Jasarat News:
2026-07-24@00:58:45 GMT

بدنصیبی۔ جوملازمین کا پیچھا نہیں چھوڑتی

اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد ہائیکورٹ کے ڈویژن بینچ نے سنگل بینچ کے فیصلے کیخلاف انٹرا کورٹ اپیلیں مسترد کردیں۔ جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس انعام امین منہاس نے اپیلوں کو میرٹ کے خلاف قرار دے کر مسترد کیا۔ تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ خصوصی کمیٹی کی کاروائی ایڈوائزری کردار اور رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش کرنے کی حد تک محدود تھی۔ اس حد تک کمیٹی کی کارروائی کو آئینی اور قانونی دائرہ اختیار کے مطابق قرار دیا جاتا ہے۔ مزید کہا گیا کہ خصوصی کمیٹی کی جانب سے اداروں کے سربراہان کو ملازمین کی بحالی اور مستقلی کی ہدایات قانون کے مطابق نہیں، ملازمین کی سنیارٹی اور تنخواہوں کے تعین کی ہدایات بھی دائرہ اختیار کے بغیر اور قانون کے مطابق نہیں۔ مزید برآں ایسے اقدامات کو محض بے ضابطگی قرار نہیں دیا جا سکتا بلکہ یہ آئینی قانونی فریم ورک کی خلاف ورزی ہے۔ خصوصی کمیٹی کے یہ اقدامات انتظامیہ اور عدلیہ کے اختیارات میں مداخلت کے مترادف ہیں۔ قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی نے کنٹریکٹ، ڈیلی ویجر اور پروجیکٹ ملازمین کو مستقل کرنے کی ہدایات جاری کی تھیں۔ ملازمین کی بحالی و مستقلی کے لیے قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی برائے برطرف ملازمین کے چیئرمین قادر خان مندوخیل تھے۔ کمیٹی کا کردار ایڈوائزری نوعیت کا تھا، بحالی و مستقلی کی ہدایات جاری کرنا قانون کے مطابق نہیں۔ انٹرا کورٹ اپیلیں مسترد اقدامات انتظامیہ و عدلیہ کے اختیارات میں مداخلت کے مترادف، سول سرونٹس ایکٹ اور قواعد کی بھی خلاف ورزی:تحریری فیصلہ میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے سرکاری ملازمین کی بحالی اور مستقلی سے متعلق قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی کی سفارشات پر عملدرآمد روکنے کے سنگل بینچ کے فیصلے کے خلاف دائر انٹرا کورٹ اپیلیں مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ خصوصی کمیٹی کی جاری ہدایات آئینی اور قانونی دائرہ اختیار سے تجاوز کے مترادف ہیں۔ جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس انعام امین منہاس پر مشتمل ڈویژن بینچ نے تحریری فیصلے میں واضح کیا کہ کارروائی رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش کرنے تک محدود رہتی ہے۔اداروں کے سربراہان کو ملازمین کی بحالی اور مستقلی سے متعلق ہدایات جاری کرنا قانون کے مطابق نہیں تھا، ملازمین کی سینیارٹی اور تنخواہوں کے تعین سے متعلق ہدایات بھی دائرہ اختیار سے باہر تھیں، انہیں محض انتظامی بے ضابطگی نہیں بلکہ آئینی و قانونی فریم ورک کی خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے۔ یہ اقدامات انتظامیہ اور عدلیہ کے اختیارات میں مداخلت کے مترادف اور سول سرونٹس ایکٹ اور متعلقہ قواعد کی بھی خلاف ورزی ہیں۔ تحریری فیصلے میں کہا گیا سنگل بینچ کا خصوصی کمیٹی کی ہدایات غیر قانونی قرار دینا بالکل درست تھا۔متعلقہ ادارے ملازمین کی بحالی، ریگولرائزیشن یا مستقلی کا اختیار رکھتے تھے ، خصوصی کمیٹی کی ہدایات کی بنیاد پر استعمال کیے گئے اختیارات کو قانونی تحفظ حاصل نہیں ہو سکتا۔ عدالت نے کہا وہ متعلقہ اداروں کو ایسے کیسز پر دوبارہ غور کے لیے کوئی ہدایات جاری نہیں کرے گی کیونکہ یہ معاملہ مکمل طور پر اداروں کے اپنے دائرہ اختیار اور صوابدید میں آتا ہے ، اگر وہ چاہیں تو قانون کے مطابق ایسا کر سکتے ہیں۔ واضح رہے خصوصی کمیٹی نے کنٹریکٹ، ڈیلی ویجر اور پراجیکٹ ملازمین مستقل کرنے سے متعلق ہدایات دی تھیں، کمیٹی کے چیئرمین قادر خان مندوخیل تھے۔ قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی کو اختیار نہیں تھا کہ وہ سرکاری ملازمین کی بحالی و مستقلی، سینیارٹی اور تنخواہوں کے تعین کے لیے اداروں کے سربراہان کو ہدایات جاری کرتی، کمیٹی کے پاس صرف ایڈوائزری رول تھا کہ وہ اپنی سفارشات پر مبنی رپورٹ پیش کرتی۔ واضح رہے کی خصوصی پارلیمانی کمیٹی برائے متاثرہ ملازمین کی جانب سے دی گئی احکامات کو اسلام آباد ہائیکورٹ نے کالعدم کر دیا تھا جس کی وجہ سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں ہی پروفیسر ڈاکٹر قادر خان مندوخیل کی جانب سے انٹرا کورٹ اپیل دائر کی گئی تھی جس کا فیصلہ محفوظ تھا۔ عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے تمام اپیلیں خارج کر دی ہیں اور کمیٹی کے احکامات کو کالعدم کیے جانے والا فیصلہ برقرار رکھا ہے۔ اگر یہی فیصلہ سنانا ہی تھا تو پہلی پیشی پر ہی ختم کردیتے۔ تین چار سال کیوں؟ سرکاری اداروں کے اندر کام کرنے والے ڈیلی ویجز و کنٹریکٹ ملازمین کی یہ جوبدنصیبی ہے وہ پیچھا ہی نہیں چھوڑتی۔

 

علی اختر بلوچ گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی قانون کے مطابق نہیں ملازمین کی بحالی خصوصی کمیٹی کی دائرہ اختیار ہدایات جاری اسلام ا باد انٹرا کورٹ کے مترادف خلاف ورزی کی ہدایات اداروں کے کمیٹی کے

پڑھیں:

آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار

آزاد جموں و کشمیر کے شہر میرپور اور اس سے ملحقہ علاقوں میں گزشتہ 47 روز سے معطل انٹرنیٹ سروس جزوی طور پر بحال ہونا شروع ہو گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ابتدائی مرحلے میں صرف موبائل انٹرنیٹ بحال کیا گیا ہے، جبکہ وائی فائی انٹرنیٹ سروس بلنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد بحال کی جائے گی۔

یاد رہے کہ آزاد کشمیر میں 5 جون 2026 کو انٹرنیٹ سروسز معطل کر دی گئی تھیں۔ یہ اقدام اس وقت کیا گیا تھا جب جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جیک) نے اپنے مطالبات کے حق میں احتجاجی تحریک شروع کرتے ہوئے 9 جون کو مظفرآباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا۔

بعد ازاں 5 جون کو ایکشن کمیٹی کے ایک مرکزی رکن پر مبینہ حملے اور مظاہرین و سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کے بعد حکومت نے کمیٹی کو کالعدم قرار دے دیا تھا، جبکہ اسی روز پورے آزاد کشمیر میں بغیر پیشگی اطلاع انٹرنیٹ سروس بھی معطل کر دی گئی تھی۔

اس سے قبل پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں پیپلز پارٹی آزاد کشمیر اور الیکشن کمیشن کی جانب سے انٹرنیٹ بحالی کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی تھی کہ میرپور میں سروس جلد بحال ہو جائے گی۔ انہوں نے یہ توقع بھی ظاہر کی کہ مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں بھی انٹرنیٹ سروس جلد بحال کر دی جائے گی۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب آزاد کشمیر میں قانون ساز اسمبلی کے انتخابات قریب ہیں۔ الیکشن کمیشن پہلے ہی سکیورٹی اور انتخابی انتظامات کو مؤثر بنانے کے لیے انتخابات تین مراحل میں کرانے کا اعلان کر چکا ہے۔

شیڈول کے مطابق پہلے مرحلے میں 27 جولائی کو میرپور ڈویژن، دوسرے مرحلے میں 2 اگست کو مظفرآباد ڈویژن اور مہاجرین کی نشستوں، جبکہ تیسرے اور آخری مرحلے میں 10 اگست کو پونچھ ڈویژن میں پولنگ ہوگی۔دوسری جانب کالعدم ایکشن کمیٹی کا راولاکوٹ میں احتجاج تاحال جاری ہے۔ کمیٹی کے اہم مطالبات میں مہاجرینِ مقبوضہ کشمیر کے لیے آزاد کشمیر اسمبلی میں مختص 12 نشستوں کے خاتمے سمیت دیگر آئینی اور انتظامی امور شامل ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • نیشنل اسپیشل گیمز: کراچی میں  فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد اختتامی تقریب کا انعقاد
  • آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • حضرت داتا گنج بخش ؒ کا سالانہ عرس; انتظامات کے حوالے سے خصوصی اجلاس
  • سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری
  • سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • حیسکو میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف
  • پی اے سی کی تمام ڈسکوز کے ملازمین کی تصدیق کی سفارش