کراچی: ڈکیتی کی وارداتوں میں ملوث 4 رکنی گروہ گرفتار، منشیات فروشوں کے خلاف بھی کارروائی
اشاعت کی تاریخ: 8th, February 2026 GMT
کراچی کے علاقے سائٹ اے اور جیکسن میں پولیس نے خفیہ اطلاع پر کارروائیاں کرتے ہوئے گھروں میں ڈکیتی اور منشیات فروشی میں ملوث ملزمان کو گرفتار کر لیا۔
سائٹ اے پولیس نے اہم کارروائی کے دوران گھروں میں ڈکیتی، لوٹ مار اور دیگر سنگین وارداتوں میں ملوث 4 رکنی ڈکیت گروہ کو گرفتار کیا۔ پولیس کے مطابق گرفتار ملزمان کے قبضے سے دو پستول اور چوری شدہ موبائل فون برآمد کر لیے گئے ہیں۔
گرفتار ملزمان میں نورالحق، ساجد، ناصر اور سہیل شامل ہیں۔ ایس ایس پی کیماڑی امجد احمد شیخ کے مطابق ملزمان کا سابقہ مجرمانہ ریکارڈ بھی حاصل کر لیا گیا ہے، جس میں ڈکیتی، چوری، لوٹ مار، قتل اور پولیس پر فائرنگ جیسے سنگین مقدمات شامل ہیں۔ گرفتار ملزمان کے خلاف مزید مقدمات درج کر کے تفتیش کا دائرہ وسیع کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب جیکسن پولیس نے بھی خفیہ اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے منشیات فروشی میں ملوث 6 ملزمان کو گرفتار کر لیا۔ پولیس نے ملزمان کے قبضے سے آئس، تنزانیہ اور منشیات کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم برآمد کی ہے۔
گرفتار منشیات فروشوں کی شناخت سجاد، مزمل، انور، راحت، سجاد حسن اور عابد کے نام سے ہوئی ہے۔ پولیس کے مطابق تمام ملزمان عادی جرائم پیشہ ہیں اور ان کے خلاف قانونی کارروائی کا عمل جاری ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا
سیالکوٹ(نیوز ڈیسک) ٹک ٹاکر حکیم بابر سے متعلق مبینہ زہر خوری کیس میں نامزد ملزم صفدر کے بھائی ملک سلیم کھوکھر کا ویڈیو بیان منظر عام پر آگیا جس میں انہوں نے تمام الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔
ویڈیو بیان میں ملک سلیم کھوکھر نے دعویٰ کیا کہ محمد افضل عرف حکیم بابر نے سوشل میڈیا پر ویوز حاصل کرنے کیلئے خود کو زہر خورانی کا شکار ظاہر کرنے کا ڈرامہ رچایا، اسپتال کی رپورٹ میں بھی یہ بات سامنے آئی ہے کہ حکیم بابر کو کسی قسم کا زہر نہیں دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ حکیم بابر نشے کے عادی ہیں اور کسی مبینہ اوور ڈوز کے واقعے کو ان کے خاندان پر ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے، ان کے خاندان کا حکیم بابر کے ساتھ کسی قسم کا کوئی ذاتی تنازع یا دشمنی موجود نہیں۔
ملک سلیم کھوکھر انکشاف کیا کہ حکیم بابر کا اصل نام افضل ہے اور وہ کوئی مستند حکیم نہیں بلکہ تعلیمی طور پر بھی میٹرک پاس نہیں ہیں، جھوٹے مقدمے کی وجہ سے میرا خاندان شدید ذہنی دباؤ اور پریشانی کا شکار ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ رات کے وقت پولیس کی جانب سے دو بار گھر پر چھاپے مارے گئے، کو ہراساں مت کیا جائے۔
انہوں نے ڈی پی او سیالکوٹ اور آئی جی پنجاب سے اپیل کی کہ کیس کی شفاف اور میرٹ پر انکوائری کی جائے اور حقائق کی روشنی میں فیصلہ کیا جائے۔
مزید پڑھیں۔مشرق وسطیٰ کی صورتحال، خام تیل کی قیمتوں میں 2 فیصد اضافہ