بسنت میں لاہور اور پاکستان کی جیت، ثقافت کو بند نہیں بلکہ منیج کیا جاتا ہے: مریم اورنگزیب
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
پنجاب کی سینیئر وزیر مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ ثقافت اور کلچر پر تالے نہیں لگائے جاتے بلکہ انہیں مؤثر انداز میں منیج کیا جاتا ہے، اور بسنت کے کامیاب انعقاد میں لاہور اور پاکستان دونوں کی فتح ہوئی ہے۔ اندرون لاہور حویلی آصف جاہ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب نے بسنت کے حوالے سے ایک مشکل مگر درست فیصلہ کیا جس پر مکمل عملدرآمد ممکن بنایا گیا۔ مریم اورنگزیب کے مطابق بسنت کے دوران 14 لاکھ موٹرسائیکلوں پر سیفٹی راڈز لگائے گئے، جبکہ 512 بسوں کے ذریعے شہریوں کو مفت سفری سہولت فراہم کی گئی، جس سے تین دن میں 20 لاکھ افراد نے استفادہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بسنت کے دنوں میں لاہور میں 10 لاکھ گاڑیاں داخل ہوئیں جو ایک بڑا انتظامی چیلنج تھا، تاہم تمام اداروں نے مل کر اسے کامیابی سے سنبھالا۔ سینیئر وزیر نے کہا کہ کامیاب بسنت میں ہر طبقے نے خوشی منائی اور یہ ثابت ہو گیا کہ پنجاب اپنے کلچر کو محفوظ انداز میں آگے بڑھا سکتا ہے، آئندہ سال اس سے بھی زیادہ بھرپور بسنت منائی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ ساڑھے چار سال میں نوجوانوں کے ذہنوں میں نفرت بھری گئی اور 8 فروری کو جلا دو، گرا دو کی کال دی گئی، جسے عوام نے مکمل طور پر مسترد کر دیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: بسنت کے
پڑھیں:
باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔(جاری ہے)
درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔