مدرسہ تفہیم الاسلام احسانیہ؛ شجر سایہ دار
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260209-04-6
مدرسہ تفہیم الاسلام احسانیہ گائوں جونو موری میں فارغ التحصیل طلبہ کے اعزاز میں منعقدہ تقریب سعید میں رفقاء کے ہمراہ اس دور افتادہ علاقے جانا ہوا، درس گاہ کے بانی مہتمم مولانا نور محمد جونو نے بتایا کہ اس دینی اور دنیاوی تعلیم سے آراستہ درس گاہ میں مخلوط تعلیم سے پاک مرد وزن کی تعلیم کا خصوصی اہتمام ہے دارالمحصنات میں بچیاں قرآن وحدیث کی تعلیم سے آراستہ ہوتی ہیں تو ساڑھے چار سو طالب علم مدرسہ میں زیر تعلیم ہیں جو اس گائوں کے ساتھ اطراف کے گوٹھوں اور سندھ کے دیگر مقامات کے ہیں۔ یہاں درس نظامی حفظ و ناضرہ کی تعلیم کے لیے اساتذہ دینی فریضہ سمجھ کر خدمات سر انجام دیتے ہیں اور ادبی سرگرمیوں کو پروان چڑھانے کے لیے مقابلہ بھی کرائے جاتے ہیں۔ اس تقریب سعید کے مہمان خصوصی سابق امیر جماعت اسلامی محترم سراج الحق اور نائب امیر ڈاکٹر معراج الہدیٰ صدیقی تھے۔ ڈاکٹر معراج الہدیٰ نے ماہ رمضان کی آمد آمد کو ملحوظ رکھ کر اپنے خطاب میں اس کی فضلیت اور تیاریوں پر محسن انسانیت کے معمول کی طرف حاضرین کو متوجہ کیا اور بتایا کہ اللہ کے رسول نے کبھی اپنی درازی عمر کی دعا نہیں کی البتہ رمضان کے ماہ کو پانے کی دعا ضرور کی یہ اس ماہ کی فضلیت، بلند مراتب، خیر وبرکت کی روشن دلیل ہے۔ سو وہ خوش نصیب جو اس ماہ کو پائے خیر وبرکت و نیکیوں سے دامن بھرلے اور اپنے گناہوں کو بخشوا لے۔ محترم سراج الحق نے اپنے تجربات زندگی کی روشن میں کہا کہ ہر ادارہ حکومت کی امداد سے چلتا ہے مگر دینی ادارے مخیر حضرات کے تعاون سے چلتے ہیں اور اس سال ڈیڑھ لاکھ افراد نے قرآن حفظ کیا۔ اس مدرسہ سے فارغ ہونے والوں کی ذمے داری ہے کہ انہوں نے جو علم حاصل کیا اس سے دوسروں کو مستفیض کریں، انہوں نے شرکاء سے کہا کہ آپ ان اداروں سے تعاون میں اللہ کی رضا کے لیے بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔ انہوں نے بتایا کہ میرے تین بیٹے ہیں ایک ڈاکٹر ہے، دوسرا مدرسہ سے فارغ التحصیل ہے۔ یہ دوسرا فرزند میری اور والدہ کی خدمت خوب بجا لاتا ہے اور ہماری راحت جان ہے۔ تین بیٹیاں ہیں وہ قرآن سے آراستہ ہیں وہ کام کاج میں بھی قرآن کی تلاوت کرتی ہیں جس کی برکت سے گھر گہوارہ امن سکون ہے۔ جماعت اسلامی ملک میں قرآن وسنت کے قانون کو نافد کرنے کے لیے میدان میں سرگرم ہے، اس کے آپ دست وبازو بن کر ملک کی اسلامی نظام کے عملاً نفاد اور خوشحالی وامن امان کے قیام میں اپنا حصہ ڈالیں تاکہ مملکت وہ مقصد حاصل کرسکے جو اس کے قیام کا تھا۔ اس موقع پر فارغ ہونے والوں شیلڈ دی گئی۔ راقم نے اپنی تصنیف صحافت شریعت کی روشنی میں محترم سراج الحق کو پیش کی تو انہوں نے اپنے گلے کا ہار مجھے پہنا کر حوصلہ افزائی کی۔
مدرسہ تفہیم الاسلام احسانیہ کے قیام کی بھی کہانی قابل ذکر ہے اس گائوں میں محمد صدیق مہر اور محمد صدیق جونو دو رکن جماعت اسلامی تھے یہ خوشہ جب اس سر زمین میں بار آور ہوا تو ضرورت محسوس ہوئی کہ یہاں مدرسہ قائم کرکے تطہیر افکار کرنے اور اقامت دین کے رضا کار تیار کرنے کے لیے دینی اور دنیاوی تعلیم کی درس گاہ قائم کی جائے ایک مخیر نے دو ایکڑ زمین دی تو پھر زہر آلودہ ذہن نے روڑے اٹکانے شروع کردیے ان میں اس وقت کے آستین کے سانپ بھی اس کار بد میں شریک ہوئے اور اخلاقی طور پر وہ اتنے گر گئے کہ انہوں نے اغواء کی جھوٹی ایف آئی آر درج کرائی جو وہ عدالت میں جھوٹی ثابت ہوئی۔ مولانا نور محمد جونو نے ان ہتھکنڈوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور یوں ربع صدی میں یہ ادارہ اب شجر سایہ دار اور روشن چراغ کی صورت اس ضلع بے نظیر آباد کا سب سے بڑا تدریس کا ادارہ بن گیا اور روز بروز ترقی کر رہا ہے اور لاہور کے اجتماع عام میں اس سے مدرسہ سے فیض یافتہ مرد و خواتین کی قابل ذکر تعداد نے شرکت کی، یہ مدرسہ اور گائوں اب جماعت اسلامی کا مضبوط گڑھ شمار ہوتا ہے یہ اللہ کا فضل ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جماعت اسلامی انہوں نے کے لیے
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔