Express News:
2026-06-02@23:33:29 GMT

جماعتِ اسلامی بنگلہ دیش: حکومت سنبھالنے کو تیار؟

اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT

آج سے دو دن بعد بنگلہ دیش میں قومی پارلیمانی انتخابات منعقد ہو رہے ہیں ۔ یوں12فروری 2026 بنگلہ دیشیوں کے لیے ایک تاریخ ساز دن ہے۔ یہ دن اس لیے بھی تاریخ ساز ہے کہ سابق وزیر اعظم بنگلہ دیش ، شیخ حسینہ واجد ، کے 15سالہ استبدادی اقتدار کے خاتمے کے بعد پہلی بار بنگلہ دیش میں آزادانہ انتخابات کا ڈول ڈالا جارہا ہے ۔

بھارت ( جہاں حسینہ واجد نے فرار کے بعد پچھلے ڈیڑھ سال سے پناہ لے رکھی ہے) مایوس اور پریشان ہے ۔ حسینہ واجد کی حکومت کے اچانک خاتمے کے ساتھ ہی بنگلہ دیش میں بھارت کی معاشی ، سیاسی، سفارتی اور اسٹریٹجک سرمایہ کاری کا جہاز خلیجِ بنگال میں ڈُوب چکا ہے ۔البتہ پاکستان بے حد مسرور اور پُراُمید ہے ۔ بنگلہ دیش کے پارلیمانی انتخابات سے پاکستان نے بلند اُمیدیں وابستہ کررکھی ہیں۔ کہا جارہا ہے کہ اِن انتخابات کے نتیجے میں جماعتِ اسلامی جیتے یا بی این پی ، دونوں ہی پاکستان کے مفاد میں بہتر ہوں گی ۔ اور اگر جماعتِ اسلامی بنگلہ دیش اور بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (BNP) مل کر ، مخلوط حکومت بناتی ہیں ، تب بھی یہ پاکستان کے لیے بہتر ہوگا کہ بی این پی( جنرل ضیاء الرحمن اور محترمہ خالدہ ضیاء) کی حکومتیں سابقہ ادوار میں پاکستان کے لیے اچھے تعلقات کی حامل رہی ہیں ۔

یہ خبر الگ سے نہائت خوش کن ہے کہ 14برس بعد بنگلہ دیش کی قومی ائر لائن (بیمان ائر) کا جہاز 150مسافروں کو لے کر 30 جنوری2025 کو کراچی پہنچا ہے ۔ اور یہ واقعہ بنگلہ دیشی قومی انتخابات سے ٹھیک ڈیڑھ ہفتہ قبل ظہور میں آیا ہے۔پاکستان نے کرکٹ کے میدان میں بنگلہ دیش کا ساتھ نبھا کر بھارت سے کرکٹ نہ کھیلنے کا فیصلہ کیا ہے ۔تمام بنگلہ دیشی اِس فیصلے پر پاکستان کے ممنون ہیں۔

پاکستان کے ڈپٹی وزیر اعظم اور وزیر خارجہ، جناب اسحق ڈار، نے (اگست2025 کے آخری ہفتے) ڈھاکہ کا دَورہ کیا تو اُنھوں نے ’’بی این پی‘‘ کے علیل سربراہ، محترمہ خالدہ ضیاء، اور جماعتِ اسلامی بنگلہ دیش کے سربراہ، جناب شفیق الرحمن، سے خصوصی طور پر تفصیلی ملاقاتیں کی تھیں۔ اِن ملاقاتوں کے تزویراتی ثمرات بھی اب برآمد ہو رہے ہیں ۔ جماعتِ اسلامی پاکستان میں بھی ہے ، بھارت میں بھی ، بنگلہ دیش میں بھی اور مقبوضہ کشمیر میں بھی ۔ یوں ہم جماعتِ اسلامی کی اہمیت سے صرفِ نظر نہیں کر سکتے ۔

پاکستان جب دو لخت ہو رہا تھا اور سابقہ مشرقی پاکستان میں شیخ مجیب الرحمن کی ایما پر بھارت کی تیار کردہ مکتی باہنی مشرقی پاکستان کو جدا کرنے کے لیے سر دھڑ کی بازی لگا رہی تھی ، تب بھی اُن مساعد اور پُر آزمائش ایام میں جماعتِ اسلامی مشرقی پاکستان نے پاکستان کی سالمیت اور سلامتی کا جھنڈا پوری استقامت اور جرأت سے اُٹھاکر پاکستانی فوج کا بھرپور ساتھ دیا تھا۔ اگر ہم جماعتِ اسلامی پاکستان کے سابق نائب امیر ، انجینئر خرم مراد مرحوم ، کی معرکہ آرا تصنیف ( لمحات) کا تفصیلی مطالعہ کریں تو ہم پر منکشف ہوتا ہے کہ مشرقی پاکستان کے ٹوٹتے وقت جماعتِ اسلامی کو مشرقی پاکستان کے کئی شہروں میں (پاکستان کی حمائت میں) کتنی قربانیاں دینا پڑی تھیں (واضح رہے یہ کتاب ’’لمحات‘‘ واقعات کے لحاظ سے اس لیے بھی زیادہ وقیع اور مستند ہے کہ مصنف اُن ایام میں خود ڈھاکہ کے امیرِ جماعت تھے اور بعد ازاں بھارت کے ہاتھوں جنگی قیدی بھی بنائے گئے)۔

بنگلہ دیش بننے کے بعد جب شیخ مجیب الرحمن کی ’’عوامی لیگ‘‘ برسرِ اقتدار آئی تو اُنھوں نے جماعتِ اسلامی بنگلہ دیش سے دل بھر کر انتقام لیا۔ جماعتِ اسلامی بنگلہ دیش کی سینئر قیادت کو صرف اس لیے ’’عوامی لیگ‘‘ نے ناقابلِ بیان تشدد و تعذیب کا ہدف بنایا کہ جماعت نے71ء کی جنگ کے دوران پاکستان اور پاکستانی فوج کا کھلم کھلا ساتھ دیا تھا۔ شیخ مجیب الرحمن سے جو کسر رہ گئی تھی ، وہ اُن کی صاحبزادی ، شیخ حسینہ واجد ، نے اپنے 15سالہ اقتدار میں یوں پوری کی کہ جماعتِ اسلامی بنگلہ دیش پر پابندیاں عائد کر دی گئیں اور جماعت کو بنگلہ دیش کے عام انتخابات میں حصہ لینے سے جبریہ روک دیا گیا ۔

اِسی پر بس نہیں بلکہ شیخ حسینہ واجد نے ظالمانہ ’’انٹرنیشنل کرائمز ٹربیونل‘‘ بنا کر جماعتِ اسلامی بنگلہ دیش کی متعدد سینئر بیگناہ قیادت کو ناجائز اور جعلی مقدمات میں لمبی لمبی سزائیں دے کر جیلوں میں ٹھونس دیا گیا اور 5 قائدین کو سُولی پر چڑھا دیا گیا : عبدالقادر ملا، قمر الزماں،علی احسن مجاہد، مطیع الرحمن نظامی اور میر قاسم علی !! قدرت کا انتقام دیکھئے کہ جس سفاک ٹربیونل کے تحت جماعتِ اسلامی بنگلہ دیش کی سینئر قیادت کو پھانسیاں دی گئیں ، اب اُسی ٹربیونل کے تحت78سالہ شیخ حسینہ واجد کو موت کی سزا سنائی گئی ہے ۔

آج یہی جماعتِ اسلامی بنگلہ دیش 12 فروری 2026 کے عام پارلیمانی انتخابات میں ایک بڑی انتخابی جماعت کی صورت میں سامنے آ کھڑی ہُوئی ہے۔ پورے قد اور استقامت کے ساتھ ! بنگلہ دیش بھر میں جماعتِ اسلامی نے اپنے اُمیدوار کھڑے کیے ہیں۔بھارتی میڈیا واویلا کرتا سنائی دے رہا ہے کہ جماعتِ اسلامی بنگلہ دیش زیادہ سیٹیں لے کر جیتنے نہ پائے ۔’’ اگر ایسا ہُوا تو بنگلہ دیش میں سیکولر ازم کا جنازہ نکل جائے گا ‘‘۔ حالانکہ خود بھارت میں بی جے پی اور آر ایس ایس کے تحت سیکولرازم کا جنازہ نکل چکا ہے ۔

کئی بنگلہ دیشی اور عالمی سروے اداروں ( مثلاً: انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ آف لاء اینڈ ڈپلومیسی اور جاگو رون فاؤنڈیشن اور امریکی این جی او IRI) کے مطابق :اگر شفاف الیکشن ہُوئے تو بنگلہ دیش جماعتِ اسلامی کو 33فیصد سے زیادہ اور بی این پی کو 37فیصد سے زیادہ ووٹ پڑنے کے امکانات ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جماعتِ اسلامی اور بی این پی کا مقابلہNeck to Neckہے۔ تیسری جانب بنگلہ دیشی نوجوانوں کی ’’نیشنل سٹیزن پارٹی‘‘ مقابلے میں کھڑی ہے ۔ گویا بنگلہ دیش میں بارہ فروری کے بعد ایک انوکھا انقلاب جنم لے رہا ہے۔

لاریب شیخ حسینہ واجد کی حکومت کے خاتمے کے بعد جماعتِ اسلامی بنگلہ دیش کو حیاتِ نَو ملی ہے۔ جماعت کے طلبا وِنگ ’’ اسلامی چھاترا شِبر‘‘ بھی انتخابات میں جماعت ِ اسلامی کے ساتھ میدان میں ہے۔پاکستان میں جماعتِ اسلامی کے انتخابی نشان ( ترازُو) کی طرح بنگلہ دیش میں بھی جماعتِ اسلامی کا انتخابی نشان ’’ترازُو‘‘ ہے ۔ امیرِ جماعتِ اسلامی بنگلہ دیش ( شفیق الرحمن) کے ساتھ ساتھ نائب امیر سید عبداللہ مجاہد طاہر بھی میدان میں ہیں اور جماعت کے سیکرٹری جنرل میاں غلام پرور بھی۔ 2001کے انتخابات میں جماعتِ اسلامی بنگلہ دیش نے ’’بی این پی‘‘ سے انتخابی اتحاد کیا تھا اور پھر ’’بی این پی ‘‘ کی حکومت بننے کے بعد جماعتِ اسلامی کے دو ارکان خالدہ ضیاء کی کابینہ کے رکن بھی بنائے گئے۔ مگر اب 12فروری کے انتخابات میں جماعت اور بی این پی دو مخالف قطبین پر کھڑی ہیں۔ ’’بی این پی‘‘ کے دَورِ حکومت میں بنگلہ دیشی سپریم کورٹ نے جماعتِ اسلامی بنگلہ دیش کے (سابق) امیر، غلام اعظم، کی معطل شدہ شہریت بحال کی تھی ۔

 کہا جاتا رہا ہے کہ جماعتِ اسلامی بنگلہ دیش اپنی ہم وطن ہندو اقلیت کی ’’سخت مخالف‘‘ ہے ۔ حالانکہ معاملہ اِس کے برعکس ہے ۔ واقعہ یہ ہے کہ یہ بنگلہ دیشی ہندو ہیں جنھوں نے شیخ مجیب الرحمن اور حسینہ واجد کی حکومتوں کے دوران ہر موقع پر جماعتِ اسلامی کی مخالفت کی تھی ۔ بارہ فروری کے انتخابی منظر میں دیکھا جائے تو جماعتِ اسلامی بنگلہ دیش کی قیادت اپنے ہم وطن ہندوؤں سے برادرانہ اور مشفقانہ سلوک کررہی ہے۔

اِس نے کئی ہندوؤں کو جماعت کے ٹکٹ بھی دیے ہیں۔ مثال کے طور پر بنگلہ دیش کے معروف شہر ’’کھلنا ‘‘ کے حلقہ وَن میں جماعت ِ اسلامی نے کرشنا نندی نامی ایک مشہور ہندو سیاستدان کو ’’ترازُو‘‘ کا ٹکٹ دیا ہے۔’’ کھلنا‘‘ میں ہندوؤں کی خاصی بڑی آبادی ہے ، اس لیے کرشنا نندی کو جماعتِ اسلامی نے اپنا ٹکٹ دے کر اچھا انتخابی و سیاسی فیصلہ کیا ہے ۔ امیرِ جماعتِ اسلامی بنگلہ دیش، ڈاکٹر شفیق الرحمن صاحب ، خود کرشنا نندی کی الیکشن کمپین کررہے ہیں ۔ اگلے روز ڈاکٹر شفیق الرحمن نے ’’کھلنا‘‘ کے ہندوحلقے میں جو تقریر کی ہے ، اِس نے بنگلہ دیشی ہندوؤں کے دل یہ کہہ کر جیت لیے ہیں کہ ’’بنگلہ دیش صرف مسلمانوں ہی کا وطن نہیں ، ہندوؤں کا بھی ہے اور ہم آپ کے جملہ حقوق کے نگہبان ہیں‘‘ ۔  

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: اسلامی بنگلہ دیش کی شیخ مجیب الرحمن شیخ حسینہ واجد مشرقی پاکستان بنگلہ دیش میں انتخابات میں بنگلہ دیش کے شفیق الرحمن بنگلہ دیشی پاکستان کے بی این پی کی حکومت کہ جماعت میں بھی ہندوو ں کے ساتھ کے بعد رہا ہے اس لیے

پڑھیں:

سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک

حکمران اکثر یہ بات کرتے رہتے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں سرمایہ کاری درکار ہے بلکہ ایسے بیانات مسلسل آتے رہے ہیں اور آئی ایم ایف کے مطالبات پر حکومت فوری رضامندی بھی ظاہر کر دیتی ہے تاکہ قرض کی منظوری میں تاخیر نہ ہو۔ قرض منظوری کے بعد ایسے بیانات جاری ہوتے ہیں جیسے بہت بڑا معرکہ سر کر لیا ہو۔ مطلب یہ ہے کہ ہمیں قرض کے حصول کے لیے آئی ایم ایف کی ہر شرط ماننا اور بے انتہا کوشش کے بعد قرض حاصل کرنے میں کامیابی حاصل ہوتی ہے۔

ملک کو اس حالت میں پہنچایا جا چکا ہے کہ خود انحصاری کی منزل بہت دور ہوگئی ہے ۔ پاکستان کی ہر حکومت نے آئی ایم ایف کی ہر بات مانی لیکن خود انحصاری کی منزل نہ مل سکی۔ غیر سیاسی وزیر خزانہ بھی اس امید پر لائے گئے کہ ان کی کوشش سے ملک خود انحصاری کی طرف بڑھے گا اور غیر ملکی قرضوں کے مزید حصول کی کوشش نہیں ہوگی لیکن سب نے اپنا اولین مقصد مزید قرضے حاصل کرنا بنا رکھا ہے اور آئی ایم ایف کو ہر ممکن طریقے سے مزید قرض دینے پر آمادہ کرنا رہ گیا ہے ۔

اب بھی پاکستان کے لیے آئی ایم ایف کا مزید قرضہ منظور کرا لیا گیا ہے جس کا حکومتی حلقے پرجوش خیر مقدم کررہے ہیں۔ ہر وزیر خزانہ کے بارے میں یہ دعویٰ سننے میں آتا رہاکہ وہ آئی ایم ایف سے معاملات طے کرنے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں، لیکن معاملہ مرض بڑھتا ہی گیا جوں جوں دوا کی جیسا ہی رہا۔ آئی ایم ایف سے جان نہیں چھوٹ رہی بلکہ آئی ایم ایف مزید شرائط سخت کرتا جا رہا ہے اور حکومت کو پرانے قرضوں پر سود ادا کرنے کے لیے مزید قرضے لینا پڑ رہے ہیں۔

آئی ایم ایف اپنی ہر شرط منوا رہا ہے اور حال ہی میں آئی ایم ایف نے پٹرولیم لیوی ہدف میں 18 فی صد اضافے کا کہا ہے جب کہ حکومت نے یہ لیوی آئی ایم ایف کے مطالبے سے بھی بہت زیادہ بڑھا رہی ہے مگر آئی ایم ایف ہے کہ مطمئن ہی نہیں ہوتا۔ آئی ایم ایف نے قرض دینے کے لیے کبھی یہ شرط نہیں رکھی کہ پاکستانی حکومت اپنے شاہانہ اخراجات اور حکومتی افراد کے غیر ملکی دورے کم کرکے اپنی آمدنی کے مطابق اخراجات کم کرے تاکہ اسے مزید قرضے نہ لینا پڑیں۔

موجودہ حکومت کی طرف سے پی ٹی آئی حکومت پر الزام لگایا جاتا ہے کہ اس نے سب سے زیادہ غیر ملکی قرضے لیے اور اقتدار جاتا دیکھ کر آئی ایم ایف کو مزید ناراض کرنے کے فیصلے کیے تھے جس پر نئی حکومت کو غیر ملکی قرضوں کے حصول کے لیے سخت محنت کرنا پڑی تھی اور چار سال سے عوام سرکاری طور یہ دعوے ہی سنتے آ رہے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں غیر ملکی سرمایہ کاری چاہیے۔

یہ دعوے صرف دکھاوے کے لیے ہیں اور حکومت کی اولین ترجیح غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول رہی ہے۔ حکومت پاکستان کو قرضے مانگنے کی عادت چھوڑدینی چاہیے اور اپنے پیروں پر کھڑے ہونے اور اپنے حاصل مالی وسائل استعمال کرکے خود انحصاری کی عملی کوشش کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔ ملکی صنعتوں اور غریبوں پر ٹیکسوں کی بھرمار ہے اور جو تنخواہ دار طبقہ ٹیکسز کے شکنجے میں پہلے سے پھنسا ہوا ہے اس پر اور عوام پر مزید ٹیکس بڑھا دیے گئے ہیں۔

حکومتی ٹیکسوں کی بھرمار، مہنگی بجلی و گیس پر فکسڈ چارجز لگا کر بھی حکومت مطمئن نہیں۔ عوام بجلی نہ بھی استعمال کریں اور سولر سسٹم لگائیں وہ بھی حکومت کو قبول نہیں۔ بجلی پر پہلے ہی بے شمار ٹیکس لگے ہوئے ہیں اس پر کم سے کم بجلی استعمال پر فکسڈ چارجز دو ماہ بعد ہی چھ سو سے نو سو روپے ماہانہ کر دیے گئے ہیں۔ فکسڈ چارجز سے آمدنی بڑھانے کا نیا طریقہ ایجاد کر لیا گیا ہے۔

عوام سانس لینے اور سڑکیں ضرور مفت استعمال کر رہے ہیں اور ہر چیز پر ٹیکس متعلقہ اداروں کو ادا کر رہے ہیں اور وزارت خزانہ ایک ہزار روپے معاوضہ لینے والوں سے بھی ڈیڑھ سو روپے ٹیکس لے رہا ہے اور بیس ہزار ماہانہ کمانے والوں سے بھی تین ہزار روپے لیے جا رہے ہیں جو حکومتی مظالم کی انتہا ہے پھر بھی حکومتی رونا ختم ہونے میں نہیں آتا اور عوام پر جھوٹا الزام کہ وہ ٹیکس نہیں دیتے۔

بڑے تاجروں سے انکم ٹیکس وصولی اور ہر سال اپنے اہداف وصولی میں ناکامی سرکار کا قصور ہے سرکاری ادارے اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام ثابت ہو چکے ہیں۔ حکومت دکھاوے کی حد تک سرمایہ کاری کو اپنی ترجیح قرار تو دیتی ہے مگر عملی طور ایسا نہیں کر رہی اور اس کی ترجیح اب بھی غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول ہے۔

وزیر توانائی نے کہا ہے کہ قابل تجدید توانائی کے لیے تین سو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہمیں ضرورت ہے۔ ملکی صنعتوں پر پہلے سے ٹیکسوں کی بھرمار ہے ، نئی سرمایہ کاری کہاں سے آئے گی۔ صنعتیں باہر سے کون لائے گا یہاں تو ملکی سرمایہ بیرون ملک منتقل کیا جا رہے ہے تو یہاں بیرونی سرمایہ کار کیوں آنا چاہیں گے۔ نجیبجلی کمپنیوں کو نوازنا جاری ہے ۔ ایک مخصوص طبقے کو ٹیکسوں پر چھوٹ دی جارہی ہے، جب کہ عام لوگوں کو حکومت ریلیف کیا دے گی ،اسے تو طاقتوروں کو ٹیکسوں سے چھوٹ دینے سے ہی فرصت نہیں مل رہی۔

متعلقہ مضامین

  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار
  • بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم