9 فروری مقبوضہ جموں و کشمیر کے عظیم رہنمامحمد افضل گورو کا یومِ شہادت ؛ جب بھارتی ریاست نے انصاف کاخون کردیا
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
اسلام آباد/مظفرآباد (نیوز ڈیسک)لائن آف کنٹرول کے دونوں جانب کشمیری عوام 9 فروری کو تحریکِ آزادی کشمیر کے رہنما محمد افضل گورو کا یومِ شہادت مناتے ہیں۔ اس موقع پر مختلف حلقوں کی جانب سے انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا جاتا ہے اور بھارتی ریاست کے عدالتی عمل پر شدید سوالات اٹھائے جاتے ہیں۔
یاد رہے کہ 9 فروری 2013 کو بھارت نے بدنامِ زمانہ تہاڑ جیل میں محمد افضل گورو کو پھانسی دے دی تھی۔ کشمیری حلقوں کے مطابق افضل گورو کو جھوٹے الزامات کے تحت گرفتار کیا گیا اور منصفانہ عدالتی کارروائی کے بغیر انہیں سزائے موت دی گئی، جسے انصاف کا قتل قرار دیا جاتا ہے۔
کشمیری رہنماؤں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ محمد افضل گورو مقبوضہ جموں و کشمیر کی آزادی کے لیے جدوجہد کرنے والوں میں شامل تھے، تاہم بھارتی ریاست نے انسانی، مذہبی اور اخلاقی اقدار کی خلاف ورزی کرتے ہوئے انہیں جیل میں ہی دفن کر دیا، جو عالمی اصولِ انصاف کے منافی ہے۔
مختلف بیانات میں کہا گیا کہ بھارتی ناانصافی اور جبر نے کشمیری عوام کے عزم کو مزید مضبوط کیا ہے کہ حقِ خودارادیت ہی آزادی کا واحد راستہ ہے۔ مقررین نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں کا نوٹس لیا جائے اور کشمیری عوام کو ان کا بنیادی حق دلانے میں کردار ادا کیا جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: افضل گورو
پڑھیں:
’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
پاکستان کے معروف ریپر اور گلوکار طلحہ انجم نے نئی دہلی میں تعلیمی نظام کے خلاف احتجاج کرنے والے بھارتی طلبا سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے ان کے حوصلے اور ثابت قدمی کو سراہا ہے۔ انہوں نے طلبا پر ہونے والی پولیس کارروائی کے بعد ایک پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے غصے اور احساسات کو بخوبی سمجھتے ہیں۔
طلحہ انجم نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری پر بھارتی طلبا کے احتجاج کی ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں مظاہرین پر آنسو گیس اور لاٹھی چارج ہوتے دکھایا گیا۔ ویڈیو کے ساتھ انہوں نے لکھا کہ ’بھارت کے طلبا مظاہرین کے نام، مجھے آپ کی ثابت قدمی کا بے حد احترام ہے، میں آپ کی مایوسی اور غصے کو سمجھ سکتا ہوں، اور یہ بھی جانتا ہوں کہ آپ کے ساتھ کیا کیا جا رہا ہے، مضبوط رہیں۔‘
طلحہ انجم پاکستان کے سب سے زیادہ سنے جانے والے موسیقاروں میں شمار ہوتے ہیں اور اسٹریمنگ پلیٹ فارم اسپاٹیفائی پر ان کی مقبولیت کئی ریکارڈ قائم کر چکی ہے۔ بھارت میں بھی ان کے مداحوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ گزشتہ برس نیپال میں ایک کنسرٹ کے دوران ایک مداح کی جانب سے بھارتی پرچم پیش کیے جانے پر وہ خبروں میں آئے تھے، بعد ازاں انہوں نے پاکستان میں اس معاملے پر وضاحت بھی کی تھی۔
سماجی اور انسانی مسائل پر کھل کر مؤقف اختیار کرنے والے طلحہ انجم اس سے قبل بھی کئی معاملات پر آواز بلند کر چکے ہیں۔ اپریل میں صومالیہ کے ساحل کے قریب قزاقوں کے قبضے میں جانے والے پاکستانی ملاحوں کی رہائی کے لیے انہوں نے حکومت سے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا تھا اور وزارتِ خارجہ سے متاثرہ خاندانوں کے لیے مستقل ہیلپ لائن قائم کرنے کی اپیل بھی کی تھی۔
دوسری جانب بھارت میں تعلیمی امتحانات کے مبینہ پیپر لیکس کے خلاف احتجاج کا سلسلہ گزشتہ ماہ سے جاری ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے پلیٹ فارم سے ہونے والے اس دھرنے میں طلبہ وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے اور تعلیمی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ حالیہ دنوں پارلیمنٹ کی جانب مارچ کی کوشش کے دوران پولیس نے مظاہرین کو روکنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔