جاپان میں عام انتخابات کے بعد ایشیائی منڈیوں میں ’ین‘ مضبوط
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
جاپانی ین نے پیر کے روز ایشیائی منڈیوں میں مضبوطی دکھاتے ہوئے مسلسل 6 دن کی کمزوری کا سلسلہ توڑ دیا۔ یہ بہتری اتوار کو ہونے والے عام انتخابات میں وزیرِ اعظم سانائے تاکائیچی کی واضح کامیابی کے بعد سامنے آئی، جس کے بعد سرمایہ کاروں نے مالیاتی محرکات اور ممکنہ حکومتی اقدامات کو مدنظر رکھتے ہوئے نئی پوزیشنز لیں۔
کاروبار کے دوران ین نے ابتدائی 0.
مزید پڑھیں: پاک جاپان دوستی کے 74 سال: جاپانی سفیر نے اقتصادی و ثقافتی روابط کے فروغ کا روڈ میپ پیش کردیا
ین نے دیگر بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں بھی اپنی حالیہ کمزوری جزوی طور پر ختم کی، کیونکہ اس سے قبل یہ سوئس فرانک کے مقابلے میں ریکارڈ کم ترین سطح تک پہنچ گیا تھا جبکہ یورو کے مقابلے میں بھی تاریخی کمزوری کے قریب ٹریڈ ہو رہا تھا۔
او سی بی سی بینک کے کرنسی اسٹریٹجسٹ سم موہ سیونگ کے مطابق، اگرچہ فوری طور پر ین میں بہتری آئی ہے، تاہم مجموعی طور پر اس کے مضبوط ہونے کی گنجائش محدود دکھائی دیتی ہے، خاص طور پر حکومتی مداخلت کے خدشات کے باعث جو ڈالر کے مقابلے میں ین کی حرکت کو روک سکتے ہیں۔
جاپان کے اعلیٰ کرنسی سفارتکار اتسوشی میمورا نے کہا ہے کہ حکومت غیر معمولی سنجیدگی کے ساتھ کرنسی کی نقل و حرکت پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ انتخابات میں تاکائیچی کی جماعت لبرل ڈیموکریٹک پارٹی نے اتحادیوں کے ساتھ پارلیمنٹ میں دو تہائی اکثریت حاصل کرلی ہے، جس سے پالیسی سازی اور نفاذ کی صلاحیت مزید مضبوط ہو گئی ہے۔
مزید پڑھیں: بنگلہ دیش اور جاپان کے درمیان دفاعی سازوسامان اور ٹیکنالوجی ٹرانسفر کا معاہدہ
ادھر امریکی ڈالر انڈیکس ہفتے کے آغاز پر قریباً مستحکم رہا، جبکہ سرمایہ کار امریکا میں متوقع اہم معاشی اعداد و شمار، بشمول مہنگائی، ریٹیل سیلز اور روزگار رپورٹ، کے منتظر ہیں۔ مارکیٹ میں فیڈرل ریزرو کی جانب سے رواں برس شرحِ سود میں نرمی کے امکانات بھی بڑھتے دکھائی دے رہے ہیں۔
برطانوی پاؤنڈ سیاسی بے یقینی کے باعث معمولی دباؤ میں رہا، جبکہ یورو، چینی یوآن، آسٹریلین اور نیوزی لینڈ ڈالر میں معمولی اتار چڑھاؤ دیکھا گیا۔
کرپٹو مارکیٹ میں بٹ کوائن اور ایتھر دونوں معمولی کمی کے ساتھ ٹریڈ کرتے رہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
’ین‘ مضبوط جاپان وزیرِ اعظم سانائے تاکائیچی
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: جاپان وزیر اعظم سانائے تاکائیچی
پڑھیں:
گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
اسلام آباد: مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبریں وائرل ہو رہی تھیں کہ عیدالاضحیٰ سے قبل مری میں غیر شادی شدہ مردوں یا بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم سرکاری وضاحت نے ان دعوؤں کو غلط قرار دے دیا ہے۔
سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مری شہر میں صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ بیچلرز کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایسی کوئی پابندی پورے مری شہر پر نافذ نہیں کی گئی۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود تھی، جہاں سیاحوں کے رش اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اکیلے آنے والے مردوں اور بیچلرز گروپس کے داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔ فیملیز کو معمول کے مطابق مال روڈ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مری کامران صغیر کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا اور 31 مئی تک نافذ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری شہر میں آنے والے تمام سیاحوں کے لیے راستے کھلے تھے اور بیچلرز کے شہر میں داخلے پر کوئی مکمل پابندی نہیں تھی۔
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ اقدام صرف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔
اس طرح مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے وائرل ہونے والا دعویٰ حقیقت کے برعکس ثابت ہوا۔ مری بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے جبکہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص علاقے تک محدود رہی۔