Jasarat News:
2026-06-03@00:52:13 GMT

مزدور تنظیموں کا KDLBپر اجلاس

اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی پریس کلب ابراہیم جلیسی ہال میں مزدور کانفرنس ہوئی جس میں شہر کے نامور و معروف مزدور رہنماؤں اور ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے نمائندوں اور معروف صحافی حضرات نے شرکت کی۔ مشترکہ مزدور اتحاد کا کہنا تھا کہ کراچی ڈاک لیبر بورڈ ایک ریگولیٹری باڈی Regulatory Body اور خودمختار ادارہ Autonomous Bodyہے جو ڈاک ورکرز کو رجسٹرڈ کرتی ہے۔ ڈاک ورکرز کو رولنگ کے تحت ریگولیٹ کرتی ہے۔ یعنی باری باری کام پر بھیجتی ہے۔ اسی طرح اسٹیوڈورنگ کمپنیوں، شپنگ کمپنیوں کو بھی پہلے رجسٹر کرتی ہے اور پھر ان کو ریگولیٹ کرتی ہے۔ ہر کمپنی جب جہاز Berth جیٹی پر لگاتی ہے تو وہ اپنی ضرورت کے مطابق کراچی ڈاک لیبر بورڈ کو اپنی مطلوبہ /درکار ورکرز کی Requisition بھیجتی ہے اور کراچی ڈاک لیبر بورڈ Rolling رولنگ کے تحت ورکروں کو مزکورہ جہاز پر کام پر بھیج دیتی ہے۔ کام کم ہونے کی صورت میں ورکر اپنی باری آنے پر ہی کام پر جاتے ہیں۔
ڈاک ورکرز انسینٹواسکیم کے تحت دو شفٹوں میں کام کرتے ہیں اور آٹھ گھنٹے کام کرنے کے بعد ان کا حساب کتاب کیا جاتا ہے کہ انہوں نے کتنا کارگو ہینڈل کیا ہے۔ اسی حساب سے انہیں اجرت (Wages) دی جاتی ہے، جو کراچی ڈاک لیبر بورڈ میں جمع ہوجاتی ہے اور مہینے کے پورا ہونے پر ورکرز کے اکاؤنٹس میں ٹرانسفر کردی جاتی ہے۔ جبکہ آٹھ گھنٹے سے زیادہ کام کرانے کی صورت میں اوور ٹائم کے پیسے بھی شامل کرلیے جاتے ہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ کارگو پر لیوی سیس/ فی ٹن چارجز ہوتے ہیں وہ بھی وصول کیے جاتے ہیں، جو کراچی ڈاک لیبر بورڈ میں جمع ہوتے ہیں اور اس سے ڈاک ورکرز کی فلاح و بہبود کی جاتی ہے، جس میں طبی سہولیات، بونس، کنوینس الاؤنس اور دیگر سہولیات شامل ہیں۔ جبکہ مہینے کے آخر میں اگر ورکرز کو کام کم ملتا ہے تو ’’گارنٹی مینمم ویجز Guarantee Minimum Wages‘‘کو بھی لیوی سیس سے جمع شدہ رقم سے پورا کیا جاتا ہے۔
کراچی ڈاک لیبر بورڈ کو حکومت کسی قسم کی گرانٹ یا فنڈ نہیں دیتی ہے۔ اور نہ ہی یہ حکومت پر بوجھ ہے۔
حال ہی میں پاکستان انٹرنیشنل کنٹینر ٹرمینل لمیٹڈ کو ابوظہبی پورٹس کو فروخت کردیا گیا اور نام رکھا(KGTL)، جس نے آتے ہی کراچی ڈاک لیبر بورڈ کے خاتمے کا فرمائشی پروگرام شروع کردیا۔ اس کے بعد برتھ نمبر 10 تا 17 بھی AD Ports کو فروخت کردیں گئیں (KGTML) نام رکھا گیا اور معاہدہ میں کراچی ڈاک لیبر بورڈ کو 90 دن میں ختم کرنے کا لکھ دیا گیا جبکہ برتھ نمبر 1 تا 5 اور برتھ نمبر 18 تا 23 پر بھی جہاز لگانے کے لیے ان کی اجازت درکار ہوتی ہے یعنی انہیں اجارہ داری Monopoly دے دی گئی ہے۔ جس کی وجہ سے کارگو ہینڈلنگ کاسٹ بہت بڑھا دی گئی ہے۔
پورٹ پر کام کرنے والے دیگر پورٹ یوزرز Port Usersکو KDLB سے کوئی شکایت نہیں ہے۔ صرف ایک کمپنی جو اپنا منافع کئی گنا بڑھانے کے لیے 2600 ورکرز کا معاشی قتل عام کرنا چاہتی ہے۔ انہی کی فرمائش پر آج حکومت کراچی ڈاک لیبر بورڈ کو ختم کرنا چاہتی ہے۔
اس کے خلاف ادارے میں رجسٹرڈ 6 ٹریڈ یونین تنظیموں نے اتحاد بنا کر جدوجہد شروع کردی ہے اور مورخہ29 دسمبر 2025ء سے ادارہ کے ہیڈ آفس، 58, ویسٹ وہارف روڈ نزد کے پی ٹی ہیڈ آفس پر علامتی بھوک ہڑتال شروع کردی ہے جو ایک بڑے دھرنے میں تبدیل ہوگئی ہے۔
یہ احتجاج جو طویل ہوتاجارہاہے۔ مگر مزدور اپنے مطالبات منوانے کے لیے پرعزم ہیں۔

مطالبات
1) کراچی ڈاک لیبر بورڈ کو ختم کرکے 2600 ورکرز کو بے روزگار کرنے کے پروگرام کو ختم کیا جائے۔
2) سالہاسال سے ریٹائرڈ ہونے والے ملازمین کو پنشن کمیوٹیشن (حق فنڈ) 45 فیصد کٹوتی کے بغیر فی الفور ادا کیا جائے۔
3) کراچی ڈاک لیبر بورڈ کے ورکروں کی خون پسینے کی کمائی کے پی ٹی میں جمع کرنے کے بجائے ڈاک ورکرز (ریگولیشن آف ایمپلائمنٹ) اسکیم 1973 ء اور ایکٹ 1974 ء کے مطابق کراچی ڈاک لیبر بورڈ میں جمع کرائی جائے۔
4) زیرالتواء چارٹر آف ڈیمانڈز فی الفور منظور کیا جائے
5) کراچی ڈاک لیبر بورڈ کا ’’لیوی سیس‘‘ جو 1998ء سے ابھی تک نہیں بڑھایا گیا ہے اس کا ریٹ فی الفور بڑھایا جائے اور ایک ڈالر فی ٹن کیا جائے۔
6) جونیئر ورکرز کو معاہدہ کے مطابق سینئر لسٹ میں شامل کیا جائے۔
7) سی بی اے یونین اور انتظامیہ کے مابین تمام دوطرفہ طے شدہ معاہدات پر لیبر قوانین کے مطابق عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔
تمام شرکاء کانفرنس نے کراچی ڈاک لیبر بورڈ کے ورکروں سے اظہارِ یکجہتی کا اظہار کیا اور ان کی تحریک میں شامل ہونے اور ہر قسم کا تعاون کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ آخر میں طے کیا گیا کہ بوقت 3 بجے، بروز پیر ، بتاریخ 9، فروری 2026 ء بمقام پریس کلب ایک عظیم الشان مظاہرہ ہوگا۔

مقررین
1) اسد اقبال بٹ، چیئرمین ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان
2) حبیب الدین جنیدی، صدر پیپلز لیبر بیورو سندھ
3) ناصر منصور، سیکرٹری جنرل نیشنل ٹریڈ یونین فیڈریشن
4) محمد اسلم سموں، صدر پیپلز لیبر بیورو کراچی ڈویژن
5) فرحت پروین، چیئرپرسن ناؤ کمیونیٹیز
6) عباس حیدر، PILER پاکستان انسٹیٹیوٹ آف لیبر ایجوکیشن اینڈ ریسرچ
7) علی لاشاری، جنرل سیکرٹری پیپلز یونٹی پی آئی اے سی بی اے
8) طاہر حسن خان صحافی رہنماء
9) کامریڈ جنت، ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپیئن
10) زہرہ خان، چیئرپرسن، ہوم بیسڈ ورکرز فیڈریشن
11) خالد خان، نیشنل لیبر فیڈریشن
12) طاہر حسن خان، معروف صحافی رہنماء
13)قاضی خضر حیات، وائس چیئرمین، ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان
14) راؤ نسیم، رہنماء انٹرنیشنل ٹرانسپورٹ فیڈریشن و ریلوے مزدور اتحاد
15) نذیر طاہر، پی آئی اے یونین
16) زبیر علی، جنرل سیکرٹری، ہم خیال گروپ کے ڈی ایل بی
17) سعید بلوچ، فشرفوک فورم
18) شکیل یامین کانگا جنگ پریس ورکرز یونین سی بی اے
19) ریاض عباسی، نیشنل ٹریڈ یونین فیڈریشن
20) کنور ارشد علی خان، چیئرمین، پاکستان ٹریڈ یونین فیڈریشن
21) احمد سعید، صدر ہاربر اینڈ ڈاک ورکرز یونین سی بی اے
22) عبدالرزاق میمن، صدر ڈیموکریٹک ورکرز یونین و جنرل سیکرٹری پاکستان ورکرز فیڈریشن، کراچی
23) حسین بادشاہ، چیئرمین ، کراچی ڈاک لیبر بورڈ ورکرز یونین و جنرل سیکرٹری، پیپلز لیبر بیورو، کراچی ڈویژن
24) افسرخان درانی، صدر ، انصاف لیبر یونین
25) حسینی پڑیال، سرپرست اعلیٰ ، صدر ہاربر اینڈ ڈاک ورکرز یونین سی بی اے
26) داؤد مہمند، جنرل سیکرٹری، صدر ہاربر اینڈ ڈاک ورکرز یونین سی بی اے

ویب ڈیسک گلزار

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ورکرز یونین سی بی اے جنرل سیکرٹری ٹریڈ یونین ڈاک ورکرز کیا جائے ورکرز کو کرتی ہے ہے اور

پڑھیں:

ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟

ایران امریکا مذاکرات میں دُنیا پاکستان کے ثالثی کردار کی تعریف کر رہی ہے۔ یورپی یونین کی نائب صدر کاجا کالاس نے گزشتہ روز اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے کردار کی زبردست تعریف کی۔

اس سے قبل پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے دورہ واشنگٹن کے دوران جب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات کی تو انہوں نے بھی پاکستان کے کردار کی کھل کر تعریف کی۔

لیکن اِس سب کے باوجود امریکا ایران تنازعے کا پائیدار حل نظر نہیں آ رہا جس کی بُنیادی وجہ دونوں فریقین کے درمیان اعتماد کا فقدان اور اسرائیل کی جانب سے غزہ اور اب لبنان میں نہ رُکنے والی جنگی جارحیت ہے، حالاں کہ ایرانی وزیرِخارجہ عباس عراقچی نے اس بات کو کھل کر دُہرایا کہ جنگ بندی معاہدے میں لبنان بھی شامل ہے۔

گزشتہ 10 روز میں کیا پیش رفت ہوئی؟

مختلف سفارتی ذرائع کے مطابق حالیہ دنوں میں تہران اور واشنگٹن کے درمیان متعدد بالواسطہ رابطے اور مذاکرات ہوئے جن کے بنیادی نکات میں جنگ بندی پر عملدرآمد، آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کا تحفظ، پابندیوں میں ممکنہ نرمی، منجمد ایرانی اثاثوں کا معاملہ اور ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق اختلافات کو دور کرنا شامل تھا۔

مغربی میڈیا کے مطابق فریقین ایک عبوری معاہدے کے قریب پہنچ گئے تھے تاہم ایرانی حُکام ایسی خبروں کی تردید کر رہے ہیں۔ ایرانی حُکام اپنا مؤقف کھل کر بیان کر رہے ہیں کہ کسی بھی حتمی معاہدے کے اعلان سے قبل عملی اقدامات اور قابلِ تصدیق ضمانتیں ضروری ہیں، یہی وجہ ہے کہ مذاکرات جاری ہونے کے باوجود حتمی پیش رفت کا اعلان ابھی تک سامنے نہیں آیا۔

لبنان پر اسرائیلی جارحیت اور ایرانی وزیرِ خارجہ کا بیان

تازہ ترین اور شاید سب سے اہم پیش رفت ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی کے اس بیان کی صورت میں سامنے آئی جس میں انہوں نے واضح کیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والی کسی بھی جنگ بندی کا اطلاق پورے خطے پر ہوگا۔

عباس عراقچی نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان سیز فائر کا اطلاق ’تمام محاذوں پر مکمل جنگ بندی‘ سے تعبیر ہے، جس میں لبنان بھی شامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اگر کسی ایک محاذ پر جنگ بندی کی خلاف ورزی ہوئی تو اسے تمام محاذوں پر جنگ بندی کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا اور اس کے نتائج کی ذمہ داری امریکا اور اسرائیل پر عائد ہوگی‘۔

پاکستان کی تازہ سفارتکاری کوششیں

گزشتہ 10 روز کے دوران پاکستان کی سفارتی سرگرمیوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے  تہران کے دورے، ایرانی قیادت سے ملاقاتیں اور پاکستانی حکام کی مسلسل رابطہ کاری نے یہ تاثر مضبوط کیا کہ اسلام آباد تہران اور واشنگٹن کے درمیان ایک اہم سفارتی چینل کے طور پر کام کر رہا ہے۔

اسی دوران پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے دورہ تہران نے سفارتی حلقوں کی خصوصی توجہ حاصل کی۔ متعدد مبصرین کے مطابق پاکستان صرف پیغامات منتقل نہیں کر رہا بلکہ اعتماد سازی اور مذاکراتی عمل کو برقرار رکھنے میں بھی کردار ادا کر رہا ہے۔

واشنگٹن میں اسحاق ڈار اور مارکو روبیو کی ملاقات

پاکستان کی سفارت کاری کی اہمیت اس وقت مزید نمایاں ہوئی جب نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات ہوئی۔اس ملاقات میں ایران، امریکا مذاکرات، علاقائی سلامتی، آبنائے ہرمز اور پاکستان کی سفارتی کوششوں پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

امریکی قیادت کی جانب سے پاکستان کے کردار کو سراہا جانا اس بات کا اشارہ تھا کہ واشنگٹن اسلام آباد کو ایک مؤثر رابطہ کار کے طور پر دیکھ رہا ہے۔

یورپی یونین کی غیر معمولی تائید

یکم جون 2026 کو اسلام آباد میں ہونے والے 8 ویں پاکستان، یورپی یونین اسٹریٹجک ڈائیلاگ نے پاکستان کی سفارتی حیثیت کو مزید تقویت دی۔

اجلاس کی صدارت پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ کاجا کلاس نے مشترکہ  طور پر کی جس کے بعد جاری مشترکہ اعلامیے کا سب سے اہم پہلو یہ تھا کہ کاجا کالاس نے ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کی پاکستانی کوششوں کو تعمیری اور بامعنی قرار دیا۔

اعلامیے میں خاص طور پر امریکا اور ایران کے درمیان پاکستان کی ثالثی اور اسلام آباد مذاکرات کا ذکر کیا گیا ہے۔ یورپی یونین نے نہ صرف پاکستان کے کردار کو سراہا بلکہ آبنائے ہرمز میں آزاد اور محفوظ بحری آمدورفت کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

یہ ایک غیر معمولی سفارتی پیش رفت ہے کیونکہ اس سے قبل پاکستان کی ثالثی کو زیادہ تر علاقائی تناظر میں دیکھا جا رہا تھا، جبکہ اب یورپی یونین بھی اسے باضابطہ طور پر تسلیم کر رہی ہے۔

’آبنائے ہرمز ‘ مذاکرات کا اصل مرکز

موجودہ بحران میں ’آبنائے ہرمز‘ صرف ایک بحری گزرگاہ نہیں بلکہ عالمی سیاست اور معیشت کا مرکزی نقطہ بن چکی ہے۔ دنیا کے بیشتر ممالک کو توانائی سپلائی کا ایک بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔اسی لیے ایران، امریکا، یورپی یونین اور پاکستان سب اس بات پر متفق دکھائی دیتے ہیں کہ ’آبنائے ہرمز‘ میں کشیدگی کم کرنا اور محفوظ جہاز رانی کو یقینی بنانا ضروری ہے۔

اگرچہ جنگ بندی برقرار ہے، سفارتی رابطے بھی جاری ہیں لیکن اختلافی مسائل اب بھی باقی ہیں۔تاہم ایک حقیقت واضح ہے کہ ’ مذاکرات ٹوٹے نہیں بلکہ آگے بڑھے ہیں‘۔

امریکا، ایران، پاکستان اور یورپی یونین سب سفارتی راستے کو زندہ رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اگر آنے والے ہفتوں میں کوئی عبوری معاہدہ، توسیع شدہ جنگ بندی یا وسیع علاقائی سلامتی فریم ورک وجود میں آتا ہے تو پاکستان کو صرف ایک سہولت کار نہیں بلکہ اس پورے سفارتی عمل کے اہم معماروں میں شمار کیا جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسرائیل امریکا ایران پاکستان تہران سفارت کاری کاجا کالاس مذاکرات واشنگٹن یورپی یونین

متعلقہ مضامین

  • اٹلی میں 10500 پاکستانیوں کو لیبر موبیلیٹی معاہدے کے تحت روزگار مواقع ملیں گے, اطالوی سفیر
  • لاہور بلدیاتی الیکشن، 159 یوسیز کا اضافہ، مجموعی تعداد 433 ہوگئی
  • لاہور میں بلدیاتی الیکشن کیلئے حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست کا اجرا
  • لاہور میں بلدیاتی الیکشن کیلئے حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست جاری کر دی گئی
  • صدر زرداری کی اٹلی کے صدر ور عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟
  • خطے میں تنازعات کے پُرامن حل کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے: اسحاق ڈار
  • نمائندہ یورپی یونین کایا کالاس وفد کے ہمراہ پاکستان پہنچ گئیں
  • یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ برائے امور خارجہ آج اسلام آباد پہنچیں گی