نئی دہلی (نیوز ڈیسک)بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی پالیسیوں کے خلاف کسانوں میں شدید بے چینی پائی جا رہی ہے اور مجوزہ بھارت۔امریکہ تجارتی معاہدے پر کسان برادری سراپا احتجاج بن گئی ہے۔ کسان تنظیموں کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ بھارتی زراعت اور ڈیری سیکٹر کے لیے نقصان دہ ثابت ہوگا۔

بھارت کے معروف جریدے دی ٹائمز آف انڈیا نے بھی اپنی رپورٹ میں امریکہ۔بھارت تجارتی ڈیل کے تلخ حقائق سامنے لاتے ہوئے کہا ہے کہ اس معاہدے پر کسانوں میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق کسانوں کو خدشہ ہے کہ غیر منصفانہ اور یک طرفہ شرائط کی وجہ سے مقامی زرعی شعبہ مزید دباؤ کا شکار ہو جائے گا۔

کسان یونینز نے کہا ہے کہ یہ تجارتی معاہدہ دراصل امریکہ کے سامنے مودی حکومت کا سرنڈر ہے اور اس سے بھارتی کسانوں کی معاشی حالت مزید کمزور ہو گی۔ یونینز نے مجوزہ ڈیل کے خلاف احتجاج کا اعلان کرتے ہوئے بھارتی وزیر تجارت کے استعفےٰ کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

کسان تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ اگر موجودہ نکات پر امریکہ اور بھارت کے درمیان معاہدے پر دستخط کیے گئے تو ملک گیر احتجاج کیا جائے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ بڑے کارپوریٹ مفادات کے حق میں جبکہ کسانوں کے خلاف ہے۔

عالمی ماہرین کے مطابق اگر بھارت اور امریکہ کی مجوزہ تجارتی ڈیل موجودہ شرائط پر طے پاتی ہے تو بھارتی کسانوں اور ڈیری سیکٹر کو شدید نقصان پہنچے گا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی دباؤ کے آگے جھک کر کیا گیا یہ معاہدہ مودی حکومت کی کمزور اور غیر مؤثر خارجہ پالیسی کو ظاہر کرتا ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق خارجہ محاذ پر مسلسل مشکلات اور اندرونی سطح پر انتظامی مسائل مودی حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج بنتے جا رہے ہیں، جبکہ کسانوں کا احتجاج اس عدم اطمینان کا واضح اظہار قرار دیا جا رہا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا

امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ مجوزہ سول جوہری معاہدے کومعاہدہ ابراہیمی (Abraham Accords) میں سعودی شمولیت سے مشروط کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ معاہدے کے تحت سعودی عرب کو کسی بھی صورت یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان زیر غور سول جوہری معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام ایران، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک کے سول جوہری پروگراموں کی طرز پر ہوگا، تاہم اس میں یورینیم افزودگی کی اجازت شامل نہیں ہوگی۔

امریکی صدر نے کہا کہ معاہدے کی منظوری ضرور دی جائے گی، لیکن اس کی بنیادی شرط یہ ہوگی کہ سعودی عرب باعزت اور باہمی احترام پر مبنی معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہو۔ ان کے مطابق امریکا کو ایسے سول جوہری مراکز پر کوئی اعتراض نہیں جو مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے قائم کیے جائیں اور جن میں یورینیم افزودہ نہ کیا جائے۔

دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اگر سعودی عرب معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہوتا ہے تو یہ مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ہوگی۔ بیان میں کہا گیا کہ حالیہ علاقائی پیش رفت کے بعد خطے میں امن کے دائرے کو مزید وسعت دینے کا موقع پیدا ہوا ہے، تاہم اسرائیلی حکومت نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے پر براہ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

ادھر امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ صدر ٹرمپ سعودی عرب کے ساتھ 30 سالہ سول جوہری معاہدے کی اصولی منظوری دے چکے ہیں، جسے اب کانگریس کی منظوری درکار ہوگی۔ رپورٹ کے مطابق اس معاہدے کی مالیت کئی ارب ڈالر ہو سکتی ہے اور اس کے ذریعے سعودی عرب کو جوہری توانائی کی جدید ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہوگی۔

تاہم اسرائیل میں اس مجوزہ معاہدے پر تحفظات بھی سامنے آئے ہیں۔ سابق اسرائیلی وزیر دفاع اویگدور لائبرمین نے اسے اسرائیل کے لیے اسٹریٹیجک خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہر فوجی جوہری پروگرام کی ابتدا سول جوہری پروگرام سے ہوتی ہے اور اگر سعودی عرب کو اپنی سرزمین پر یورینیم افزودگی کی اجازت دی گئی تو اس سے مشرق وسطیٰ میں جوہری ہتھیاروں کی نئی دوڑ شروع ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔

واضح رہے کہ معاہدہ ابراہیمی کا آغاز 2020 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں ہوا تھا، جس کا مقصد اسرائیل اور مختلف عرب و مسلم ممالک کے درمیان سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعلقات کو فروغ دینا تھا۔ اس معاہدے کے تحت متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لا چکے ہیں، جبکہ سعودی عرب کی ممکنہ شمولیت کو خطے کی سفارتی تاریخ میں ایک اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
  • آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے، وزیراعظم شریف