نااہل مودی کی ناکام پالیسیوں کے باعث بھارتی کسان سراپا احتجاج
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
نئی دہلی (نیوز ڈیسک)بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی پالیسیوں کے خلاف کسانوں میں شدید بے چینی پائی جا رہی ہے اور مجوزہ بھارت۔امریکہ تجارتی معاہدے پر کسان برادری سراپا احتجاج بن گئی ہے۔ کسان تنظیموں کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ بھارتی زراعت اور ڈیری سیکٹر کے لیے نقصان دہ ثابت ہوگا۔
بھارت کے معروف جریدے دی ٹائمز آف انڈیا نے بھی اپنی رپورٹ میں امریکہ۔بھارت تجارتی ڈیل کے تلخ حقائق سامنے لاتے ہوئے کہا ہے کہ اس معاہدے پر کسانوں میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق کسانوں کو خدشہ ہے کہ غیر منصفانہ اور یک طرفہ شرائط کی وجہ سے مقامی زرعی شعبہ مزید دباؤ کا شکار ہو جائے گا۔
کسان یونینز نے کہا ہے کہ یہ تجارتی معاہدہ دراصل امریکہ کے سامنے مودی حکومت کا سرنڈر ہے اور اس سے بھارتی کسانوں کی معاشی حالت مزید کمزور ہو گی۔ یونینز نے مجوزہ ڈیل کے خلاف احتجاج کا اعلان کرتے ہوئے بھارتی وزیر تجارت کے استعفےٰ کا بھی مطالبہ کیا ہے۔
کسان تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ اگر موجودہ نکات پر امریکہ اور بھارت کے درمیان معاہدے پر دستخط کیے گئے تو ملک گیر احتجاج کیا جائے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ بڑے کارپوریٹ مفادات کے حق میں جبکہ کسانوں کے خلاف ہے۔
عالمی ماہرین کے مطابق اگر بھارت اور امریکہ کی مجوزہ تجارتی ڈیل موجودہ شرائط پر طے پاتی ہے تو بھارتی کسانوں اور ڈیری سیکٹر کو شدید نقصان پہنچے گا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی دباؤ کے آگے جھک کر کیا گیا یہ معاہدہ مودی حکومت کی کمزور اور غیر مؤثر خارجہ پالیسی کو ظاہر کرتا ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق خارجہ محاذ پر مسلسل مشکلات اور اندرونی سطح پر انتظامی مسائل مودی حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج بنتے جا رہے ہیں، جبکہ کسانوں کا احتجاج اس عدم اطمینان کا واضح اظہار قرار دیا جا رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :