افغان پالیسی، انتخابات اور غزہ پر مولانا فضل الرحمان کی کڑی تنقید
اشاعت کی تاریخ: 8th, February 2026 GMT
جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے افغانستان سے متعلق پالیسی، موجودہ حکومت اور عالمی حالات پر سخت سوالات اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ ’’افغانستان سے ایک انار تک نہیں آ سکتا لیکن دہشت گرد آ رہے ہیں۔ اگر دہشت گرد آ رہے ہیں تو انہیں روکا کیوں نہیں جا رہا؟‘‘
راولپنڈی میں جے یو آئی یوتھ کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ 8 فروری کو ہونے والے عام انتخابات کے نتائج کو قوم نے مسترد کر دیا تھا اور موجودہ حکومت جعلی مینڈیٹ پر قائم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جے یو آئی ایسی حکومت کا حصہ نہیں بن سکتی تھی، اسی لیے اپوزیشن میں بیٹھنا پڑا۔
انہوں نے واضح کیا کہ جے یو آئی اقتدار کو منزل نہیں بلکہ ایک سفر کا حصہ سمجھتی ہے۔ ’’یہ حکومت عوام نے نہیں بنائی، بلکہ مختلف جماعتوں کو جوڑ کر کھڑی کی گئی ہے، ایسی حکومتیں جمہوریت کا مذاق بناتی ہیں،‘‘ انہوں نے کہا۔
مولانا فضل الرحمان نے الیکشن کمیشن پر بھی شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’’یہ کٹھ پتلی الیکشن کمیشن ہے، جسے خود حلقوں کے نتائج کا علم نہیں تھا۔ جے یو آئی ان جھرلو انتخابات کو تسلیم نہیں کرتی۔‘‘
عالمی امور پر بات کرتے ہوئے انہوں نے غزہ میں جاری اسرائیلی جارحیت کا ذکر کیا اور کہا کہ دنیا کے سامنے فلسطینی مسلمانوں کی نسل کشی ہو رہی ہے۔ ’’ستر ہزار سے زائد مسلمان شہید ہو چکے ہیں، شہر کے شہر مٹ گئے، اور اس ظلم کی پشت پناہی امریکا کر رہا ہے،‘‘ انہوں نے کہا۔
انہوں نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’’ایسے حالات میں اگر کوئی ٹرمپ کے لیے نوبل انعام کی بات کرے تو اس پر افسوس ہی کیا جا سکتا ہے۔‘‘ مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ اگر امن کے نام پر بننے والے کسی بورڈ میں نیتن یاہو جیسے کردار شامل ہوں تو اس میں بیٹھنا شرمناک ہے۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ جے یو آئی الزام تراشی نہیں بلکہ دلیل اور اعتدال کے ساتھ سیاست کرتی ہے اور قوم کو حقائق کی بنیاد پر رہنمائی فراہم کرتی رہے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: مولانا فضل الرحمان کرتے ہوئے جے یو ا ئی انہوں نے کہا کہ نے کہا
پڑھیں:
مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کررہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ انتظامیہ نے جوہر یونیورسٹی کی 40 میں سے 38 عمارتوں کو منہدم کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں۔ یونیورسٹی میں زیر تعلیم اور فارغ طلباء ان احکامات کی مخالفت میں سڑکوں پر آگئے ہیں۔ یونیورسٹی کے روبرو گزشتہ کئی دن سے طلباء احتجاج کررہے ہیں۔ احتجاج میں شریک بی اے ایل ایل بی کی تیسرے سال کی طالبہ لائبہ نے کہا کہ تمام طلبہ اپنے پرامن مظاہرے کو لے کر متحد ہیں اور جب تک ان کی اپیل کی سماعت نہیں ہو جاتی اپنا دھرنا جاری رکھیں گے۔ لائبہ نے کہا "یہ بلڈوزر صرف یونیورسٹی کی عمارتوں پر نہیں چلے گا، یہ ہمارے مستقبل، ہمارے خوابوں اور ہماری ڈگریوں کو کچل دے گا"۔ طالبہ نے زور دے کر کہا "ہر مسئلے کا حل ہوتا ہے لیکن یونیورسٹی کو گرانا اس کا حل نہیں ہے"۔ لائبہ نے بتایا کہ طلباء کا ابتدائی مطالبہ کونسلنگ کیمپ کو ہٹانے کا تھا، انتظامیہ نے اس کی درخواست پوری کر دی ہے۔
اب ان کی بنیادی فکر یونیورسٹی کی عمارتوں کو برقرار رکھنے کو یقینی بنانا ہے تاکہ ان کی تعلیم میں خلل نہ پڑے۔ ایک طالبہ نے کہا کہ بہت سے والدین نے یونیورسٹی کے نظام اور ماحول پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنی بیٹیوں کا داخلہ یہاں کرایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی کی گئی تو سب سے زیادہ نقصان ان طلبہ کا ہوگا جن کے اہل خانہ انہیں دوسرے شہر بھیجنے کو تیار نہیں۔ ایک طالب علم نے کہا "میں فی الحال اپنے تیسرے سال میں ہوں، پہلے ہی دو سال کی تعلیم مکمل کر چکا ہوں"۔ طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کر رہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ فی الحال طلباء کا احتجاج جاری ہے کیونکہ وہ ضلعی انتظامیہ اور عدالت کے فیصلوں کا انتظار کر رہے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ انتظامیہ اس معاملے میں کیا فیصلہ کرے گی اور طلبہ کی جذباتی اپیل کے جواب میں کیا اقدامات کیے جائیں گے۔
دوسری جانب طلباء کی اس تحریک کو سماجوادی پارٹی کا ساتھ مل رہا ہے۔ امروہہ صدر کے ایس پی ایم ایل اے، سابق کابینہ وزیر، اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے موجودہ چیئرمین محبوب علی کو رام پور پہنچنے سے پہلے ہی پولیس نے جمعرات کو ان کی امروہہ کی رہائش گاہ پر روک لیا۔ اس کارروائی سے ایس پی کارکنوں میں خاصی ناراضگی پھیل گئی۔ حامیوں کی ایک بڑی تعداد ان کے گھر کے باہر احتجاج کے لیے جمع ہوئی اور حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ محبوب علی نے الزام لگایا کہ وہ جمعرات کو صبح 11 بجے کے قریب اپنے حامیوں کے ساتھ رام پور کے لیے روانہ ہونے والے تھے۔ ان کا منصوبہ تھا کہ وہ رات 12 بجے تک جوہر یونیورسٹی پہنچ جائیں گے۔ تاہم امروہہ پولیس اس سے پہلے ہی ان کی رہائش گاہ پر پہنچ گئی اور انہیں باہر نکلنے سے روک دیا۔
انہوں نے کہا کہ انہیں بغیر کوئی واضح وجہ بتائے اپنا گھر چھوڑنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا گیا۔ اس کارروائی کو جمہوری حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے، ایس پی ایم ایل اے نے کہا کہ حکومت سیاسی مخالفین کی آوازوں کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی نمائندے کو پرامن سفر کرنے اور اپنے خیالات کا اظہار کرنے سے روکنا جمہوری نظام کے لیے نامناسب ہے۔ کارکنوں نے اس کارروائی کے خلاف احتجاج کیا اور حکومت کے خلاف نعرے لگائے اور اسے سیاسی انتقام کی کارروائی قرار دیا۔ صورتحال کو دیکھتے ہوئے پولیس کی بھاری نفری رہائش گاہ کے باہر متعین کر دی گئی تاکہ رونما ہونے والے واقعات پر نظر رکھی جا سکے۔
اس دوران محبوب علی نے بھی جوہر یونیورسٹی کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کی 38 عمارتوں کو گرانے کے مجوزہ اقدام کو فوری طور پر روکا جانا چاہیئے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس پورے معاملے کا غیر جانبدارانہ اور شفاف جائزہ لیا جائے، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ تمام متعلقہ فریقین کو اپنا کیس پیش کرنے کا پورا موقع دیا جائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی انتظامی یا قانونی کارروائی یونیورسٹی میں زیر تعلیم طلباء کو سب سے زیادہ متاثر کرتی ہے۔ اس لئے ان کی پڑھائی، امتحانات اور دیگر تعلیمی سرگرمیوں میں کسی بھی طرح رکاوٹ نہیں ڈالی جانی چاہیئے، کیونکہ کہ یہ صرف عمارتوں کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ ہزاروں طلباء کے مستقبل کا سوال ہے۔