عمران خان کے بیٹوں کی پاکستان آمد مؤخر، ویزا نہ ملنے کی تصدیق
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
ویب ڈیسک :پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین کے صاحبزادوں قاسم خان اور سلیمان خان کے پاکستان ویزا معاملے نے ایک بار پھر سیاسی اور سفارتی بحث کو جنم دے دیا ہے۔
تازہ رپورٹس کے مطابق دونوں برطانوی پاسپورٹ ہولڈرز کو ابھی تک ویزا جاری نہیں کیا گیا جبکہ معاملہ متعلقہ حکام کے پاس زیر غور بتایا جا رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق دونوں بھائیوں نے پاکستان آنے کے لیے ویزا درخواستیں جمع کروائی تھیں تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ درخواستوں میں بعض تکنیکی اور معلوماتی خامیاں موجود تھیں جنہیں درست کرنے کے لیے درخواست گزاروں سے رابطہ کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق مطلوبہ معلومات مکمل طور پر فراہم نہ کیے جانے کی وجہ سے درخواستیں زیر التوا رہیں۔
سونے کی قیمت نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی
سفارتی ذرائع کے مطابق ویزا درخواستوں کا حتمی فیصلہ اسلام آباد میں وزارت داخلہ کے متعلقہ شعبے کی منظوری سے مشروط ہوتا ہے، جس کے باعث پراسیس میں تاخیر ہو سکتی ہے۔ ماضی میں بھی رپورٹس سامنے آ چکی ہیں کہ عمران خان کے صاحبزادے پاکستان آنے کے لیے ویزا منظوری کے منتظر رہے ہیں۔
دوسری جانب بعض غیر ملکی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ دونوں بھائیوں نے حکومت پر الزام لگایا ہے کہ ان کے ویزے جان بوجھ کر روکے جا رہے ہیں تاکہ وہ اپنے والد سے ملاقات نہ کر سکیں، تاہم حکومتی سطح پر اس مؤقف کی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔
13 سے 15 فروری کے درمیان زلزلہ خیز سرگرمیوں کا خدشہ
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ ویزا پراسیسنگ کے معاملات حساس نوعیت کے ہوتے ہیں اور بعض کیسز میں سکیورٹی اور دستاویزی تصدیق کے مراحل کے باعث وقت لگ سکتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطاق 19 جولائی سے اب تک خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں بارشوں اور فلش فلڈز سے مجموعی طور پر 9 مرد، 10 بچے اور تین خواتین جاں بحق ہوئیں۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا میں ہونے والی بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 5 روز کے دوران 22 شہری جاں بحق جبکہ 23 زخمی ہوگئے۔ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطاق 19 جولائی سے اب تک خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں بارشوں اور فلش فلڈز سے مجموعی طور پر 9 مرد، 10 بچے اور تین خواتین جاں بحق ہوئیں۔ اعلامیے کے مطابق زخمیں میں 11 مرد، 5 خواتین 7 بچے شامل ہیں جبکہ تیز بارشوں اور فلش فلڈ کے باعث مجموعی طور پر 37 گھروں کو نقصان پہنچا جس میں 29 گھروں کو جزوی جبکہ 8 گھر مکمل منہدم ہوگئے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق حادثات پشاور، نوشہرہ، خیبر، مردان , بونیر، باجوڑ، شانگلہ، صوابی، چترال لوئر، دیر لوئر اور اپر، ایبٹ آباد، مانسہرہ،ہری پور، ٹانک، تور غر اور کرم اور شمالی و جنوبی وزیرستان میں پیش آئے۔
اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ پی ڈی ایم اے، ریسکیو 1122، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداراے آپس میں رابطے میں اور امدادی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں جبکہ متاثرہ اضلاع کی انتظامیہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ متاثرین میں جلد امدادی سامان تقسیم کردے۔ ڈی جی پی ڈی ایم اے نے ضلعی انتظامیہ کو امدادی سرگرمیاں تیز کرنے اور متاثرین کو فوری معاونت فراہم کرنے کی ہدایت کی اور بتایا کہ صوبہ کے تمام دریاؤں اور ندی نالوں میں پانی کی سطح اور بہاو معمول کے مطابق ہے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق تیز بارشوں کا یہ سلسلہ آج تک وقفے وقفے سے جاری رہنے کا امکان ہے۔ پی ڈی ایم اے نے عوام سے اپیل کی کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور حساس سیاحتی مقامات کا رخ نہ کریں جبکہ حکومتی اداروں کی جانب سے الرٹس/ اور ایڈوائزری پر عمل کریں۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے کے مطابق ایمرجنسی آپریشن سینٹر مکمل طور پر فعال ہے، عوام کسی بھی نا خوشگوار واقعے کی اطلاع ، موسمی صورتحال سے آگائی اور معلومات کے لیے فری ہیلپ لائن 1700 پر رابطہ کریں۔