گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج گلشن کی انسدادِ منشیات تقریب
اشاعت کی تاریخ: 8th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
یہ بات خوش آیند ہے کہ گزشتہ روز گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج گلشن اقبال سحر گوٹھ کی پرنسپل پروفیسر عصمت جہاں نے اپنے کالج کے ہفتہ طلبہ کا ایک دن ’’یوم انسدادِ منشیات‘‘ کے طور پر منایا، تقریب میں منشیات کے خلاف کام کرنے والی شخصیت تنظیم فانوس کے صدر رفیع احمد کو خاص کر مدعو کیا گیا، اس موقع پر طالبات نے منشیات کے خلاف پوسٹرز کی نمائش کا انعقاد کیا، ڈرامہ پیش کیا، تقاریر کیں، تقریب کا آغاز تلاوت کلام پاک اور نعت رسول مقبول سے کیا گیا۔
رفیع احمد نے اساتذہ اور طالبات سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے ملک کے 43، فیصد طلبا کسی نہ کسی منشیات کی زد میں ہیں، منشیات سے ہمارا مستقبل تاریک نظر آرہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ منشیات سے ہمارا خاندانی نظام تباہ ہو رہا ہے، نشی
حضرات کی وجہ سے طلاق کی شرح میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے، چوری اور ڈکیتی میں خطرناک حد تک کا بڑھ رہی ہیں، منشیات کے عادی افراد اپنا نشہ پورا کرنے کے لیے اپنے بیوی بچوں کو بھی قتل کرنے سے دریخ نہیں کرتے ہیں، ہمارے 60، فیصد تعلیمی ادارے منشیات کی زد پر ہیں۔ رفیع احمد نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ منشیات کو جڑ سے ختم کرنے کا منظم منصوبہ بنائے، کالجز اور جامعات کے طلبہ کا رینڈم ڈرگ ٹیسٹ کیا جائے۔ کالج پرنسپل پروفیسر عصمت جہاں نے کہا کہ ہمیں چاہئے کہ منشیات کے خلاف زیادہ سے زیادہ شعور و آگہی کا کام کریں، اب منشیات کا مسئلہ فرد واحد کا نہیں رہا بلکہ قومی سانحہ بن چکا ہے،طالبات عہد کریں کہ وہ زندگی بھر نہ خود منشیات استعمال کریں گی اور نہ ہی دوسروں کو منشیات استعمال کرنے دیں گی، انسدادِ منشیات کے کام میں تنظیم فانوس کی گراں قدر خدمات ہیں ہم سب کو چاہیے کہ ان کا بھرپور ساتھ دیں۔ اس موقع پر طالبات نے منشیات سے آگہی حاصل کرنے کے لیے رفیع احمد سے متعدد سوالات کیے،ڈرامے، پوسٹرز اور تقاریر سے پیغام دیا کہ منشیات زہر قاتل ہے اور اسلام سے دوری منشیات کے قریب کر دیتی ہے۔ بعدازاں کالج پرنسپل کو فانوس انسدادِ منشیات ایوارڈ دیا گیا اور منشیات کے خلاف کام کرنے والے اساتذہ اور طالبات کو انعامات اور اسناد سے نوازا گیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: منشیات کے خلاف رفیع احمد
پڑھیں:
تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔
بڑی احتجاجی کال پر تحفظات
پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔
ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔
پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔
9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا
پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔
26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔
مزیدپڑھیں:بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی
اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔
عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل
عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔
پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔
5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟
گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔