Juraat:
2026-07-24@00:52:26 GMT

افغانستان میں متحرک دہشت گرد تنظیمیں پوری دنیا کیلئے خطرہ

اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT

افغانستان میں متحرک دہشت گرد تنظیمیں پوری دنیا کیلئے خطرہ

کابل میں 20 سے زیادہ دہشت گرد تنظیمیں کام کر رہی ہیں،وزیر مملکت بلال اظہر کیانی
بات چیت کیلئے تیار، افغانستان دہشت گردی کیخلاف اقدامات کرے،تقریب سے خطاب

وزیر مملکت خزانہ بلال اظہر کیانی نے کہا ہے کہ افغانستان میں 20 سے زیادہ دہشت گرد تنظیمیں کام کر رہی ہیں جو پاکستان کے ساتھ ساتھ پوری دنیا کے لیے خطرہ ہیں،ہر رہاست کو حق ہے کہ اپنے تحفظ کے لئے ہر ممکن اقدام کرے،پاکستان اب سخت اقدامات کر رہا ہے۔بات چیت کیلئے تیار، افغانستان دہشت گردی کے خلاف اقدامات کرے۔ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت طالبان سے ہر ممکن حد تک ڈپلومیسی سے معاملات طے کرنے کی کوشش کرتی رہی، پاکستان کا موقف تھا کہ افغانستان کی زمین دہشتگردوں کے لئے استعمال نہ ہو گی،گزشتہ برس اعلی سطح وفود افغانستان جاتے رہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے کوشش کی کہ سرحد پار دہشت گردی روک سکیں،بدقسمتی سے سرحد پاردہشتگردی نہ رک سکی، سرحد پار دیشتگردی کسی ڈپلومیسی کی ناکامی نہیں تھی،افغانستان سے سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی۔ وزیر مملکت نے کہاکہ ٹی ٹی پی اور بی ایل اے سرحد پار سے سہولت کاری لیتے رہے،کے پی اور بلوچستان میں سرحد پار دہشت گردی سے ہمارے جوان شہید ہیں، ہر رہاست کو حق ہے کہ اپنے تحفظ کے لئے ہر ممکن اقدام کرے،پاکستان اب سخت اقدامات کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل میں بھی نتیجہ خیز بات چیت کے لئے تیار ہیں تاہم افغانستان کو دہشتگردی کے خاتمے کے لئے مثبت دیرپا اقدام کرنا ہوں گے،ہمیں تو یہ بھی خدشہ یے کہ انسانی بنیادوں پر دی جا رہی امداد طالبان رجیم کی مضبوطی پر خرچ ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم پاکستان میں امن چاہتے ہیں، مختلف اپریشنز میں مارے جانے والے متعدد افغانی دیشت گرد تھے،ٹی ٹی پی کو سیف ہیون افغانستان سے فراہم کی جاتی ہے، ہم نے چار دہائیوں تک افغانیوں کے لئے اپنے دروازے کھولے رکھے،ہم نے کھلے دل سے افغان بہن بھائیوں کی مدد کی تھی،اب ہمارے پاس کوئی آپشن نہیں کہ ان حالات میں مدد جاری رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ افغان شہریوں کو مرحلہ وار واپس بھیج رہے ہیں، کوئی ملک بھی بغیر دستاویزات یا رجسٹریشن کے دوسرے ملک کے شہریوں کو نہیں رکھ سکتا،انسانی بنیادوں پر مدد کو تیار ہیں لیکن اس کے لئے دہشتگردی روکنے کے لئے افغان حکومت کو اقدام کرنے ہوں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ اقدامات کر سرحد پار کے لئے

پڑھیں:

کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری

پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔

انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔

متعلقہ مضامین

  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار