کراچی، رینجرز اور ایس آئی یو کی بڑی کارروائی، فائرنگ کے تبادلے کے بعد 4 ملزمان گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
کراچی:
شہر قائد میں سندھ رینجرز اور اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ (ایس آئی یو) پولیس نے پرانا گولیمار کے علاقے میں بھتہ خوروں اور منشیات فروشوں کے خلاف مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے فائرنگ کے تبادلے کے بعد دو زخمیوں سمیت چار ملزمان کو گرفتار کر لیا۔
ترجمان سندھ رینجرز کے مطابق کارروائی خفیہ اطلاع پر کی گئی، اس دوران ملزمان نے قانون نافذ کرنے والے اداروں پر فائرنگ کی، جس پر جوابی کارروائی کی گئی۔
مقابلے کے نتیجے میں دو ملزمان زخمی حالت میں گرفتار ہوئے جبکہ مزید دو کو بھی حراست میں لے لیا گیا۔
مزید پڑھیںکراچی، شہر میں دو پولیس مقابلے، دو زخمیوں سمیت 3 ڈاکو گرفتار
چھیپا حکام کے مطابق زخمی ملزمان کی شناخت عبدالحق اور راشد کے ناموں سے ہوئی ہے، جنہیں فوری طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
ترجمان کے مطابق گرفتار ملزمان کے قبضے سے بھاری مقدار میں منشیات اور غیر قانونی اسلحہ برآمد ہوا ہے۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق ملزمان علاقے میں بھتہ خوری اور منشیات فروشی میں ملوث تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کے مطابق
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک