data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

دوحا /واشنگٹن /اسلام آباد /غزہ /تل ابیب /موغادیشو (مانیٹرنگ ڈیسک) حماس کے سینئر رہنما خالد مشعل نے کہا ہے کہ غزہ میں کسی غیرملکی مداخلت کو قبول نہیں کریں گے اور نہ ہتھیار ڈالیں گے، مزاحمت جاری رہے گی۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق حماس نے ہتھیار ڈالنے اور غزہ پر کسی بھی غیر ملکی حکومت کو تسلیم کرنے سے واضح طور پر انکار کردیا ہے۔ دوحا میں ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے خالد مشعل نے کہا کہ اسرائیل نسل کشی آسان بنانے کے لیے فلسطینیوں کے ہاتھ سے ہتھیار چھیننا چاہتا ہے، ہم اس کی اجازت نہیں دیں گے، جب تک غزہ پر غاصبانہ قبضہ برقرار ہے، بھرپور مزاحمت جاری رہے گی۔ حماس کے سینئر رہنما کا کہنا تھا کہ غزہ صرف فلسطینیوں کا ہے اور اس پر فلسطینی ہی حکومت کریں گے، انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ غزہ کی تعمیر نو اور امداد کے لیے متوازن راستہ نکالے لیکن فلسطینیوں پر کوئی بیرونی فیصلہ مسلط نہ کیا جائے۔غزہ بورڈ آف پیس کی پہلی باضابطہ میٹنگ 19 فروری کو امریکا میں منعقد کرنے کی تیاریاں مکمل کی جا رہی ہیں، جس کے لیے بورڈ کے اراکین کو دعوت نامے ارسال کر دیے گئے ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ واشنگٹن میں واقع یو ایس انسٹیٹیوٹ آف پیس میں بورڈ ممبران اور غزہ ایگزیکٹو کمیٹی کے اراکین کی میزبانی کریں گے۔غزہ بورڈ آف پیس میں اب تک 25 ممالک شمولیت اختیار کر چکے ہیں جبکہ صدر ٹرمپ اس بورڈ کے چیئرمین ہیں۔ دوسری جانب برطانیہ، فرانس اور ناروے سمیت کئی اہم یورپی ممالک نے اس بورڈ کو اقوام متحدہ کے کردار کو چیلنج کرنے کے مترادف قرار دیتے ہوئے اس میں شامل ہونے سے انکار کر دیا ہے۔ابتدا میں اس منصوبے پر تنقید کرنے والے اسرائیلی وزیر اعظم نے بعد ازاں غزہ بورڈ آف پیس کا حصہ بننے پر آمادگی ظاہر کر دی تھی۔ پاکستان غزہ بورڈ آف پیس کے پہلے اجلاس میں شرکت کرے گا اس حوالے سے باضابطہ فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ ذرائع نے کہا کہ اجلاس 19 فروری کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی زیرِ صدارت منعقد ہوگا، پاکستان کی جانب سے وزیراعظم یا نائب وزیراعظم اجلاس میں ملک کی نمائندگی کریں گے۔ اجلاس میں غزہ کی صورتحال، امن و استحکام سے متعلق اقدامات اور آئندہ لائحہ عمل پر غور کیا جائے گا۔ اسرائیلی فوج کی جانب سے غزہ میں مسلسل 120 ویں روز بھی سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری رہا جس کے نتیجے میں اتوار کے روز 5 فلسطینی شہری شہید ہو گئے۔ قابض دشمن نے پورے غزہ میں فضائی حملے و گولہ باری اور فائرنگ کے ذریعے فلسطینیوں کی نسل کشی کا عمل جاری رکھا۔ اتوار کی صبح درجنوں انتہا پسند آباد کاروں نے اسرائیلی فوج کی سخت سیکورٹی میں مسجد اقصیٰ کے صحنوں پر دھاوا بولا اور وہاں اپنے تلمودی عقائد کے مطابق رسومات ادا کیں۔ آباد کاروں نے باب المغاربہ کے راستے قبلہ اول میں داخل ہو کر اشتعال انگیز چکر لگائے اور مسجد کے صحنوں میں تلمودی پوجا پاٹ کر کے مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کیا۔ فلسطینی میڈیا پرسنز فورم نے عالمی تنظیم “رپورٹرز وداؤٹ بارڈرز’’ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غیر ملکی صحافیوں اور بین الاقوامی میڈیا مشنز کے غزہ میں داخلے پر اسرائیلی حکام کی مسلسل پابندیوں کی مذمت کے لیے ٹھوس اقدامات اور عملی اقدامات اٹھائے۔ بین الاقوامی تنظیم کو ارسال کردہ ایک حقوقِ انسانی کی یادداشت میں فورم نے اس بات پر زور دیا کہ ان منظم خلاف ورزیوں کو تنظیم کی سالانہ اور وقتاً فوقتاً جاری ہونے والی رپورٹس میں شامل کیا جانا چاہیے۔ فورم نے اس بات پر بھی توجہ دلائی کہ صحافیوں کے داخلے پر یہ مسلسل پابندی صحافتی کام کی روح پر حملہ اور عالمی معاشروں کے اس حق کی سنگین خلاف ورزی ہے جس کے تحت وہ فوجی پروپیگنڈے سے پاک آزادانہ معلومات تک رسائی چاہتے ہیں۔ صومالیہ کے صدر حسن شیخ محمود نے اسرائیل کی جانب سے صومالیہ میں ’مداخلت‘ پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل کی طرف سے علیحدگی پسند خطے صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کے فیصلے سے عدم استحکام میں اضافہ ہوا ہے۔ عرب میڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں صومالی صدر حسن شیخ محمود نے کہا کہ صومالیہ کبھی بھی اس بات کی اجازت نہیں دے گا کہ صومالی لینڈ میں اسرائیلی فوجی اڈا قائم کیا جائے اور ایسی کسی بھی کوشش کا مقابلہ کیا جائے گا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ مجوزہ اسرائیلی اڈا پڑوسی ممالک پر حملوں کے لیے بھی استعمال ہوسکتا ہے۔صومالی صدر حسن شیخ محمود نے اسرائیل کی سفارتی حکمت عملی کو غیر ذمہ دارانہ، غلط اور بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی اقدام قرار دیا۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ صومالی لینڈ میں اسرائیلی فوجی موجودگی کے خلاف بھرپور مزاحمت کی جائے گی۔

مانیٹرنگ ڈیسک سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: غزہ بورڈ ا ف پیس کیا جائے کریں گے کے لیے

پڑھیں:

سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان

پشاور: سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ کے حوالے سے خیبرپختونخوا حکومت نے اہم فیصلہ کرتے ہوئے صوبے کے پنشنرز کی نیٹ پنشن میں 7 فیصد اضافے کی منظوری دے دی ہے۔ اس فیصلے کا اطلاق یکم جولائی 2026 سے ہوگا، جبکہ اس حوالے سے محکمہ خزانہ نے باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا ہے۔

جاری کردہ اعلامیے کے مطابق یہ اضافہ 30 جون 2026 تک وصول کی جانے والی نیٹ پنشن کی بنیاد پر دیا جائے گا۔ حکومت کے اس اقدام سے لاکھوں ریٹائرڈ سرکاری ملازمین اور ان کے اہل خانہ کو مہنگائی کے موجودہ دور میں مالی سہارا ملنے کی امید ہے۔

نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ یکم جولائی 2026 یا اس کے بعد ریٹائر ہونے والے سرکاری ملازمین بھی اس 7 فیصد اضافے سے مستفید ہوں گے۔ اسی طرح فیملی پنشن حاصل کرنے والے افراد اور کمپیشنٹ الاؤنس لینے والے مستحقین پر بھی یہ اضافہ یکساں طور پر لاگو ہوگا۔

محکمہ خزانہ کے مطابق بیرون ملک مقیم وہ پنشنرز بھی، جو خیبرپختونخوا حکومت کی پنشن کے اہل ہیں، مقررہ قواعد و ضوابط کے تحت اس اضافے سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔

حکومت نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ یہ اضافہ پہلے سے دی جانے والی کسی بھی خصوصی اضافی پنشن پر لاگو نہیں ہوگا، بلکہ صرف بنیادی نیٹ پنشن کی بنیاد پر ادا کیا جائے گا۔

ماہرین کے مطابق سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ کا یہ فیصلہ بڑھتی مہنگائی کے پیش نظر ریٹائرڈ ملازمین کے لیے اہم ریلیف ثابت ہوگا اور ان کے ماہانہ اخراجات پورے کرنے میں مدد فراہم کرے گا۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ، شہری پھٹ پڑے
  • حکومت کا مسلسل تین دنوں میں پیٹرولیم مصنوعات مہنگی کرنے کا نیا ریکارڈ
  • پنجاب حکومت کے اقدامات دھرے کے دھرے رہ گئے‘بارشوں نے تباہی مچادی
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • آزاد کشمیر میں ڈیڑھ ماہ بعد انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع