بات چیت کیلیے تیار‘ افغانستان دہشت گردی کیخلاف اقدامات کرے‘ وزیر مملکت برائے خزانہ
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260209-08-25
لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) وزیر مملکت خزانہ بلال اظہر کیانی نے کہا ہے کہ افغانستان میں 20 سے زیادہ دہشت گرد تنظیمیں کام کر رہی ہیں جو پاکستان کے ساتھ ساتھ پوری دنیا کے لیے خطرہ ہیں، پاکستان نے سرحد پار سے دہشت گردی روکنے کی کوشش کی، افغانستان سنجیدہ نہ ہو سکا۔ عاصمہ جہانگیر کانفرنس کے دوسرے روز خطاب کرتے ہوئے بلال اظہر کیانی نے کہا کہ حکومت طالبان سے ہر ممکن حد تک ڈپلومیسی سے معاملات طے کرنے کی کوشش کرتی رہی، پاکستان کا موقف تھا کہ افغانستان کی زمین دہشتگردوں کے لئے استعمال نہ ہو گی، گزشتہ برس اعلیٰ سطح وفود افغانستان جاتے رہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان نے کوشش کی کہ سرحد پار دہشت گردی روک سکیں، بدقسمتی سے سرحد پار دہشتگردی نہ رک سکی، سرحد پار دہشتگردی کسی ڈپلومیسی کی ناکامی نہیں تھی، افغانستان سے سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی۔ وزیر مملکت نے بتایا کہ کالعدم ٹی ٹی پی اور بی ایل اے سرحد پار سے سہولت کاری لیتے رہے، کے پی اور بلوچستان میں سرحد پار دہشت گردی سے ہمارے جوان شہید ہیں، ہر ریاست کو حق ہے کہ اپنے تحفظ کے لئے ہر ممکن اقدام کرے، پاکستان اب سخت اقدامات کر رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مستقبل میں بھی نتیجہ خیز بات چیت کے لئے تیار ہیں تاہم افغانستان کو دہشتگردی کے خاتمے کے لئے مثبت دیرپا اقدام کرنا ہوں گے، ہمیں تو یہ بھی خدشہ ہے کہ انسانی بنیادوں پر دی جا رہی امداد طالبان رجیم کی مضبوطی پر خرچ ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم پاکستان میں امن چاہتے ہیں، مختلف اپریشنز میں مارے جانے والے متعدد افغانی دیشت گرد تھے، ٹی ٹی پی کو سیف ہیون افغانستان سے فراہم کی جاتی ہے، ہم نے چار دہائیوں تک افغانیوں کے لئے اپنے دروازے کھولے رکھے، ہم نے کھلے دل سے افغان بہن بھائیوں کی مدد کی تھی، اب ہمارے پاس کوئی آپشن نہیں کہ ان حالات میں مدد جاری رکھیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ افغان شہریوں کو مرحلہ وار واپس بھیج رہے ہیں، کوئی ملک بھی بغیر دستاویزات یا رجسٹریشن کے دوسرے ملک کے شہریوں کو نہیں رکھ سکتا، انسانی بنیادوں پر مدد کو تیار ہیں لیکن اس کے لئے دہشتگردی روکنے کے لئے افغان حکومت کو اقدام کرنے ہوں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سرحد پار دہشت انہوں نے کہا کہ کے لئے
پڑھیں:
پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کی مذمت کرتے ہیں، پاکستانی پرچم بردار جہازوں پر کارروائی قومی سلامتی کا خطرہ تصور ہوگی، پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔
تفصیلات کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار نیوز بریفنگ میں کہا کہ حوثیوں نے سعودی کمرشل جہازوں کو دھمکیاں دی، حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کے اطلاعات بھی ہیں، پاکستان حوثیوں کے ان اقدامات کی مذمت کرتا ہے۔سعودی عرب کے ساتھ تجارت کو نشانہ بنانے یا اس کے خلاف دھمکیاں دینا ناقابلِ قبول ہے، سعودی عرب کے ساتھ جائز تجارتی سرگرمیوں میں مصروف بحری جہازوں کو دھمکیاں دینے پر پاکستان کو تشویش ہے۔ پاکستان کو سعودی عرب کے خلاف حوثی ملیشیا کی مسلسل دھمکیوں پر شدید تشویش ہے، بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کے اعلانات کی شدید مذمت کرتے ہیں، مشرق وسطیٰ کے تنازع میں سعودی عرب کو گھسیٹنے کی کوششوں پر تشویش ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
’’دنیا نیوز ‘‘ کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائے گا، پاکستان کے سمندری مفادات کے خلاف جارحانہ کاروائی کو خودمختار مفادات کے لیے سنگین خطرہ تصور کیا جائے گا۔اقوامِ متحدہ کے قانون کے مطابق پاکستان اپنے سمندری اثاثوں کی دفاع کے لیے طاقت کے استعمال کا حق محفوظ رکھتا ہے، پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔پاکستان نے تمام فریقوں پر ضبط و تحمل کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا ہے، پاکستان کو مشرق وسطیٰ میں کشیدگی پر تشویش ہے، پاکستان مذاکرات اور سفارتکاری کی کوشش کی حمایت رکھے گا، ایران، امریکہ مذاکرات کے لیے پرامید ہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
انہوں نے بتایا کہ ایرانی وزیر داخلہ نے وزیراعظم، نائب وزیراعظم، فیلڈ مارشل سے ملاقاتیں کی ہیں، پاکستان کی سفارتی کوشش جاری ہے، بات چیت ہی کشیدگی کا واحد حل ہے، تجارتی جہازوں کو دھمکیاں علاقائی امن، عالمی تجارت کیلئے سنگین خطرہ ہیں۔ نائب وزیر اعظم نے آسیان ریجنل فورم کے موقع پر مختلف ممالک کے وزرا ئے خارجہ سے اہم ملاقاتیں کی ہیں، ملاقاتوں میں مشرق و سطیٰ میں قیام امن، کشیدگی کے خاتمے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ افغانستان میں دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے بدستور موجود ہیں، افغان طالبان کی طرف سے دہشتگردوں کی پشت پناہی سے علاقائی امن کو خطرہ لاحق ہے۔ہزاروں پاکستانی دہشت گردی کے واقعا ت میں شہید ہو چکے ہیں، عالمی برادری دہشتگردوں کی پشت پناہی پر افغان طالبان کو جواب دہ ٹھہرائے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
یورپی یونین کی رپورٹ پر دفتر خارجہ نے ردعمل دیا کہ پاکستان کے لیے جاری کردہ جی ایس پی رپورٹ فائنل ہے، پاکستان 27 کنونشن پر عمل درآمد کررہا ہے، جی ایس پی پلس درجہ پاکستان کی معیشت کے لیے فائدہ مند رہا ہے، ہم یورپی یونین کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں، پاکستان انٹرنیشنل کنونشن پر عملدرآمد کرتا رہے گا۔