جماعت اسلامی سندھ کی مسلم پرویزودیگرکی گرفتاری کی شدید مذمت
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260209-01-4
کراچی(اسٹاف رپورٹر) امیرجماعت اسلامی سندھ کاشف سعید شیخ نے 8 فروری فراڈ انتخابات کے دوسال مکمل اورعوامی مینڈیٹ پرڈاکہ کے خلاف کالیکشن کمیشن سندھ کے باہر عوامی پریس کانفرنس کرنے کے موقع پر پر قائمقام امیرکراچی مسلم پرویز،ایم پی اے محمد فاروق، سید قطب احمد،سفیان دلاور،مدثرانصاری سمیت جماعت اسلامی کے کئی رہنما وکارکنان کی گرفتاری کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پرامن احتجاج اور پریس کانفرنس کرنے پر گرفتاریوں اور کارکنان پر تشدد موجودہ نام نہاد جعلی حکمرانوں کی 08فروری کو ڈھونگ انتخابات کے بعد طاقت اور ڈنڈے کے زور پر حکومت کرنے والوں کی جانب سے ملک میں فسطائیت اور آمریت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ صوبائی امیر نے اپنے ردعمل میں مزید کہاکہ پاکستانی عوام جعلی حکمران طبقے اور ان کو ملک پر مسلط کرنے والی قوتوں کیخلاف باہر نکل کھڑے ہوں، جماعت اسلامی حقیقی معنوں میں 24کروڑ عوام کی حقیقی نمائندہ جماعت ہے جس کی قیادت کو گرفتار کرکے نہ تو دبایا جاسکتا ہے نہ جھکایا جاسکتا ہے۔ ملک میں 08فروری2024 کے الیکشن کے بعد جس طرح سے عوامی مینڈیٹ کو کچلا گیا اور بعدازاں 26ویں 27ویں ترمیم کے ذریعے عدلیہ، پارلیمان، میڈیا، الیکشن کمیشن سمیت ہر ادارے کو تاراج کیا گیا اس کی مثال مارشل لا دور میں بھی نہیں ملتی آج جمہوریت کے نام پر بدترین آمریت مسلط ہے جبکہ مخالف سیاسی جماعتوں کو پرامن احتجاج کرنے کے حق سے بھی محروم کیا جارہا ہے ،طاقت کے زور پر پہلے بھی ملک کو چلانے کی کوشش کی گئی جس کے نتیجے میں ملک دو ٹکڑے ہوا اور باقی ماندہ ملک آج بھی آگ اور خون میں ڈوبا ہوا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ عوام کو بنیادی حقوق حاصل،صاف شفاف الیکشن کے ذریعے عوام کے نمائندوں کو حکومت سونپ دی جائے۔کاشف سعید شیخ نے پرزور مطالبہ کیا کہ سندھ حکومت جماعت اسلامی حلقہ کراچی کے قائم مقام امیر مسلم پرویز،ایم پی اے فاروق فرحان سمیت تمام قائدین کو فی الفور رہا کرے بصورت دیگر جماعت اسلامی کراچی تا کشمور بھرپور احتجاج کرے گی۔دریں اثناء ملی یکجہتی کونسل سندھ کے صدر وسابق ایم این اے اسداللہ بھٹو نے گرفتاریوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہاکہ ہنماوئوں کی گرفتاریاں عوامی اورجمہوری پارٹی ہونے والی دعویدار پیپلزپارٹی کے لیے لمحہ فکریہ ہے ۔پرامن احتجاج کرنے پرپولیس گردی بدترین فسطائیت اورحقوق انسانی کی شدید خلاف ورزی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جماعت اسلامی
پڑھیں:
بحرین، جمعیت الوفاق کی شیعہ دینی امور میں مداخلت کی پرزور مذمت
بیان میں کہا گیا کہ یہ اقدامات خوف و ہراس پھیلانے اور دباؤ کے ذریعے نافذ کیے جا رہے ہیں، جبکہ قوانین میں بھی ایسی تبدیلیاں کی جا رہی ہیں جو دینی تعلیمات، قرآنی و شرعی نصوص، مذہبی شناخت اور عوامی و شخصی آزادیوں سے متصادم ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین کی جمعیت الوفاق الوطني الاسلامی نے خبردار کیا ہے کہ حکومت نے ایک ایسے اقدام کے ذریعے، جسے اس جماعت نے خطرناک اور جبری قرار دیا ہے، جعفری اوقاف ادارے کو تحلیل کرکے اسے ایک ایسے کونسل میں ضم کر دیا ہے جو سیاسی اقتدار کے زیرِ اثر کام کرتی ہے۔ جمعیت الوفاق کے مطابق یہ اقدام شرعی احکام میں مداخلت، آئین کی خلاف ورزی اور ملک میں مذہبی آزادیوں سے متعلق رائج اصولوں اور روایات پر حملہ ہے۔ الوفاق نے اپنے بیان میں کہا کہ گزشتہ کئی صدیوں کے دوران بحرین یا دنیا کے کسی دوسرے ملک میں اس نوعیت کی مداخلت کی مثال نہیں ملتی۔ جماعت کے مطابق حکومت نے علاقائی حالات، کشیدگیوں اور جنگی ماحول سے فائدہ اٹھاتے ہوئے جعفری مکتبِ فکر کی مذہبی شخصیات، اداروں اور اوقافی املاک پر قبضے اور مداخلت کی راہ اختیار کی ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ یہ اقدامات خوف و ہراس پھیلانے اور دباؤ کے ذریعے نافذ کیے جا رہے ہیں، جبکہ قوانین میں بھی ایسی تبدیلیاں کی جا رہی ہیں جو دینی تعلیمات، قرآنی و شرعی نصوص، مذہبی شناخت اور عوامی و شخصی آزادیوں سے متصادم ہیں۔ جمعیت الوفاق نے مزید کہا کہ یہ اقدامات شرعی ضوابط کی کھلی اور ناقابلِ قبول خلاف ورزی ہیں، اور انہیں ایسے سکیورٹی اقدامات کے ساتھ نافذ کیا جا رہا ہے جن کا مقصد شہریوں کو احتجاج اور مخالفت سے روکنا ہے۔ جمعیت کے مطابق حکومت نے ان غیر قانونی اقدامات کے لیے پہلے ہی ملک میں ایک ایسا ماحول پیدا کر دیا تھا جو غیر اعلانیہ ہنگامی حالت سے مشابہ تھا اور جس میں سکیورٹی دباؤ کو غیر معمولی حد تک بڑھا دیا گیا تھا۔
بیان میں کہا گیا کہ یہ سلسلہ سید محمد الموسوی کی مبینہ طور پر دورانِ حراست شہادت اور ان کے جسدِ خاکی کی حوالگی سے شروع ہوا، جس پر تشدد کے آثار نمایاں تھے۔ اس کے بعد بعض خاندانوں کی شہریت منسوخ کرنے، انہیں جبری ہجرت پر مجبور کرنے، مختلف علاقوں سے درجنوں علماء کی گرفتاری اور ان کی تصاویر کی تشہیر جیسے اقدامات سامنے آئے، جنہیں جمعیت نے انتقامی کارروائیاں قرار دیا۔ اسی طرح متعدد مساجد کو ائمہ جماعت سے محروم کرنے، دینی مدارس، حوزاتِ علمیہ اور مذہبی منبروں کی سرگرمیوں کو محدود یا معطل کرنے کا بھی ذکر کیا گیا۔
جمعیت الوفاق کا کہنا ہے کہ یہ تمام اقدامات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ موجودہ پالیسی دراصل ملک کی دینی اور سماجی ساخت پر حملے، اداروں کی بندش، املاک کی ضبطی اور ان کے انتظامی ڈھانچے کو تبدیل کرکے ایک "سکیورٹی اور جابرانہ نظم" نافذ کرنے کی تمہید ہے، جو فرقہ وارانہ بنیادوں پر قائم ہے اور شرعی، سماجی، قانونی و انسانی اصولوں کی کوئی پاسداری نہیں کرتا۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ فرمان نمبر (31) برائے سال 2026 ایک سیاسی نوعیت کا جبری فیصلہ ہے جو عوامی رضامندی کے بغیر مسلط کیا گیا ہے۔ اس کے ذریعے نہ صرف بحرین کے ایک تاریخی اور اصیل ادارے کو نشانہ بنایا گیا ہے بلکہ ایک ایسا زبردستی کا تغیر نافذ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جو صدیوں پر محیط بحران کو جنم دے سکتا ہے۔
جمعیت کے مطابق تاریخ اس اقدام کو بحرینی حکومت کی سب سے بڑی غلطیوں میں شمار کرے گی، کیونکہ یہ فطرت، دین، آزادی اور قانون کے بنیادی اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔ الوفاق نے زور دیا کہ یہ جبری فرمان ہزاروں اوقاف کی خیانت اور غصب کے مترادف ہے، جو مخصوص شرعی عناوین اور شرائط کے تحت وقف کیے گئے تھے اور جن میں سیاسی مداخلت یا ردوبدل کی کوئی گنجائش نہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ وقف کا شرعی اور قانونی تشخص کسی حکومتی حکم یا فرمان سے تبدیل نہیں ہو سکتا، لہٰذا اس سلسلے میں کیے گئے تمام اقدامات باطل اور شرعی و قانونی جواز سے محروم ہیں۔
جمعیت الوفاق نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس فرمان کو فوری طور پر واپس لے اور آمریت، ہٹ دھرمی اور ایسے منصوبے پر اصرار ترک کرے جو صرف طاقت، خوف اور شرعی احکام کی مخالفت کے سہارے ہی جاری رکھا جا سکتا ہے۔ جمعیت کا مزید کہنا تھا کہ شیعہ اور سنی اوقاف کو ایسے انتظامی ڈھانچے کے تحت لانے کی کوشش، جسے مذہبی حلقے قبول نہیں کرتے، اس بات کا ثبوت ہے کہ ملک کے سیاسی نظام کو ازسرِ نو متعین کرنے کی ضرورت ہے، کیونکہ موجودہ نظام شراکت داری، جوازِ حکمرانی اور قومی ہم آہنگی کی بنیادی خصوصیات سے محروم ہو چکا ہے۔ بیان کے اختتام پر جمعیت الوفاق نے ایک "نئے سماجی معاہدے" کی تشکیل کا مطالبہ کیا، جو عوامی اور قانونی بنیادوں پر استوار ہو، تمام شہریوں اور سماجی طبقات کے حقوق کی ضمانت دے اور ان کے مستقبل، شناخت اور آزادیوں کے حوالے سے اعتماد اور اطمینان کو مضبوط بنائے۔