بیرون ممالک میں بھارتی نژاد مجرموں سے متعلق سنسنی خیز انکشافات
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260209-01-12
نئی دہلی (آن لائن) بیرونِ ممالک میں بھارتی نژاد مجرموں کے بارے میں سنسنی خیز انکشافات سامنے آئے ہیں، جس کے بعد دنیا کے مختلف ممالک میں بھارتی شہریوں سے متعلق گرفتاریوں، تحقیقات اور ملک بدری کے واقعات میں ہوشربا اضافہ ہوا ہے۔ ہندوستان ٹائمز کے مطابق امریکی امیگریشن ڈیٹا بیس کے اعلیٰ ترجیحی مجرمانہ کیسز کی بڑی فہرست میں 89 بھارتی نژاد افراد بھی شامل پائے گئے۔ امریکی ہوم لینڈ سیکورٹی نے اپنی ویب سائٹ پر تمام نام اور جرائم کی تفصیلات کو بے نقاب کر دیا ہے، بھارتی میڈیا کے مطابق بھارتی نژاد افراد پر جنسی جرائم، منشیات اسمگلنگ، فراڈ، اغوا، منی لانڈرنگ اور تشدد جیسے سنگین الزامات سامنے آئے ہیں، انڈین ایکسپریس نے بھی 2025ء میں 3800 غیر قانونی بھارتیوں کی ملک بدری کا انکشاف کیا ہے۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق بھارت میں بڑھتی لاقانونیت، سماجی عدم استحکام اور متنازع عدالتی نظام عالمی سطح پر بھارتی معاشرے کی ساکھ کو متاثر کر رہے ہیں۔ مودی کی نااہل سرکار انتہا پسند بیانیے کے ذریعے اقتدار مضبوط کر رہی ہے جبکہ بھارت کے جرائم پیشہ افراد شرمناک واقعات میں عالمی توجہ کا مرکز بن رہے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: بھارتی نژاد
پڑھیں:
سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
اسلام آباد:سپریم کورٹ نے منشیات برآمدگی کیس میں پانچ لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض لاہور کی رہائشی نازیہ مختار خواجہ کی ضمانت منظور کر لی۔
دوران سماعت، ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلا دی جس پر عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کروانے کا حکم دے دیا۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔
وکیل احسن بھون نے دلائل دیے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف کا اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرہ عدالت میں موجود ہے۔
دوران سماعت، اے این ایف اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں، جس پر وکیل اے این ایف نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر دو لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
وکیل ملزمہ احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریماریس دیے کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرہ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے ملزمان تحویل میں ہوتے ہوئے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھکڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا۔
دوران سماعت، جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ اے این ایف اہلکار نے جواب دیا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے۔ جسٹس ہاشم کاکڑ کے ریمارکس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔