سوشل پنشنرکا چیئرمینEOBIکے نام خط محترم چیئرمین
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ایمپلائز اولڈ ایج بینیفٹس انسٹی ٹیوشن (EOBI
جنابِ عالی!
نہایت دکھ، کرب اور مجبوری کے عالم میں یہ درخواست تحریر کر رہا ہوں کہ ای او بی آئی ملک کاامیر ترین ہے اس کے پاس اربوں کے اثاثے اور نقد اربوں کا سرمایہ ہے اس کے باوجود ہم بزرگ پنشنرز جسے ماہانہ صرف 11,500 روپے پنشن دی جا رہی ہے۔ جناب کیا یہ سچ نہیں ہے کہ اس رقم میں آج کے دور میں زندہ رہنا بھی ممکن نہیں، باعزت گزارا تو بہت دور کی بات ہے ہمیں غربت لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور کیا جارہے ۔ یہ ہمارامعاشی قتل نہیں ہے تو اور کیا ہے۔ پنشن تو ایک غریب چادر ہوتی ہے جس سے وہ اپنا جسم ڈھانپتا ہے۔ مہنگائی اس قدر بڑھ چکی ہے کہ آٹا، دال، سبزی، دوائیں، بجلی اور گیس کے بل ادا کرنا ایک اذیت بن چکاہے اکثر ایسے آتے کہ ہیں کوئی نہ کوئی پنشنر دن بھر بھوکا رہتا ہے۔ جب کسی نہ کسی دن دو وقت کی روٹی میسر نہیں ہوتی اورہم سوشل پنشنرذ میں اکثر مہلک بیماریوں مبتلا ہیں جو مناسب علاج کو معالجہ نہیں کراسکتے ضروری دواؤں میں سے صرف کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑتا ہے۔ عمر کے اس حصے میں جہاں آرام اور علاج کی ضرورت ہوتی ہے، وہاں ہمیں ذلت اور فاقوں کا سامنا ہے۔ یہ انتہائی افسوسناک حقیقت ہے کہ جن مزدوروں اور ملازمین نے اپنی جوانی کے سنہرے ماہ و سال اس ملک اور اداروں کی خدمت میں گزار دی، آج وہی بزرگ پنشنرز زندگی کی بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں۔ 11,500 روپے میں نہ علاج ممکن ہے، نہ کرایہ، نہ بل، نہ کھانا۔یہ رقم ہماری مجبوری کا مذاق بن چکی ہے۔
جنابِ عالی! کیا ریاست ماں نہیں ہوتی ریاست کے لیے یہ مناسب ہے کہ اس کے بزرگ شہری بڑھاپے میں اس حال کو پہنچ جائیں؟ کیا ہماری عمر، بیماری اور لاچاری کا کوئی احساس نہیں؟ ہم کسی خیرات کے طلبگار نہیں، صرف اپنا حق مانگ رہے ہیں اس ملک میں دو قانون کیسے ادارے کے حاضر سروس اور ریٹائرڈ ملازمین کو ہماری ہی جمع پونجی سے ملک کے بڑے بڑے اسپتال میں مفت طبی سہولتیں اور ریٹائرڈ ملاذمین کو 10ہزار سے ایک لاکھ پنشن ہم نہیں کہتے کہ ان کو یہ سہولتیں نہیں دو لیکن ہم بھی تو اس ملک کے شہری ہیں ہمیں بھی تو یہ سہولتیں دو ہمارا معاشی قتل تو نہ کرو۔ آپ سے درد مندانہ اور عاجزانہ اپیل ہے کہ خدارا پنشنرز پر رحم فرماتے ہوئے پنشن میں فوری اور خاطر خواہ اضافہ کیا جائے تاکہ ہم باقی زندگی عزت کے ساتھ گزار سکیں، نہ کہ کسمپرسی میں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو اس مظلوم طبقے کی داد رسی کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
درخواست گزار سوشل پنشنرمتین خان
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔23 جولائی ۔2026 ) صوبائی دارالحکومت لاہور میں علامہ اقبال ٹاﺅن مین بلیوارڈکی سروس روڈپربھیکے وال کے نزدیک 10فٹ گہرا شگاف پڑگیا ہے‘اسی طرح جوہر ٹاﺅن مصروف ترین شاہراہ خیابان فردوسی پر ایک اورگڑھا پڑ گیاہے گزشتہ تین روز کے دوران مذکورہ سڑک پریہ دوسرا گڑھا پڑا. بارش کے بعد مرکزی شاہراہ پر گڑھنے پڑنے سے حادثات کا خدشہ بڑھ گیا حکام کے مطابق سڑک کی مرمت کا کام شروع ہوگیا گڑھا پڑنے سے ٹریفک کی روانی جزوی طور پر متا ثر ہوئی دوسری جانب اقبال ٹاﺅن میں بھیکے والے موڑ جانب فاروق ہسپتال سروس روڈ پر 10 فٹ گہرا شگاف پڑ گیا.(جاری ہے)
سڑک کے درمیان پڑنے والے گہرے شگاف کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہو رہی ہے شگاف پڑنے سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، متعلقہ افسران اور واسا کی ٹیمیں موجود ہیں ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ متعلقہ محکموں نے سروس روڈ پر شگاف پر کرنے کیلئے کام شروع کردیا. واضح رہے کہ 17جولائی کو ہونے والی بارش سے فیروزپور روڈ پرنشتر کالونی کے قریب سروس روڈ کا ایک حصہ بیٹھ گیا تھا جس کے نتیجے میں وہاں کھڑی تین موٹر سائیکلیں گڑھے میں جا گریں تھیں. شہریوں کا کہنا ہے کہ پورے شہر کے اندر یہی حال ہے بارشوں میںمتوسط آبادیوںکے اندر سڑکوں کے بیٹھ جانے کے واقعات زیادہ ہوتے ہیں مگر انہیں کوریج نہیں ملتی‘نجی یونیورسٹی کے لیکچرار معاذالاسلام سول انجینئرنگ پڑھاتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ بدقسمتی سے پاکستان میں سب سے زیادہ بدعنوانی اس شعبے میں ہے ناقص میٹریل اور زمین کی کمپریشن عالمی لیول کی نہیں کی جاتی . ان کا کہنا ہے کہ ٹھیکے دار اب کئی دن مٹی کو کمپریس کرنے میں نہیں لگا اور نہ ہی میٹریل ڈالنے کے بعد ٹھیک طریقے سے اسے کمپریس کیا جاتا ہے ‘مٹی نرم ہونے سے اگر پانی راستہ بنالے تو چند ہفتوں میں ہی اس ایریا کے نیچے زمین کھوکھلی ہوجاتی ہے اور بارشوں کے دوران شگاف پڑنے لگتے ہیں. انہوں نے بتایا کہ لاہور فیصل آباد موٹر وے کو جب تجرباتی طور پرچھوٹی گاڑیوں کے لیے کھولا گیا تھا تو لاہور سے فیصل آباد کے سفر کے دوران انہوں نے نوٹ کیا تھا کہ کئی سو ارب کی لاگت سے بنی اس سڑک میں لیول کا بھی خیال نہیں رکھا تھا اور یہ موٹروے مکمل طور پر ناہموار تھا جس پر انہوں نے کچھ دیگر انجینئرز کے ساتھ مل کر ایک تجزیاتی رپورٹ این ایچ اے اور پنجاب حکومت کو ارسال کی تھی تاہم آج تک ہمیں اس پر کوئی جواب نہیں ملا.