جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر زیمبیا سے ڈی پورٹ 3 افراد گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 8th, February 2026 GMT
کراچی:
وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے) امیگریشن نے جناح انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر زیمبیا سے ڈی پورٹ 3 افراد کو گرفتار کرلیا۔
ذرائع کے مطابق کراچی ائیرپورٹ پر تعینات امگریشن عملے نے 3 نوجوانوں کو زیمبیا سے ڈی پورٹ ہونے کے بعد وطن واپسی پر گرفتار کرلیا۔
ذرائع نے بتایا کہ ابتدائی تفتیش کے مطابق جنوبی افریقہ جانے کی غرض سے مزمل علی نے ایجنٹ نوید کو 18 لاکھ روپے ادا کیے۔
ایف آئی اے امیگریشن ذرائع نے بتایا کہ ارسلان اور اویس نے ایجنٹ کو فی کس 3 لاکھ امریکی ڈالرز کی ایجنٹ کو ادائیگی کی، ملزمان زیمبیا میں داخلے سے قبل ڈیڑھ ماہ تک تنزانیہ میں مقیم رہے۔
انہوں نے بتایا کہ زیمبیا میں غیر قانونی داخلے کی کوشش پر تینوں ملزمان کو گرفتاری کے بعد کراچی ڈی پورٹ کر دیا گیا اور ملزمان کو مزید کارروائی کے لیے انسداد انسانی اسمگلنگ سرکل کراچی منتقل کر دیا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ڈی پورٹ
پڑھیں:
سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
مزمل حسین ہالیپوٹو کی نااہلی کے باعث کراچی کا بنیادی ڈھانچہ شدید دباؤ کا شکار
پی ای سی ایچ ایس بلاک 2میں رہائشی پلاٹ پر کمرشل یونٹس تعمیر، آصف شیخ ملوث
شہر قائد میں رہائشی علاقوں میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے ، جس کے باعث شہر کا بنیادی ڈھانچہ شدید متاثر ہو رہا ہے ۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل مزمل حسین ہالیپوٹو کی ناقص نگرانی اور انتظامی کمزوریوں کے سبب رہائشی پلاٹوں پر کمرشل پورشن اور یونٹس کی تعمیرات میں مسلسل دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے ۔تازہ معاملہ پی ای سی ایچ ایس بلاک 2کے پلاٹ نمبر 40-K/40Mکا سامنے آیا ہے ، جہاں مقامی ذرائع کے مطابق رہائشی حیثیت رکھنے والی اراضی پر کمرشل سرگرمیوں اور یونٹس کے قیام کے ذریعے مبینہ طور پر قبضے کیے گئے ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ تمام سرگرمیاں آصف شیخ کی سربراہی میں انجام دی جا رہی ہیں، جبکہ متعلقہ ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔شہریوں اور سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ غیر قانونی تعمیرات اور کمرشلائزیشن کے خلاف فوری کارروائی کی جائے ، ذمہ دار افسران کا احتساب کیا جائے اور کراچی کے متاثرہ انفراسٹرکچر کو مزید نقصان سے بچانے کے لیے مؤثر اقدامات اٹھائے جائیں۔