سندھ بلڈنگ، کورنگی میں ادارے کی ملی بھگت سے تعمیراتی مافیا کا دھندا
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
ڈائریکٹر سمیع جلبانی ، انسپکٹر کاشف علی کے نامعلوم اثاثوں پر سوالیہ نشان ،حکومتی خزانے کو نقصان
اللہ والا ٹاؤن سیکٹر 31Gپلاٹ L11 پر بلند ہوتی عمارت انسانی جانوں کیلئے تشویشناک
سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے افسران کی ملی بھگت سے کورنگی میں غیرقانونی تعمیرات کا دھندہ عوامی سلامتی اور قومی خزانے دونوں کے لیے خطرہ بن چکا ہے ۔مراعات یافتہ عہدوں پر فائز ہونے کے باوجود افسران لاکھوں روپے وصول کرکے بغیر منظورشدہ نقشوں اور دستاویزات کے تعمیراتی کاموں کی ‘چھوٹ’ دے رہے ہیں، جس سے حکومتی محصولات کا بڑے پیمانے پر نقصان ہو رہا ہے ۔جرأت سروے کے دوران حاصل کی گئی زیر نظر تصاویر میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ اللہ والا ٹاؤن سیکٹر 31G کے پلاٹ نمبر L11 پر بلند عمارت کی تعمیر کا عمل جاری ہے ضابطوں کے بر خلاف بلند ہوتی عمارت میں ہنگامی اخراج کی سنگین خلاف ورزیاں شامل ہیں جو قیمتی انسانی جانوں کیلئے انتہائی تشویشناک ہے ۔ذمہ داران میں سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر سمیع جلبانی اور بلڈنگ انسپکٹر کاشف علی نمایاں ہیں،جن کے نامعلوم اور گمنام ذرائع سے حاصل کیے گئے اثاثوں میں حالیہ عرصے میں غیرمعمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ یہ اثاثے ان کی قانونی آمدنی سے کہیں زیادہ بتائے جاتے ہیں۔عوام کی جانب سے سوال اٹھ رہا ہے کہ کیا یہ ادارہ قانون نافذ کرنے کے بجائے تعمیراتی مافیا کے ہاتھوں کٹھ پتلی بنا ہوا ہے ؟ حکومتی سطح پر فوری اور شفاف کارروائی کا مطالبہ ہو رہا ہے ، تاکہ نہ صرف غیرقانونی تعمیرات کا مکمل سدِباب ہو، بلکہ عوام کے پیسے پر پلنے والے بدعنوان افسران کو بھی قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
پڑھیں:
سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
فائل فوٹوسندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔
دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔
اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔
جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔
حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔
لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔
صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔
صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔
جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔