Jasarat News:
2026-07-24@03:57:28 GMT

مزدور تنظیموں کا KDLBپر اجلاس

اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی پریس کلب ابراہیم جلیسی ہال میں مزدور کانفرنس ہوئی جس میں شہر کے نامور و معروف مزدور رہنماؤں اور ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے نمائندوں اور معروف صحافی حضرات نے شرکت کی۔ مشترکہ مزدور اتحاد کا کہنا تھا کہ کراچی ڈاک لیبر بورڈ ایک ریگولیٹری باڈی Regulatory Body اور خودمختار ادارہ Autonomous Bodyہے جو ڈاک ورکرز کو رجسٹرڈ کرتی ہے۔ ڈاک ورکرز کو رولنگ کے تحت ریگولیٹ کرتی ہے۔ یعنی باری باری کام پر بھیجتی ہے۔ اسی طرح اسٹیوڈورنگ کمپنیوں، شپنگ کمپنیوں کو بھی پہلے رجسٹر کرتی ہے اور پھر ان کو ریگولیٹ کرتی ہے۔ ہر کمپنی جب جہاز Berth جیٹی پر لگاتی ہے تو وہ اپنی ضرورت کے مطابق کراچی ڈاک لیبر بورڈ کو اپنی مطلوبہ /درکار ورکرز کی Requisition بھیجتی ہے اور کراچی ڈاک لیبر بورڈ Rolling رولنگ کے تحت ورکروں کو مزکورہ جہاز پر کام پر بھیج دیتی ہے۔ کام کم ہونے کی صورت میں ورکر اپنی باری آنے پر ہی کام پر جاتے ہیں۔
ڈاک ورکرز انسینٹواسکیم کے تحت دو شفٹوں میں کام کرتے ہیں اور آٹھ گھنٹے کام کرنے کے بعد ان کا حساب کتاب کیا جاتا ہے کہ انہوں نے کتنا کارگو ہینڈل کیا ہے۔ اسی حساب سے انہیں اجرت (Wages) دی جاتی ہے، جو کراچی ڈاک لیبر بورڈ میں جمع ہوجاتی ہے اور مہینے کے پورا ہونے پر ورکرز کے اکاؤنٹس میں ٹرانسفر کردی جاتی ہے۔ جبکہ آٹھ گھنٹے سے زیادہ کام کرانے کی صورت میں اوور ٹائم کے پیسے بھی شامل کرلیے جاتے ہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ کارگو پر لیوی سیس/ فی ٹن چارجز ہوتے ہیں وہ بھی وصول کیے جاتے ہیں، جو کراچی ڈاک لیبر بورڈ میں جمع ہوتے ہیں اور اس سے ڈاک ورکرز کی فلاح و بہبود کی جاتی ہے، جس میں طبی سہولیات، بونس، کنوینس الاؤنس اور دیگر سہولیات شامل ہیں۔ جبکہ مہینے کے آخر میں اگر ورکرز کو کام کم ملتا ہے تو ’’گارنٹی مینمم ویجز Guarantee Minimum Wages‘‘کو بھی لیوی سیس سے جمع شدہ رقم سے پورا کیا جاتا ہے۔
کراچی ڈاک لیبر بورڈ کو حکومت کسی قسم کی گرانٹ یا فنڈ نہیں دیتی ہے۔ اور نہ ہی یہ حکومت پر بوجھ ہے۔
حال ہی میں پاکستان انٹرنیشنل کنٹینر ٹرمینل لمیٹڈ کو ابوظہبی پورٹس کو فروخت کردیا گیا اور نام رکھا(KGTL)، جس نے آتے ہی کراچی ڈاک لیبر بورڈ کے خاتمے کا فرمائشی پروگرام شروع کردیا۔ اس کے بعد برتھ نمبر 10 تا 17 بھی AD Ports کو فروخت کردیں گئیں (KGTML) نام رکھا گیا اور معاہدہ میں کراچی ڈاک لیبر بورڈ کو 90 دن میں ختم کرنے کا لکھ دیا گیا جبکہ برتھ نمبر 1 تا 5 اور برتھ نمبر 18 تا 23 پر بھی جہاز لگانے کے لیے ان کی اجازت درکار ہوتی ہے یعنی انہیں اجارہ داری Monopoly دے دی گئی ہے۔ جس کی وجہ سے کارگو ہینڈلنگ کاسٹ بہت بڑھا دی گئی ہے۔
پورٹ پر کام کرنے والے دیگر پورٹ یوزرز Port Usersکو KDLB سے کوئی شکایت نہیں ہے۔ صرف ایک کمپنی جو اپنا منافع کئی گنا بڑھانے کے لیے 2600 ورکرز کا معاشی قتل عام کرنا چاہتی ہے۔ انہی کی فرمائش پر آج حکومت کراچی ڈاک لیبر بورڈ کو ختم کرنا چاہتی ہے۔
اس کے خلاف ادارے میں رجسٹرڈ 6 ٹریڈ یونین تنظیموں نے اتحاد بنا کر جدوجہد شروع کردی ہے اور مورخہ29 دسمبر 2025ء سے ادارہ کے ہیڈ آفس، 58, ویسٹ وہارف روڈ نزد کے پی ٹی ہیڈ آفس پر علامتی بھوک ہڑتال شروع کردی ہے جو ایک بڑے دھرنے میں تبدیل ہوگئی ہے۔
یہ احتجاج جو طویل ہوتاجارہاہے۔ مگر مزدور اپنے مطالبات منوانے کے لیے پرعزم ہیں۔

مطالبات
1) کراچی ڈاک لیبر بورڈ کو ختم کرکے 2600 ورکرز کو بے روزگار کرنے کے پروگرام کو ختم کیا جائے۔
2) سالہاسال سے ریٹائرڈ ہونے والے ملازمین کو پنشن کمیوٹیشن (حق فنڈ) 45 فیصد کٹوتی کے بغیر فی الفور ادا کیا جائے۔
3) کراچی ڈاک لیبر بورڈ کے ورکروں کی خون پسینے کی کمائی کے پی ٹی میں جمع کرنے کے بجائے ڈاک ورکرز (ریگولیشن آف ایمپلائمنٹ) اسکیم 1973 ء اور ایکٹ 1974 ء کے مطابق کراچی ڈاک لیبر بورڈ میں جمع کرائی جائے۔
4) زیرالتواء چارٹر آف ڈیمانڈز فی الفور منظور کیا جائے
5) کراچی ڈاک لیبر بورڈ کا ’’لیوی سیس‘‘ جو 1998ء سے ابھی تک نہیں بڑھایا گیا ہے اس کا ریٹ فی الفور بڑھایا جائے اور ایک ڈالر فی ٹن کیا جائے۔
6) جونیئر ورکرز کو معاہدہ کے مطابق سینئر لسٹ میں شامل کیا جائے۔
7) سی بی اے یونین اور انتظامیہ کے مابین تمام دوطرفہ طے شدہ معاہدات پر لیبر قوانین کے مطابق عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔
تمام شرکاء کانفرنس نے کراچی ڈاک لیبر بورڈ کے ورکروں سے اظہارِ یکجہتی کا اظہار کیا اور ان کی تحریک میں شامل ہونے اور ہر قسم کا تعاون کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ آخر میں طے کیا گیا کہ بوقت 3 بجے، بروز پیر ، بتاریخ 9، فروری 2026 ء بمقام پریس کلب ایک عظیم الشان مظاہرہ ہوگا۔

مقررین
1) اسد اقبال بٹ، چیئرمین ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان
2) حبیب الدین جنیدی، صدر پیپلز لیبر بیورو سندھ
3) ناصر منصور، سیکرٹری جنرل نیشنل ٹریڈ یونین فیڈریشن
4) محمد اسلم سموں، صدر پیپلز لیبر بیورو کراچی ڈویژن
5) فرحت پروین، چیئرپرسن ناؤ کمیونیٹیز
6) عباس حیدر، PILER پاکستان انسٹیٹیوٹ آف لیبر ایجوکیشن اینڈ ریسرچ
7) علی لاشاری، جنرل سیکرٹری پیپلز یونٹی پی آئی اے سی بی اے
8) طاہر حسن خان صحافی رہنماء
9) کامریڈ جنت، ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپیئن
10) زہرہ خان، چیئرپرسن، ہوم بیسڈ ورکرز فیڈریشن
11) خالد خان، نیشنل لیبر فیڈریشن
12) طاہر حسن خان، معروف صحافی رہنماء
13)قاضی خضر حیات، وائس چیئرمین، ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان
14) راؤ نسیم، رہنماء انٹرنیشنل ٹرانسپورٹ فیڈریشن و ریلوے مزدور اتحاد
15) نذیر طاہر، پی آئی اے یونین
16) زبیر علی، جنرل سیکرٹری، ہم خیال گروپ کے ڈی ایل بی
17) سعید بلوچ، فشرفوک فورم
18) شکیل یامین کانگا جنگ پریس ورکرز یونین سی بی اے
19) ریاض عباسی، نیشنل ٹریڈ یونین فیڈریشن
20) کنور ارشد علی خان، چیئرمین، پاکستان ٹریڈ یونین فیڈریشن
21) احمد سعید، صدر ہاربر اینڈ ڈاک ورکرز یونین سی بی اے
22) عبدالرزاق میمن، صدر ڈیموکریٹک ورکرز یونین و جنرل سیکرٹری پاکستان ورکرز فیڈریشن، کراچی
23) حسین بادشاہ، چیئرمین ، کراچی ڈاک لیبر بورڈ ورکرز یونین و جنرل سیکرٹری، پیپلز لیبر بیورو، کراچی ڈویژن
24) افسرخان درانی، صدر ، انصاف لیبر یونین
25) حسینی پڑیال، سرپرست اعلیٰ ، صدر ہاربر اینڈ ڈاک ورکرز یونین سی بی اے
26) داؤد مہمند، جنرل سیکرٹری، صدر ہاربر اینڈ ڈاک ورکرز یونین سی بی اے

ویب ڈیسک گلزار

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ورکرز یونین سی بی اے جنرل سیکرٹری ٹریڈ یونین ڈاک ورکرز کیا جائے ورکرز کو کرتی ہے ہے اور

پڑھیں:

کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار 3 ڈاکو ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک 

کراچی (نوائے وقت رپورٹ) ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہوگئے۔ سپیشل انویسٹی گیشن (ایس آئی ایو) نے دعویٰ کیا کہ گلشنِ معمار، عمر بروہی گوٹھ میں گرفتار ڈاکوؤں کی نشاندہی پر ان کے فرار ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے چھاپہ مارا تو ملزموں نے فائرنگ کردی جس سے پولیس اہلکار بھی زخمی ہوگیا۔ ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے مارے گئے۔ 13 جولائی کو کراچی کے علاقے کلفٹن میں بنک کے باہر ڈاکوؤں کی فائرنگ سے نوجوان ڈاکٹر آکاش جاں بحق ہوگیا تھا جب کہ ملزم بنک سے نکالے گئے 50 لاکھ روپے میں سے 25 لاکھ لوٹ کر فرار ہو گئے تھے۔

متعلقہ مضامین

  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار 3 ڈاکو ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک 
  • کراچی میں کھلے مین ہول میں گر کر 7 سالہ بچہ جاں بحق
  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائممقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اجلاس طلب
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
  • حضرت داتا گنج بخش ؒ کا سالانہ عرس; انتظامات کے حوالے سے خصوصی اجلاس
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام