ناقابلِ فراموش جدوجہد‘ عالمی کمیونٹی کا کشمیری عوام سے اظہارِ یکجہتی
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لندن (صباح نیوز) کینیڈا، برطانیہ، ترکی، شام، ڈنمارک، ماریشس، بنگلہ دیش میں سول سوسائٹی کی 8 اہم شخصیات نے کشمیریوں کے حق خودارادیت کی حمایت کی ہے اور کہا ہے کہ کشمیری عوام اپنی جدوجہد میں تنہا نہیں ہیں بلکہ پوری امتِ مسلمہ اور انصاف پسند دنیا ان کے ساتھ کھڑی ہے۔ دی کشمیر سینٹر لندن نے سوشل میڈیا پر ایک وڈیو شیئر کی ہے، جس میں ان ممالک کی سرکردہ شخصیات نے یوم یک جہتی کشمیر کے حوالے سے کشمیریوں کی جد و جہد آزادی کی حمیت کی ہے۔ فائیو پلرز نیوز (Five Pillars News) کے ڈپٹی ایڈیٹر اور شریک بانی دلی حسین کا وڈیو پیغام بھی شامل ہے، وہ کہتے ہیں کہ یہ مقبوضہ کشمیر میں موجود اس امت کے لیے یکجہتی، بھائی چارے اور اتحاد کا پیغام ہے جنہوں نے نسل در نسل ہمارے لیے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ بھارت کی فاشسٹ ہندوتوا حکومت کے ظلم، جبر اور قبضے کے خلاف جدوجہد میں امید اور امنگوں کا مینار ہیں۔دلی حسین اور دیگر افراد نے اپنے پیغام میں کشمیریوں کی نسل در نسل جاری ہمت اور حقِ خودارادیت کے لیے ان کی قربانیوں کو ”امید کی کرن” قرار دیا گیا ہے۔انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کشمیر کے مسئلے کو نہ کبھی بھلایا جائے گا اور نہ ہی اسے مٹنے دیا جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔
دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔
سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔