جنوبی ایشیا میں پائیدار امن خطے کی خوشحالی کے لیے ناگزیر ہے، پاکستانی ہائی کمشنر
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
کینیڈا میں پاکستان کے ہائی کمشنر محمد سلیم نے کہا ہے کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن خطے کی طویل المدتی خوشحالی کے لیے ناگزیر ہے۔
تفصیلات کے مطابق ان خیالات کااظہار انہوں نے ٹورنٹو کے تاریخی البانی کلب میں منعقدہ ایک تقریب سے کلیدی خطاب میں کیا۔ انہوں نے پاکستان کے مسابقتی اور پرکشش سرمایہ کاری کے شعبوں، بالخصوص کان کنی و معدنیات، آئی ٹی سے وابستہ خدمات، توانائی اور انفراسٹرکچر کواجاگر کیا۔
انہوں نے کہا کہ یہ فورم پاکستان اور کینیڈا کے درمیان دوطرفہ اقتصادی تعاون کے وسیع امکانات اور فوری نوعیت کے مواقع اجاگر کرنے کے لیے نہایت بروقت ثابت ہوا۔ ہائی کمشنر نے پاکستان اور کینیڈا کے مابین تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں موجود نمایاں مگر ابھی تک غیر استعمال شدہ صلاحیتوں پر روشنی ڈالی۔
انہوں نے پاکستان کے مسابقتی اور پرکشش سرمایہ کاری کے شعبوں، بالخصوص کان کنی و معدنیات، آئی ٹی سے وابستہ خدمات، توانائی اور انفراسٹرکچر کواجاگر کیا۔ پاکستان کی اقتصادی سفارت کاری کی مختلف کاوشوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے پاکستان کے اسٹریٹجک محلِ وقوع کو اجاگر کیا جو وسطی ایشیا، جنوبی ایشیا، خلیجی ممالک اور بحیرہ عرب و بحرِ ہند کے ذریعے دنیا کے دیگر خطوں کو آپس میں جوڑتا ہے۔
ہائی کمشنر نے علاقائی جغرافیائی و سیاسی صورتحال پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے اس امر پر زور دیا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن خطے کی طویل المدتی خوشحالی کے لیے ناگزیر ہے۔
1949 میں متنازعہ کشمیر خطے میں کینیڈا کے پہلے اقوامِ متحدہ امن مشن کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کشمیر تنازع کا پرامن حل اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں پر عملدرآمد کے ذریعے ممکن ہے، جن کے تحت آزاد اور منصفانہ استصوابِ رائے کے ذریعے بھارتی غیر قانونی طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کو یہ حق دیا جانا چاہیے کہ وہ پاکستان یا بھارت کے ساتھ الحاق کا فیصلہ خود کریں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: جنوبی ایشیا ہائی کمشنر پاکستان کے نے پاکستان انہوں نے کے لیے
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔