ڈائریکٹر سمیع جلبانی ، انسپکٹر کاشف علی کے نامعلوم اثاثوں پر سوالیہ نشان ،حکومتی خزانے کو نقصان
اللہ والا ٹاؤن سیکٹر 31Gپلاٹ L11 پر بلند ہوتی عمارت انسانی جانوں کیلئے تشویشناک

سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے افسران کی ملی بھگت سے کورنگی میں غیرقانونی تعمیرات کا دھندہ عوامی سلامتی اور قومی خزانے دونوں کے لیے خطرہ بن چکا ہے ۔مراعات یافتہ عہدوں پر فائز ہونے کے باوجود افسران لاکھوں روپے وصول کرکے بغیر منظورشدہ نقشوں اور دستاویزات کے تعمیراتی کاموں کی ‘چھوٹ’ دے رہے ہیں، جس سے حکومتی محصولات کا بڑے پیمانے پر نقصان ہو رہا ہے ۔جرأت سروے کے دوران حاصل کی گئی زیر نظر تصاویر میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ اللہ والا ٹاؤن سیکٹر 31G کے پلاٹ نمبر L11 پر بلند عمارت کی تعمیر کا عمل جاری ہے ضابطوں کے بر خلاف بلند ہوتی عمارت میں ہنگامی اخراج کی سنگین خلاف ورزیاں شامل ہیں جو قیمتی انسانی جانوں کیلئے انتہائی تشویشناک ہے ۔ذمہ داران میں سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر سمیع جلبانی اور بلڈنگ انسپکٹر کاشف علی نمایاں ہیں،جن کے نامعلوم اور گمنام ذرائع سے حاصل کیے گئے اثاثوں میں حالیہ عرصے میں غیرمعمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ یہ اثاثے ان کی قانونی آمدنی سے کہیں زیادہ بتائے جاتے ہیں۔عوام کی جانب سے سوال اٹھ رہا ہے کہ کیا یہ ادارہ قانون نافذ کرنے کے بجائے تعمیراتی مافیا کے ہاتھوں کٹھ پتلی بنا ہوا ہے ؟ حکومتی سطح پر فوری اور شفاف کارروائی کا مطالبہ ہو رہا ہے ، تاکہ نہ صرف غیرقانونی تعمیرات کا مکمل سدِباب ہو، بلکہ عوام کے پیسے پر پلنے والے بدعنوان افسران کو بھی قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے ۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

پڑھیں:

وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم

وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔

وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔

متعلقہ مضامین

  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • پاکستان میں سریے کی قیمت آج 23 جولائی 2026، تازہ ریٹس جاری
  • مون سون کا طاقتورسپیل ، جھل تھل ایک ہوگیا،2 وکلاء کے چیمبر گرگئے
  • آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے، وزیراعظم شریف
  • شہباز شریف سمیت حکومتی شخصیات کو 21 تحائف ملے، توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن