27ویں ترمیم کے بعد عوامی مفاد میں پہلی درخواست عدالت میں دائر
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد (صباح نیوز) 27 ویں آئینی ترمیم کے بعد عوامی مفاد کی پہلی درخواست آئینی عدالت میں دائر کردی گئی۔ تقویم شاہ کی درخواست حافظ احسان احمد کھوکھر کے توسط سے دائرکی گئی،درخواست میں بلوچستان حکومت اور ورکس اینڈ سروسز ڈیپارٹمنٹ کو فریق بنایا گیا،درخواست کوئٹہ کے سمنگلی روڈ پرفلائی اوورکی تعمیر کے خلاف دائرکی گئی۔ درخواست میں استدعا کی گئی کہ فلائی اوور بلوچستان انسٹی ٹیوٹ آف نیفرولوجی کی زمین پر بنایا جارہا ہے،عدالت فلائی اوورکی تعمیر فوری طور پر روکنے کا حکم دے، فلائی اوور کی تعمیر اسپتال کے بالکل ساتھ اور اس کی زمین پر ہورہی ہے، بلوچستان انسٹی ٹیوٹ آف نیفرولوجی صوبے کا واحد گردوں کا اسپتال ہے، اسپتال میںدور دراز اضلاع سے آئے مریضوں کا علاج کیاجاتا ہے،فلائی اوور کی تعمیرمریضوں کی جانوں کیلیے خطرہ بن چکی، ایمبولینس کی آمدورفت، ایمرجنسی رسائی اور ڈائیلاسز سروسز متاثر ہورہی ہیں، بھاری مشینری، شور اور دھول سے اسپتال کا ماحول غیر محفوظ ہو چکا ہے۔ بغیر قانونی کارروائی کے اسپتال کی زمین استعمال کی جارہی ہے،لینڈ ایکوزیشن ایکٹ 1894 کے تحت کوئی نوٹس یا معاوضہ بھی ادا نہیں کیاگیا، یہ اقدام آرٹیکل 23 اور 24 کے تحت حق ملکیت کی خلاف ورزی ہے، بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کا ازالہ صرف مالی معاوضے سے ممکن نہیں،انسانی صحت کو ٹریفک سہولت پر قربان نہیں کیا جاسکتا، اسپتال انتظامیہ نے اس جگہ پر انڈر پاس بنانے کی تجویز دی تھی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔