بھارتی پروپیگنڈا مشینری بے نقاب: وزارتِ دفاع کا ڈی پی آر کیسے بیانیہ بناتا ہے اور اس پر کتنا خرچ آتا ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
بھارت میں دفاعی بیانیہ تشکیل دینے اور اسے اندرون و بیرونِ ملک پھیلانے کی ذمہ داری بڑی حد تک ڈائریکٹوریٹ آف پبلک ریلیشنز (DPR) پر عائد ہے، جو وزارتِ دفاع (MoD) کا مرکزی ابلاغی و اسٹریٹجک میسجنگ بازو سمجھا جاتا ہے۔
ڈی پی آر کا کردار:
ڈی پی آر کا بنیادی کام بھارتی مسلح افواج اور دفاعی پالیسی سے متعلق ایسی معلومات اور بیانیہ تشکیل دینا ہے جو عوامی رائے، میڈیا کوریج اور بین الاقوامی تاثر کو متاثر کرسکے۔ اس کے ذریعے فوجی سرگرمیوں کو مثبت انداز میں پیش کیا جاتا ہے اور حساس معاملات پر ریاستی مؤقف کو نمایاں کیا جاتا ہے۔
مزید پڑھیں: امریکا۔بھارت دفاعی معاہدہ: ٹرمپ کی دوہری محبت
اہم ذمہ داریاں اور سرگرمیاں:
ڈی پی آر کی سرگرمیوں میں میڈیا ریلیشنز، پریس بریفنگز، ڈیجیٹل آؤٹ ریچ، سوشل میڈیا مہمات، فوجی مشقوں کی تشہیر اور عوامی آگاہی کی مہمات شامل ہیں۔ اس کے علاوہ بیانیاتی نگرانی (Narrative Monitoring) ،غلط معلومات کے تدارک اور معلوماتی جنگ (Information Warfare) کے پہلو بھی اس کے دائرۂ کار میں آتے ہیں۔
علاقائی اور بین الاقوامی مہمات:
ڈی پی آر نہ صرف بھارت کے اندر بلکہ پڑوسی ممالک اور عالمی سطح پر بھی تعلقاتِ عامہ کی سرگرمیاں چلاتا ہے، جن کا مقصد بھارتی دفاعی پالیسی کو ’ذمہ دار اور طاقتور‘ کے طور پر پیش کرنا بتایا جاتا ہے۔
تنظیمی ڈھانچہ:
ڈی پی آر ایک وسیع نیٹ ورک رکھتا ہے جس میں مرکزی قیادت، علاقائی دفاتر، تینوں مسلح افواج سے منسلک یونٹس اور ایک بڑا افرادی ڈھانچہ شامل ہے۔ یہ ادارہ براہِ راست وزارتِ دفاع کے تحت کام کرتا ہے۔
مزید پڑھیں: پاکستان کا خوف: بھارت کے دفاعی بجٹ میں 20 فیصد اضافے کا مطالبہ
بجٹ اور اخراجات:
کھلے ذرائع اور سرکاری بجٹ دستاویزات کے مطابق، ڈی پی آر کے لیے مختص رقوم کو ابلاغی سرگرمیوں، عملے کی تنخواہوں، میڈیا پروڈکشن، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور ہنگامی مہمات میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ اگرچہ مکمل تفصیلات عوامی سطح پر محدود ہیں، تاہم مجموعی طور پر یہ بجٹ دفاعی شعبے میں ’اسٹریٹجک کمیونیکیشن‘ کے نام پر ایک قابلِ ذکر حصہ بن چکا ہے۔
ڈیفنس تھنک ٹینکس کا کردار:
ڈی پی آر کے ساتھ ساتھ مختلف دفاعی تھنک ٹینکس بھی وزارتِ دفاع اور مسلح افواج کو اسٹریٹجک ریسرچ، پالیسی تجزیہ اور مشاورتی معاونت فراہم کرتے ہیں۔ یہ ادارے بیانیہ سازی اور پالیسی جواز فراہم کرنے میں اہم سمجھے جاتے ہیں۔
مشترکہ بجٹ تصویر:
ڈی پی آر اور دفاعی تھنک ٹینکس کے لیے مختص مجموعی فنڈز بھارت کے دفاعی ابلاغ اور علمی نیٹ ورک کو مضبوط بنانے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں، جسے ناقدین ایک منظم ریاستی پروپیگنڈا ایکو سسٹم قرار دیتے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارتی مسلح افواج ڈائریکٹوریٹ آف پبلک ریلیشنز ڈی پی آر وزارت دفاع.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بھارتی مسلح افواج ڈائریکٹوریٹ آف پبلک ریلیشنز ڈی پی آر وزارت دفاع مسلح افواج ڈی پی آر جاتا ہے کے لیے
پڑھیں:
’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
پاکستان کے معروف ریپر اور گلوکار طلحہ انجم نے نئی دہلی میں تعلیمی نظام کے خلاف احتجاج کرنے والے بھارتی طلبا سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے ان کے حوصلے اور ثابت قدمی کو سراہا ہے۔ انہوں نے طلبا پر ہونے والی پولیس کارروائی کے بعد ایک پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے غصے اور احساسات کو بخوبی سمجھتے ہیں۔
طلحہ انجم نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری پر بھارتی طلبا کے احتجاج کی ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں مظاہرین پر آنسو گیس اور لاٹھی چارج ہوتے دکھایا گیا۔ ویڈیو کے ساتھ انہوں نے لکھا کہ ’بھارت کے طلبا مظاہرین کے نام، مجھے آپ کی ثابت قدمی کا بے حد احترام ہے، میں آپ کی مایوسی اور غصے کو سمجھ سکتا ہوں، اور یہ بھی جانتا ہوں کہ آپ کے ساتھ کیا کیا جا رہا ہے، مضبوط رہیں۔‘
طلحہ انجم پاکستان کے سب سے زیادہ سنے جانے والے موسیقاروں میں شمار ہوتے ہیں اور اسٹریمنگ پلیٹ فارم اسپاٹیفائی پر ان کی مقبولیت کئی ریکارڈ قائم کر چکی ہے۔ بھارت میں بھی ان کے مداحوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ گزشتہ برس نیپال میں ایک کنسرٹ کے دوران ایک مداح کی جانب سے بھارتی پرچم پیش کیے جانے پر وہ خبروں میں آئے تھے، بعد ازاں انہوں نے پاکستان میں اس معاملے پر وضاحت بھی کی تھی۔
سماجی اور انسانی مسائل پر کھل کر مؤقف اختیار کرنے والے طلحہ انجم اس سے قبل بھی کئی معاملات پر آواز بلند کر چکے ہیں۔ اپریل میں صومالیہ کے ساحل کے قریب قزاقوں کے قبضے میں جانے والے پاکستانی ملاحوں کی رہائی کے لیے انہوں نے حکومت سے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا تھا اور وزارتِ خارجہ سے متاثرہ خاندانوں کے لیے مستقل ہیلپ لائن قائم کرنے کی اپیل بھی کی تھی۔
دوسری جانب بھارت میں تعلیمی امتحانات کے مبینہ پیپر لیکس کے خلاف احتجاج کا سلسلہ گزشتہ ماہ سے جاری ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے پلیٹ فارم سے ہونے والے اس دھرنے میں طلبہ وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے اور تعلیمی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ حالیہ دنوں پارلیمنٹ کی جانب مارچ کی کوشش کے دوران پولیس نے مظاہرین کو روکنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔