اسلام آباد سے نتھیاگلی تک لگژری ہیلی کاپٹر میں کیسے سفر کیا جا سکتا ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
سیاحوں کے لیے ایک منفرد اور پُرتعیش سفری سہولت متعارف کرا دی گئی ہے، جس کے تحت اب اسلام آباد سے خوبصورت پہاڑی مقام ناتھیاگلی تک ہیلی کاپٹر کے ذریعے سفر ممکن ہو گیا ہے۔ اس لگژری ہیلی کاپٹر سروس کا آغاز بیرن نامی ایوی ایشن کمپنی نے ناتھیاگلی کے ہوٹل ڈبل ٹری بائے ہلٹن کے اشتراک سے کیا ہے۔
ہیلی کاپٹر اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے پرواز بھرتا ہے اور نتھیاگلی میں ڈبل ٹری بائے ہلٹن ہوٹل کے خصوصی ہیلی پیڈ پر لینڈ کرتا ہے۔ ایک پرواز میں زیادہ سے زیادہ 5 مسافروں کی گنجائش رکھی گئی ہے، جو خاندانوں، چھوٹے گروپس اور انفرادی سیاحوں کے لیے موزوں ہے۔
یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا میں سیاحتی مقامات کے لیے ہیلی کاپٹر سروس کا آغاز، کرایہ کتنا ہوگا؟
اس سروس کا کرایہ 5 ہزار 300 امریکی ڈالر (راؤنڈ ٹرپ) یعنی تقریبا ساڑھے 14 لاکھ روپے مقرر کیا گیا ہے، جس کے باعث یہ سہولت خاص طور پر اُن افراد کے لیے متعارف کرائی گئی ہے جو آرام، سہولت اور منفرد تجربے کو ترجیح دیتے ہیں۔
متعلقہ حکام کے مطابق، اس اقدام سے مقامی اشرافیہ کے ساتھ ساتھ غیر ملکی سیاحوں کی توجہ بھی حاصل ہونے کی توقع ہے، جبکہ شمالی پاکستان میں ہائی اینڈ اور ایڈونچر ٹورازم کے فروغ میں بھی مدد ملے گی۔ یہ سروس دارالحکومت سے ایک تیز اور دلکش پہاڑی سیاحت کا نیا دروازہ کھولتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: گلگت بلتستان: سیلاب کے بعد امدادی سرگرمیاں جاری، ہیلی کاپٹروں کے ذریعے مریض گلگت منتقل
یہ خصوصی فضائی سفر سیاحت، اعلیٰ معیار کی سہولیات کو یکجا کرتا ہے، جو روایتی زمینی سفر کے مقابلے میں تیز، آرام دہ اور یادگار تجربہ فراہم کرتا ہے۔ ایک گھنٹے پر مشتمل یہ راؤنڈ ٹرپ مسافروں کو اسلام آباد اور ہمالیہ کے دامن میں واقع دلکش مناظر کو فضاء سے دیکھنے کا موقع دیتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسلام آباد سیاحت مری نتھیاگلی ہیلی کاپٹر سروس.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسلام آباد سیاحت نتھیاگلی ہیلی کاپٹر سروس اسلام آباد ہیلی کاپٹر کے لیے
پڑھیں:
آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار
آزاد جموں و کشمیر کے شہر میرپور اور اس سے ملحقہ علاقوں میں گزشتہ 47 روز سے معطل انٹرنیٹ سروس جزوی طور پر بحال ہونا شروع ہو گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ابتدائی مرحلے میں صرف موبائل انٹرنیٹ بحال کیا گیا ہے، جبکہ وائی فائی انٹرنیٹ سروس بلنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد بحال کی جائے گی۔
یاد رہے کہ آزاد کشمیر میں 5 جون 2026 کو انٹرنیٹ سروسز معطل کر دی گئی تھیں۔ یہ اقدام اس وقت کیا گیا تھا جب جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جیک) نے اپنے مطالبات کے حق میں احتجاجی تحریک شروع کرتے ہوئے 9 جون کو مظفرآباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا۔
بعد ازاں 5 جون کو ایکشن کمیٹی کے ایک مرکزی رکن پر مبینہ حملے اور مظاہرین و سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کے بعد حکومت نے کمیٹی کو کالعدم قرار دے دیا تھا، جبکہ اسی روز پورے آزاد کشمیر میں بغیر پیشگی اطلاع انٹرنیٹ سروس بھی معطل کر دی گئی تھی۔
اس سے قبل پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں پیپلز پارٹی آزاد کشمیر اور الیکشن کمیشن کی جانب سے انٹرنیٹ بحالی کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی تھی کہ میرپور میں سروس جلد بحال ہو جائے گی۔ انہوں نے یہ توقع بھی ظاہر کی کہ مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں بھی انٹرنیٹ سروس جلد بحال کر دی جائے گی۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب آزاد کشمیر میں قانون ساز اسمبلی کے انتخابات قریب ہیں۔ الیکشن کمیشن پہلے ہی سکیورٹی اور انتخابی انتظامات کو مؤثر بنانے کے لیے انتخابات تین مراحل میں کرانے کا اعلان کر چکا ہے۔
شیڈول کے مطابق پہلے مرحلے میں 27 جولائی کو میرپور ڈویژن، دوسرے مرحلے میں 2 اگست کو مظفرآباد ڈویژن اور مہاجرین کی نشستوں، جبکہ تیسرے اور آخری مرحلے میں 10 اگست کو پونچھ ڈویژن میں پولنگ ہوگی۔دوسری جانب کالعدم ایکشن کمیٹی کا راولاکوٹ میں احتجاج تاحال جاری ہے۔ کمیٹی کے اہم مطالبات میں مہاجرینِ مقبوضہ کشمیر کے لیے آزاد کشمیر اسمبلی میں مختص 12 نشستوں کے خاتمے سمیت دیگر آئینی اور انتظامی امور شامل ہیں۔