ایپسٹین فائلز سے منسلک انکشافات کے دباؤ اور خوف کے باعث مودی کی واضح پسپائی
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
نئی دہلی (مانیٹرنگ ڈیسک) بھارتی اپوزیشن جماعت کانگریس نے دعویٰ کیا ہے کہ ایپسٹین فائلز سے جڑے انکشافات کے دباؤ اور امریکا کی جانب سے عاید تجارتی پابندیوں کے باعث بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے واضح پسپائی اختیار کی ہے۔اپوزیشن کے مطابق بھارت کا حالیہ تجارتی معاہدہ دراصل امریکا کے سامنے دباؤ میں آ کر کیے گئے فیصلوں کا نتیجہ ہے۔کانگریس کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سستا روسی تیل خریدنے پر بھارت پر25 فیصد اضافی ٹیرف عاید کیا تھا، جس کے بعد بھارتی حکومت نے روسی تیل کی خریداری میں کمی کی۔ اپوزیشن کے مطابق امریکی بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ فیصلہ بیرونی دباؤ کے تحت کیا گیا۔ کانگریس رہنماؤں کا کہنا ہے کہ مودی حکومت کا یہ قدم محض وقتی نہیں بلکہ اس کے بھارتی معیشت اور سفارت کاری پر طویل المدتی منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ ان کے مطابق بیرونی دباؤ پر قومی مؤقف سے انحراف ناکام خارجہ پالیسی اور واضح پسپائی کی علامت ہے۔اپوزیشن نے یہ بھی کہا کہ صدر ٹرمپ کی جانب سے تجارتی معاہدے سے متعلق اعلانات نے عالمی سطح پر بھارت کی کمزور حیثیت کو نمایاں کر دیا ہے۔ماہرین کے مطابق حالیہ پیش رفت سے بھارت کے خودمختاری کے دعوؤں پر سوالات اٹھ رہے ہیں اور بھارتی خارجہ پالیسی حقیقت پسندی کے بجائے گمراہ کن بیانیے اور نظریاتی دباؤ کا شکار نظر آتی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے مطابق
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :