کہ اب وہ باقی زندگی کیسے گزاریں گے؟یہ حد درجہ سنجیدہ سوال ہے۔ ہر انسان کا جواب بھی اپنا اپنا ہے۔ضروری نہیں کہ ایک شخص کے خیالات دوسرے سے ملتے جلتے ہوں۔
افسروں کی وہ قسم ‘ جنھوں نے کبھی ناک پر مکھی نہ بیٹھنے دی ہو، ماتحتوں اور سائلین کے لیے عذاب سے کم نا ہوں، ان کی رٹائر منٹ کے بعد کا مسئلہ سب سے سنگین ہوتا ہے۔اس قبیل کے افسروں نے سائلین کو کبھی عزت نہیں دی ہوتی اور انھیں قطعاً اپنے برابر نہیں گردانا ہوتا ۔ کوئی بھی انسان‘ جس سے انھوں نے منفی برتاؤ کیا ہو، وہ ہر طرح ان سے درگزر کرتا ہے۔بلکہ دور بھاگتا ہے۔ اگر ماضی کا جابر افسر ‘ راستے میں نظر آئے تو اکثر جاننے والے راستہ بدل لیتے ہیں۔ کوشش کرتے ہیں کہ آمنا سامنا نہ ہو جائے۔ بڑے بڑے تگڑم خان افسر تھوڑے عرصے میںاس رجحان کوسمجھ لیتے ہیں۔شرمندگی اور ندامت کی وجہ سے ان میں سے کثیر تعداد ‘ اپنے گھروں سے باہر نکلنا چھوڑ دیتی ہے۔
نوکروں‘ کو اپنے شاندار ماضی کے قصے سناتے رہتے ہیں۔کیونکہ ان سے بات کرنے والا بھی کوئی نہیں ہوتا۔ گوشہ نشینی اختیار کرنا‘ ان کی مجبوری بن جاتی ہے۔ انھیں کوئی خوش دلی سے ملنے بھی نہیں آتا۔ دیکھنے میں آیا ہے کہ ایسے لوگ‘ جو اپنی سرکاری نوکری میں ساتھیوں کے لیے خوف کی علامت تھے، بہت جلد ملک الموت کی گرفت میں آ جاتے ہیں۔ متعدد بیماریاں انھیں زندہ نہیں رہنے دیتیں۔ رٹائرمنٹ ان کے لیے موت کا پروانہ بن جاتی ہے۔ ہاں‘ ان میں سے چند فیصد ‘ حد درجہ مذہبی رنگ اختیار کر لیتے ہیں۔ باریش ہو کر‘ ایک نیا روپ دھار لیتے ہیں۔ دنیا کی بے ثباتی پر آہیں بھرتے ہیں۔ اپنی تمام زندگی کی شخصی خرابیاں ‘ دین کے ذریعے چھپانے کی بھرپور مگر ناکام کوشش کرتے ہیں۔ اگر آپ کو کہیں مل جائیں ‘ تو فوراً درس و تبلیغ شروع کر دیتے ہیں۔
آپ کو ہر وہ وصف اختیار کرنے کی استدعا فرماتے ہیں جو انھوںنے اپنی عملی زندگی میں دور دور تک نہیں اپنایا ہوتا۔ حد درجہ نرمی اختیار کرنے کا سبق دیں گے ، بھول جائیں گے کہ انھوںنے تو کبھی لوگوں کے ساتھ درشت لہجے کے سوا کلام نہیں کیا۔ یعنی سرکاری زندگی میں وہ صرف اور صرف بدتمیزی کا شیوہ اختیار رکھے رہے۔
اب ایک دم اپنا ہر عمل بھول کر آپ پر پند و نصائح کے دروازے کھول دیںگے۔اگر انھیں یاد کروانے کی جرأت کریں کہ حضور‘ جناب نے تو اپنی پوری سرکاری زندگی دیگر لوگوں کی سانسیں اجیرن کر رکھی تھی ‘ تو یہ حد درجہ معصومیت سے فرمائیں گے کہ انھیں قدرت نے ہدایت ذرا دیر سے دی ہے۔ یہ جواب کس سطح کا ہوتا ہے۔ آپ خود تجربہ کر لیں۔ان رٹائرڈ افسران میں تھوڑی سی بھی انسانیت کی رمق ہو ‘ تو یہ اپنی عملی زندگی میں عوام کے لیے آسانیاں پیدا کریں۔مگرایسا انھوں نے کیا نہیں ہوتا۔ اور پھر قدرت ان سے انتقام ضرور لیتی ہے۔
چلیے‘ان منفی لوگوں کا ذکر چھوڑیئے۔ آپ کو سرکاری نوکری میں ایسے نرم خو افسر بھی ملیں گے ۔ جو خوش دل بھی ہوںگے اور خوش اخلاق بھی۔ یہ محفلی لوگ‘ لوگوں کے مسائل بھی حل کرنے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں۔ سائلین سے ان کا رویہ بھی بہتر ہوتا ہے ۔ رٹائرمنٹ ان کی شخصیت کو کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچاتی۔ وہ بالکل تازہ دم رہتے ہیں۔ دوستوں یاروں سے ہردم رابطے میں رہتے ہیں۔ بلکہ رٹائرمنٹ کے بعد انھیں جو آزادی ملتی ہے، اس کا بھرپور استعمال کرتے ہیں۔ ورزش کرتے ہیں۔
سیر و تفریح میں مصروف رہتے ہیں۔ ذاتی زندگی پر خوب توجہ دیتے ہیں۔یہ اول ذکر افسروں سے مختلف اور بہتر مخلوق ہوتی ہے۔یہ نئے دوست بنا لیتے ہیں۔ وقت کا تصرف اس طرح کرتے ہیں کہ دن گزرنے کا پتہ ہی نہیں چلتا۔ مجموعی طور پر خوش باش رہتے ہیں۔ اور طویل عمری کے خزانے سے مالا مال ہوتے ہیں۔ رٹائرمنٹ ان کے لیے کوئی خطرے کی گھنٹی نہیں ہوتی۔ بلکہ ایک خوش گوار نئے سفر کا آغاز ہوتاہے۔ یہ خود بھی پرمسرت رہتے ہیں اور اپنے اردگرد کے ماحول کو بھی تروتازہ رکھتے ہیں۔ اس طرح کے افسروں سے میں اکثر ملتا رہتا ہوں۔ ہفتے میں ایک دن‘ ہم تین چار دوست‘ میرے پرائیویٹ دفتر میں خوب گپیں لگاتے ہیں۔ قہقہوں کی آواز سے صاف پتہ چلتا ہے کہ وقت اچھا گزر رہا ہے۔ دو چار گھنٹے گزرنے کا پتہ ہی نہیں چلتا۔ پھر ایک اور روٹین یہ بھی بنا رکھی ہے کہ گاہے بگاہے‘ باری باری‘ ہم شام کو اکٹھے کھانا کھاتے ہیں۔
چند پرانے دوستوں کو بھی مدعو کر لیتے ہیں۔ کسی مہنگے ریسٹورنٹ یا ہوٹل میں نہیں‘ بلکہ کسی متوسط سطح کے ریسٹورنٹ میں بیٹھ جاتے ہیں۔ بل بھی زیادہ نہیں آتا۔ کوئی بھی دوسرے پر بوجھ نہیں بنتا۔ اس طرح زندگی میں روانی برقرار رہتی ہے۔ ہاں! چند دوستوں نے واٹس اپ گروپس بھی تشکیل کیے ہوئے ہیں۔ ان پر بھی ہر دم‘تبادلہ خیال جاری رہتا ہے۔ نئی نئی معلومات بھی سمجھنے کو ملتی ہیں۔ دراصل ‘ انسان کو اس نکتہ کی سمجھ آنی چاہیے کہ اپنی ذاتی زندگی کو بہتر کرنا‘ اس کے ذاتی اختیار میں ہے۔ سرکاری زندگی کا اختتام ‘ اصل زندگی کا خاتمہ ہرگز ہرگز نہیں ہے۔ بلکہ یہ تو ایک خوب صورت تبدیلی ہے۔ جس سے آپ بہت فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔مگریہ نقطہ بہت کم لوگوں کو باور کرایا جا سکتا ہے۔ اکثر معاملات الٹ ہی چلتے ہیں ، اس کا شدید نقصان رٹائر ہونے والے افسروں کو پیہم ہوتا ہے۔
دیکھئے: رٹائرمنٹ کے بعد‘ متنوع قسم کے رویے سامنے آتے ہیں۔ ان سب کا احاطہ کرنا تو کافی مشکل ہے۔ بلکہ ناممکن ہے۔ مگر اس اہم ترین موضوع پر لکھنا اشد ضروری ہے۔ بلکہ تسلسل کے ساتھ‘اسی موضوع پر دوسرا کالم بھی لکھنے کی کوشش کروں گا۔ اب افسروں کی ایک اور قسم کا ذکر کروں گا۔ جو تعداد میں قدرے کم ہوتے ہیں ۔ مگر وہ رٹائرمنٹ کے بعد بھی ایک حد درجہ بہترین زندگی گزارتے ہیں۔ انھیں سب سے خوش قسمت افراد گردانتا ہوں۔ حادثاتی طور پر میرا تعلق اس قبیل سے ہے۔ نکتہ یہ ہے کہ رٹائرمنٹ کے بعد‘ میں نے درمیانہ سا کاروبار شروع کر دیا۔ جو خد ا کے فضل و کرم سے بڑھنا شروع ہو گیا۔
اس کی واحد وجہ صرف ایک ہے۔ نجی کاروبار میں خاکسار نے ایمانداری اور درست سمت میں کام کرنے کا وطیرہ اپنایا ہے۔ کسی قسم کی مصنوعی روش نہیں اپنائی۔ خدا نے ہاتھ پکڑا۔ دو تین برسوں کی قلیل مدت میں خاصہ اچھا کاروبار کرنے لگا۔ مارکیٹ میں ساکھ بھی قائم ہو گئی۔منافع بھی بہتر سے بہتر ہوتا چلا گیا۔ اب ایک کافی بڑا دفتر کرایہ پر لے رکھا ہے ۔ اچھا خاصا اسٹاف ہے۔ خدا نے مجھے اپنے بے پناہ فضل سے بھی نوازا ہے۔ پورا ٹیکس دیتا ہوں‘ اور بڑے آرام کی نیند سوتا ہوں۔ وہ گاڑیاں جو سرکاری زندگی میں خواب میں بھی نہیں دیکھ سکتا تھا آج میرے استعمال میں ہیں۔ ویسے یہ عرض کرتا چلوں کہ دولت انسان کو کبھی بھی جوہری خوشی نہیں دے سکتی ۔ ہاں‘ ایک اور کام بھی شروع کر رکھا ہے۔
آمدنی کا ایک خاص حصہ لوگوں کو کھانا کھلانے کے لیے مختص کر دیا ہے۔ ایک لنگر شروع کر رکھا ہے۔ جہاں بہترین کھانا بنتا ہے۔ اکثر اوقات میں بھی وہیں سے کھانا کھاتا ہوں۔ آج تک نہیں پوچھا کہ کون کھانے پر آ رہا ہے ‘ نیت صرف یہ ہے کہ مستحق لوگ‘ اچھے کھانے سے مستفید ہوتے رہیں۔ خیر قریبی دوستوں کے علاوہ کسی کے علم میں نہیں ہے کہ لنگر کے اخراجات کون برداشت کر رہاہے۔ اس خرچ کو میںنے ذمے داری سمجھ کر اپنایا ہے۔ کھانا پکانے والے باوضو ہوتے ہیں اور پورے دورانیے میں درود شریف کا وردکرتے رہتے ہیں۔ اس لنگر نے میرے سوچنے کا انداز بدل دیا ہے۔ رٹائرمنٹ کے بعد‘ خدا نے مجھے جو بھی کشادگی عطا کی ہے۔ وہ اسی عمل کی بدولت ہے۔ جائز منافع دینا اور واپس لینا بھی اسی خدا کے ہاتھ میں ہے۔ لہٰذا اب کوئی مسئلہ رہا ہی نہیں۔ اپنے چھوٹے سے کاروبار میں خدا کو حصہ دار بنا لیا ہے۔ اور یہ بات مجھے میرے ایک صوفی بلکہ بزرگ دوست نے بتائی تھی۔ کوئی خاص مذہبی شخص نہیں ہوں‘ مگر قدرت اور خدا کے ساتھ روحانی تعلق کو خوب سمجھتا ہوں۔
عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ رٹائرمنٹ‘ انسان کو بہتر بھی بنا سکتی ہے۔اس کا متضاد منفی رویہ گوشہ نشینی پر مجبور بھی کر سکتا ہے۔ یہ آپ پر منحصر ہے کہ سرکاری زندگی کے بعد کی عمر کو کس سانچہ میں ڈھال کر زندہ رہتے ہیں۔مثبت رویہ اپنائیں ۔ بغیر کسی تردد کے چھوٹا سا کاروبار شرو ع کریں ۔ اور اس کے بعد خدا کی عنائیات دیکھئے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: رٹائرمنٹ کے بعد سرکاری زندگی زندگی میں اختیار کر کرتے ہیں لیتے ہیں رہتے ہیں ہوتا ہے ہیں ہو
پڑھیں:
عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
بین الاقوامی سیاست کے افق پر بعض لمحات ایسے طلوع ہوتے ہیں جو محض روزمرہ سفارتی سرگرمیوں کا حصہ نہیں ہوتے بلکہ تاریخ کے دھارے میں ایک معنی خیز موڑ کی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں۔ آج مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر اسی نوع کی بے یقینی، اضطراب اور کشمکش سے دوچار ہے۔
ایک طرف جنگ کے بادل ہیں جو لبنان، غزہ اور خطے کے دیگر حساس مقامات پر مسلسل گہرے ہوتے جا رہے ہیں، دوسری طرف سفارت کاری کی وہ نحیف مگر روشن کرن بھی موجود ہے جو انسانیت کو ایک بڑے تصادم سے بچانے کی جدوجہد کر رہی ہے۔ ایسے نازک ماحول میں پاکستان کے کردار کو عالمی سطح پر ملنے والی پذیرائی نہ صرف قومی سفارت کاری کی کامیابی کا اعتراف ہے بلکہ اس حقیقت کی علامت بھی ہے کہ بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں پاکستان کو ایک ذمے دار، متوازن اور قابلِ اعتماد ریاست کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس کی جانب سے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہنا بظاہر ایک بیان ہے، مگر اس کے مضمرات کہیں زیادہ گہرے ہیں۔ عالمی سیاست میں تعریف کے الفاظ اکثر مفادات کے پردے میں لپٹے ہوتے ہیں، لیکن جب کسی ملک کی ثالثی کی صلاحیت، اس کی قائدانہ بصیرت اور امن کے لیے اس کی سنجیدہ کوششوں کا اعتراف مختلف بین الاقوامی حلقوں سے ہونے لگے تو یہ محض سفارتی آداب نہیں رہتے بلکہ ایک نئی حقیقت کا اظہار بن جاتے ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی گزشتہ نصف صدی سے عالمی سیاست کے حساس ترین موضوعات میں شمار ہوتی رہی ہے۔
ان دونوں ممالک کے درمیان محاذ آرائی صرف دو ریاستوں کا تنازع نہیں بلکہ اس کے اثرات توانائی کی عالمی منڈیوں، بین الاقوامی تجارت، علاقائی سلامتی اور عالمی اقتصادی استحکام تک پھیل جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں اگر پاکستان نے متعدد مواقع پر دونوں فریقوں کو جنگ کے دہانے سے واپس لانے میں کردار ادا کیا ہے تو یہ ایک ایسی کامیابی ہے جسے محض رسمی تعریف کے پیمانے سے نہیں ناپا جا سکتا۔ یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ موجودہ عالمی نظام میں طاقت کی تعریف تبدیل ہو رہی ہے۔
ماضی میں عسکری قوت کو ریاستی برتری کی سب سے بڑی علامت سمجھا جاتا تھا، مگر آج دنیا بتدریج اس نتیجے پر پہنچ رہی ہے کہ مستقل اثر و رسوخ صرف وہی ریاست حاصل کر سکتی ہے جو تنازعات کے حل میں معاون ثابت ہو، جو پل تعمیر کرے، دیواریں نہیں؛ جو رابطے پیدا کرے، فاصلے نہیں۔ پاکستان کی حالیہ سفارتی سرگرمیاں اسی نئے تصور قوت کی عکاسی کرتی ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان براہِ راست یا بالواسطہ روابط کی راہیں ہموار کرنا، مختلف سطحوں پر اعتماد سازی کے عمل کو زندہ رکھنا اور کشیدگی کو جنگ میں تبدیل ہونے سے روکنے کی کوشش کرنا درحقیقت ایک ایسی ذمے داری ہے جس کے نتائج پوری دنیا پر مرتب ہوتے ہیں۔ دوسری طرف لبنان کی صورتحال عالمی ضمیر کے لیے ایک کڑا امتحان بن چکی ہے۔
اسرائیلی حملوں، حزب اللہ کے ساتھ جاری محاذ آرائی اور علاقائی طاقتوں کی مداخلت نے اس ملک کو ایک مرتبہ پھر عدم استحکام کے بھنور میں دھکیل دیا ہے۔ لبنان ایک ایسا معاشرہ ہے جو پہلے ہی معاشی بحران، سیاسی تقسیم اور سماجی مشکلات کا شکار ہے۔ ایسے میں مسلسل عسکری کارروائیاں نہ صرف اس کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا رہی ہیں بلکہ لاکھوں شہریوں کے مستقبل کو بھی تاریکی کی طرف دھکیل رہی ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے رابطہ اور بیروت میں ممکنہ کارروائی کو روکنے کی کوشش اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ واشنگٹن بھی اس بحران کے ممکنہ نتائج سے پوری طرح آگاہ ہے۔ تاہم مسئلہ یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں سفارتی بیانات اور زمینی حقائق کے درمیان ہمیشہ ایک وسیع فاصلہ موجود رہا ہے۔ ایک جانب جنگ بندی کے اعلانات ہوتے ہیں، دوسری جانب گولہ باری، فضائی حملے اور عسکری پیش قدمی جاری رہتی ہے۔ یہی تضاد عالمی سفارت کاری کی ساکھ کو مجروح کرتا ہے اور متحارب فریقوں کے درمیان عدم اعتماد کو مزید گہرا کر دیتا ہے۔
نیتن یاہو کی جانب سے جنوبی لبنان میں کارروائیاں جاری رکھنے کے اعلانات دراصل اسی پیچیدہ حقیقت کی ترجمانی کرتے ہیں۔ اسرائیل اپنی سلامتی کے نام پر عسکری اقدامات کو ناگزیر قرار دیتا ہے، جب کہ لبنان اور خطے کی دیگر قوتیں انھیں جارحیت اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتی ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ جب ہر فریق اپنی کارروائی کو دفاع اور دوسرے کے عمل کو جارحیت قرار دینے لگے تو پھر امن کا راستہ مزید دشوار ہو جاتا ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں بین الاقوامی اداروں اور ثالث ریاستوں کا کردار فیصلہ کن اہمیت اختیار کر لیتا ہے۔
لبنان میں ہونے والی ہلاکتوں اور زخمیوں کے اعداد و شمار محض شماریاتی معلومات نہیں بلکہ انسانی المیوں کی ایک طویل داستان ہیں۔ ہزاروں جانوں کا ضیاع اور لاکھوں انسانوں کی بے یقینی اس بات کا ثبوت ہے کہ جنگ کبھی بھی صرف فوجیوں کے درمیان نہیں ہوتی، اس کا سب سے بھاری بوجھ ہمیشہ عام شہریوں کے کندھوں پر آتا ہے۔ ایک ماں کی آغوش اجڑتی ہے، ایک بچے کا مستقبل تاریک ہوتا ہے، ایک خاندان اپنے سہارے سے محروم ہو جاتا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ عالمی سیاست میں اکثر انسانی دکھ کو جغرافیائی مفادات کے شور میں نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔
ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ جاری مذاکراتی عمل کو معطل کرنے کی اطلاعات اسی بگڑتی ہوئی صورتحال کا منطقی نتیجہ معلوم ہوتی ہیں، اگرچہ اس حوالے سے سرکاری سطح پر مکمل وضاحت سامنے نہیں آئی، تاہم ایرانی قیادت کے بیانات واضح کرتے ہیں کہ لبنان میں جاری کارروائیاں اعتماد کے ماحول کو شدید نقصان پہنچا رہی ہیں۔
سفارت کاری کا بنیادی اصول یہ ہے کہ مذاکرات طاقت کے استعمال کا متبادل ہوتے ہیں، لیکن جب میدانِ جنگ مسلسل گرم رہے تو مذاکراتی میز پر سنجیدہ پیش رفت تقریباً ناممکن ہو جاتی ہے۔ ایران کا یہ مؤقف کہ جنگ بندی کا اطلاق تمام محاذوں پر ہونا چاہیے، بین الاقوامی اصولوں کے تناظر میں خاصی اہمیت رکھتا ہے، اگر ایک معاہدہ صرف مخصوص علاقوں تک محدود رہے اور دوسرے مقامات پر عسکری کارروائیاں جاری رہیں تو اس کی حیثیت ایک عارضی سیاسی انتظام سے زیادہ نہیں رہتی۔ اس پورے بحران نے اقوام متحدہ کے کردار پر بھی کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس، تشویش کے بیانات اور قراردادوں کے مسودے اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن زمینی حقائق یہ ظاہر کرتے ہیں کہ عالمی ادارے اکثر طاقتور ریاستوں کے سیاسی مفادات کے سامنے بے بس دکھائی دیتے ہیں۔
بین الاقوامی قانون کی بالادستی کا تصور اسی وقت معتبر رہ سکتا ہے جب اس کا اطلاق سب پر یکساں ہو، اگر بعض ریاستوں کے لیے ایک معیار اور دوسروں کے لیے دوسرا معیار اختیار کیا جائے تو عالمی نظام کی اخلاقی بنیادیں کمزور پڑ جاتی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے سلامتی کونسل میں اختیار کیا گیا مؤقف خاص اہمیت رکھتا ہے۔ لبنان کی صورتحال کو ایک انسانی بحران قرار دینا دراصل اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ جنگوں کو محض عسکری زاویے سے نہیں دیکھا جا سکتا۔ انسانی جانوں کا تحفظ، بنیادی حقوق کی پاسداری اور شہری آبادی کا امن ہر قسم کی سیاسی مصلحت سے بالاتر ہونا چاہیے۔
پاکستان نے مسلسل یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ تنازعات کا حل طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات، سفارت کاری اور بین الاقوامی قانون کے دائرے میں تلاش کیا جانا چاہیے۔ یہی مؤقف آج خطے کی ضرورت بھی ہے اور عالمی امن کا تقاضا بھی۔ اس پوری صورتحال کو اگر وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک تاریخی دوراہے پر کھڑا ہے۔ ایک راستہ مسلسل عسکری تصادم، انتقامی کارروائیوں اور بڑھتی ہوئی نفرت کی طرف جاتا ہے۔ دوسرا راستہ مکالمے، مفاہمت اور سیاسی حل کی جانب لے جاتا ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ جنگ کا راستہ ہمیشہ زیادہ شور پیدا کرتا ہے جب کہ امن کی کوششیں خاموشی سے آگے بڑھتی ہیں۔ میڈیا کی شہ سرخیوں میں بمباری کی آواز زیادہ سنائی دیتی ہے، مگر سفارت کاری کی خاموش محنت اکثر نظروں سے اوجھل رہتی ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں بالآخر مذاکراتی میز پر ہی ختم ہوتی ہیں۔ کوئی بھی تنازع مستقل طور پر بارود کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکا۔ انسانی تہذیب کی بقا، اقتصادی ترقی اور عالمی استحکام کا انحصار بالآخر مکالمے پر ہی ہوتا ہے۔ آج لبنان، ایران، امریکا اور اسرائیل کے گرد گھومتا بحران اسی ابدی حقیقت کی ایک نئی یاد دہانی ہے، اگر عالمی قیادت نے دانش کا راستہ اختیار کیا تو یہ خطہ ایک اور بڑے سانحے سے بچ سکتا ہے، لیکن اگر طاقت کے استعمال کو ہی واحد حل سمجھا گیا تو اس کے نتائج صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کو عدم استحکام کی نئی لہر کا سامنا کرنا پڑے گا۔ایسے میں پاکستان کی آواز، جو جنگ کے شور میں امن، مفاہمت اور مذاکرات کی بات کر رہی ہے، محض ایک سفارتی مؤقف نہیں بلکہ ایک اخلاقی ضرورت اور بین الاقوامی ذمے داری کی علامت بن چکی ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو تباہی کے اندھیروں سے نکل کر امن، استحکام اور مشترکہ انسانی مستقبل کی طرف لے جا سکتا ہے۔