ہماری پریس کانفرنس سے قبل انتظامیہ نے دھاوا بول دیا‘سردار رحیم
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر)فنکشنل مسلم لیگ سندھ کے سیکرٹری جنرل اور گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس (جی ڈی اے) کے سیکرٹری اطلاعات سردار عبدالرحیم نے کہا ہے کہ 8 فروری کے جعلی انتخابات کے خلاف فنکشنل ہاؤس کراچی میں ہماری پریس کانفرنس سے قبل ہی مقامی انتظامیہ نے دھاوا بول دیا اور 2 درجن سے زائد کارکنان کو حراست میں لے لیا جس کی پرزور مذمت کرتے ہیں انتظامیہ ایسے اوچھے ہتھکنڈوں سے باز رہے جی ڈی اے کے تحت سندھ بھر میں پرامن یوم احتجاج منایا گیا جو مکمل طور پر کامیاب رہا، کارکنان کی کثیر تعداد نے ضلعی پریس کلبوں کے سامنے احتجاج کیا اور بوگس الیکشن اور انتظامیہ کے ہتھکنڈوں کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ سردار عبدالرحیم نے اپنے مذمتی بیان میں کہا کہ ملک اس وقت نازک اور سنگین دور سے گزر رہا ہے جی ڈی اے ملک کو درپیش صورتحال کا ذ مے دار جعلی حکومت کو قرار دیتی ہے انہوں نے حراست میں لیے گئے کارکنان کو فوری رہا کرنے کا مطالبہ کیا۔انہوں نے کہا کہ 2024ء کے عام انتخابات پاکستان کی سیاسی تاریخ کا سیاہ ترین باب ہیں، جن میں بدترین دھاندلی کے ذریعے جیتنے والے امیدواروں کو ہرایا گیا اور ہارے ہوئے امیدواروں کو کامیاب قرار دیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسی اسمبلیوں کو ہم کسی صورت تسلیم نہیں کرتے۔سردار عبدالرحیم نے واضح کیا کہ جی ڈی اے کے تین صوبائی اسمبلی کے جیتے ہوئے ممبران نے نہ آج تک حلف اٹھایا نہ ہی اٹھائیں گے کیونکہ یہ اسمبلیاں عوامی مینڈیٹ کی عکاس نہیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ کے عوام نے احتجاج کے ذریعے موجودہ حکومت کے خلاف اپنی شدید نفرت کا اظہار کیا ہے۔سردار عبدالرحیم نے سندھ میں عوام کی آواز دبانے کے لیے پولیس کارروائیوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اصل جرائم پیشہ عناصر کو قانون کی گرفت میں لانے کے بجائے بے گناہ نوجوانوں پر جھوٹے مقدمات درج کیے جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سندھ کے مختلف اضلاع سے اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ ہمارے پرامن احتجاج میں شامل عوام کے راستوں میں پولیس نے رکاوٹیں کھڑی کی حالانکہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی اور جمہوری حق ہے۔سردار عبدالرحیم کا کہنا تھا کہ سندھ کے عوام فارم 47 کے ذریعے مسلط کیے گئے نمائندوں کو کسی صورت قبول نہیں کرتے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سردار عبدالرحیم نے جی ڈی اے سندھ کے کہا کہ
پڑھیں:
بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔23 جولائی ۔2026 ) صوبائی دارالحکومت لاہور میں علامہ اقبال ٹاﺅن مین بلیوارڈکی سروس روڈپربھیکے وال کے نزدیک 10فٹ گہرا شگاف پڑگیا ہے‘اسی طرح جوہر ٹاﺅن مصروف ترین شاہراہ خیابان فردوسی پر ایک اورگڑھا پڑ گیاہے گزشتہ تین روز کے دوران مذکورہ سڑک پریہ دوسرا گڑھا پڑا. بارش کے بعد مرکزی شاہراہ پر گڑھنے پڑنے سے حادثات کا خدشہ بڑھ گیا حکام کے مطابق سڑک کی مرمت کا کام شروع ہوگیا گڑھا پڑنے سے ٹریفک کی روانی جزوی طور پر متا ثر ہوئی دوسری جانب اقبال ٹاﺅن میں بھیکے والے موڑ جانب فاروق ہسپتال سروس روڈ پر 10 فٹ گہرا شگاف پڑ گیا.(جاری ہے)
سڑک کے درمیان پڑنے والے گہرے شگاف کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہو رہی ہے شگاف پڑنے سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، متعلقہ افسران اور واسا کی ٹیمیں موجود ہیں ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ متعلقہ محکموں نے سروس روڈ پر شگاف پر کرنے کیلئے کام شروع کردیا. واضح رہے کہ 17جولائی کو ہونے والی بارش سے فیروزپور روڈ پرنشتر کالونی کے قریب سروس روڈ کا ایک حصہ بیٹھ گیا تھا جس کے نتیجے میں وہاں کھڑی تین موٹر سائیکلیں گڑھے میں جا گریں تھیں. شہریوں کا کہنا ہے کہ پورے شہر کے اندر یہی حال ہے بارشوں میںمتوسط آبادیوںکے اندر سڑکوں کے بیٹھ جانے کے واقعات زیادہ ہوتے ہیں مگر انہیں کوریج نہیں ملتی‘نجی یونیورسٹی کے لیکچرار معاذالاسلام سول انجینئرنگ پڑھاتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ بدقسمتی سے پاکستان میں سب سے زیادہ بدعنوانی اس شعبے میں ہے ناقص میٹریل اور زمین کی کمپریشن عالمی لیول کی نہیں کی جاتی . ان کا کہنا ہے کہ ٹھیکے دار اب کئی دن مٹی کو کمپریس کرنے میں نہیں لگا اور نہ ہی میٹریل ڈالنے کے بعد ٹھیک طریقے سے اسے کمپریس کیا جاتا ہے ‘مٹی نرم ہونے سے اگر پانی راستہ بنالے تو چند ہفتوں میں ہی اس ایریا کے نیچے زمین کھوکھلی ہوجاتی ہے اور بارشوں کے دوران شگاف پڑنے لگتے ہیں. انہوں نے بتایا کہ لاہور فیصل آباد موٹر وے کو جب تجرباتی طور پرچھوٹی گاڑیوں کے لیے کھولا گیا تھا تو لاہور سے فیصل آباد کے سفر کے دوران انہوں نے نوٹ کیا تھا کہ کئی سو ارب کی لاگت سے بنی اس سڑک میں لیول کا بھی خیال نہیں رکھا تھا اور یہ موٹروے مکمل طور پر ناہموار تھا جس پر انہوں نے کچھ دیگر انجینئرز کے ساتھ مل کر ایک تجزیاتی رپورٹ این ایچ اے اور پنجاب حکومت کو ارسال کی تھی تاہم آج تک ہمیں اس پر کوئی جواب نہیں ملا.