Islam Times:
2026-06-02@23:44:57 GMT

ملتان، شیعیان حیدر کرار کی احتجاجی ریلی 

اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT

مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے علامہ گلفام حسین ہاشمی، علامہ اقتدار نقوی، علامہ غلام جعفر انصاری، علامہ مبشر حسن اور دیگر نے کہا کہ اسلام آباد میں ہونے والا واقعہ حکومتی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے، دہشتگردوں کو کھلی چھٹی دے کر ملک کا امن تباہ کیا جا رہا ہے، دہشت گرد اسلام آباد میں دندناتے پھر رہے ہیں اور سرعام دارلحکومت میں جلسے کررہے ہیں۔  چھوٹی تصاویر تصاویر کی فہرست سلائیڈ شو

سانحہ اسلام آباد کیخلاف شیعیان حیدر کرار کے زیراہتمام ملتان میں احتجاجی ریلی

سانحہ اسلام آباد کیخلاف شیعیان حیدر کرار کے زیراہتمام ملتان میں احتجاجی ریلی

سانحہ اسلام آباد کیخلاف شیعیان حیدر کرار کے زیراہتمام ملتان میں احتجاجی ریلی

سانحہ اسلام آباد کیخلاف شیعیان حیدر کرار کے زیراہتمام ملتان میں احتجاجی ریلی

سانحہ اسلام آباد کیخلاف شیعیان حیدر کرار کے زیراہتمام ملتان میں احتجاجی ریلی

سانحہ اسلام آباد کیخلاف شیعیان حیدر کرار کے زیراہتمام ملتان میں احتجاجی ریلی

سانحہ اسلام آباد کیخلاف شیعیان حیدر کرار کے زیراہتمام ملتان میں احتجاجی ریلی

سانحہ اسلام آباد کیخلاف شیعیان حیدر کرار کے زیراہتمام ملتان میں احتجاجی ریلی

سانحہ اسلام آباد کیخلاف شیعیان حیدر کرار کے زیراہتمام ملتان میں احتجاجی ریلی

سانحہ اسلام آباد کیخلاف شیعیان حیدر کرار کے زیراہتمام ملتان میں احتجاجی ریلی

سانحہ اسلام آباد کیخلاف شیعیان حیدر کرار کے زیراہتمام ملتان میں احتجاجی ریلی

سانحہ اسلام آباد کیخلاف شیعیان حیدر کرار کے زیراہتمام ملتان میں احتجاجی ریلی

سانحہ اسلام آباد کیخلاف شیعیان حیدر کرار کے زیراہتمام ملتان میں احتجاجی ریلی

سانحہ اسلام آباد کیخلاف شیعیان حیدر کرار کے زیراہتمام ملتان میں احتجاجی ریلی

سانحہ اسلام آباد کیخلاف شیعیان حیدر کرار کے زیراہتمام ملتان میں احتجاجی ریلی

سانحہ اسلام آباد کیخلاف شیعیان حیدر کرار کے زیراہتمام ملتان میں احتجاجی ریلی

سانحہ اسلام آباد کیخلاف شیعیان حیدر کرار کے زیراہتمام ملتان میں احتجاجی ریلی

سانحہ اسلام آباد کیخلاف شیعیان حیدر کرار کے زیراہتمام ملتان میں احتجاجی ریلی

سانحہ اسلام آباد کیخلاف شیعیان حیدر کرار کے زیراہتمام ملتان میں احتجاجی ریلی

سانحہ اسلام آباد کیخلاف شیعیان حیدر کرار کے زیراہتمام ملتان میں احتجاجی ریلی

سانحہ اسلام آباد کیخلاف شیعیان حیدر کرار کے زیراہتمام ملتان میں احتجاجی ریلی

سانحہ اسلام آباد کیخلاف شیعیان حیدر کرار کے زیراہتمام ملتان میں احتجاجی ریلی

سانحہ اسلام آباد کیخلاف شیعیان حیدر کرار کے زیراہتمام ملتان میں احتجاجی ریلی

سانحہ اسلام آباد کیخلاف شیعیان حیدر کرار کے زیراہتمام ملتان میں احتجاجی ریلی

اسلام ٹائمز۔ اسلام آباد کی مسجد خدیج الکبری میں نماز جمعہ کے اجتماع میں نمازیوں پر ہونے والے خودکش حملے کے خلاف ملتان میں شیعیان حیدر کرار کے زیر اہتمام ملتان پریس کلب سے نواں شہر چوک تک احتجاجی ریلی نکالی گئی جو بعد ازاں احتجاجی علامتی دھرنے تبدیل ہو گیا، احتجاج کی قیادت مجلس وحدت مسلمین، شیعہ علما کونسل، امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن سمیت اراکین آمن کمیٹی نے کی جن میں علامہ گلفام حسین ہاشمی، علامہ غلام جعفر انصاری، علامہ مبشر حسن نقوی، علامہ مظہر عباس ساجد، علامہ مجاہد عباس جعفری، علامہ مجاہد عباس گردیزی، انجینیئر سخاوت علی سیال، سلیم عباس صدیقی، خاور شفقت بھٹہ، عون رضا انجم ایڈووکیٹ، سید مطہر شیرازی، بشارت عباس قریشی، شاہد عباس چاون جواد رضا جعفری،کمیل زیدی، سید علی حسن زیدی نے کی۔ ریلی میں خواتین، بچوں اور مردوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی ریلی کے شرکا نے بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے، جن پر دہشت گردی کے خلاف نعرے درج تھے، شرکا نے اسلام آباد میں ہونے والی دہشت گردی کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔

مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے علامہ گلفام حسین ہاشمی، علامہ اقتدار نقوی، علامہ غلام جعفر انصاری، علامہ مبشر حسن اور دیگر نے کہا کہ اسلام آباد میں ہونے والا واقعہ حکومتی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے، دہشتگردوں کو کھلی چھٹی دے کر ملک کا امن تباہ کیا جا رہا ہے، دہشت گرد اسلام آباد میں دندناتے پھر رہے ہیں اور سرعام دارلحکومت میں جلسے کررہے ہیں، حکومت اور اسٹیبلشمنٹ اپنی کرسی بچانے کے چکر میں قوم کی حفاظت کرنے میں ناکام ہو چکی ہے، اس واقعے میں ملوث دہشتگردوں اور ان کے سہولت کاروں کو فی الفور گرفتار کر کے کیفر کردار تک پہنچایا جائے، رہنماوں نے کہا کہ اگر 24 گھنٹوں میں قاتلوں کو گرفتار نہ کیا گیا تو قیادت کے حکم ملک کو جام کر دیں گے، حکومت ہمارے صبر کو آزما رہی ہے، مظاہرین نے نماز مغرب چوک نواں شہر میں ادا کی۔ اس موقع پر مولانا غدیر عباس شیرازی، سید قمر حسنین نقوی، حاجی شاہد حسین صدیقی، رانا ناظم حسین، مخدوم حسن رضا مشہدی، مخدوم ظہور شمسی، انیس حیدر نقوی، نفیس حیدر نقوی، یافث نوید ہاشمی، حسنین عباس انصاری، عاطف سرانی، ندیم عباس کاظمی، رانا فیضان الحسینی، جواد مصطفی، حسن رضا، حازق منیر اور دیگر موجود تھے۔.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: اسلام آباد میں

پڑھیں:

امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ

اسلام ٹائمز: یہ کہا جا سکتا ہے کہ امام خمینیؒ نے عالم اسلام میں ایک ایسی فکری اور سیاسی بیداری کو جنم دیا، جسکے اثرات آج بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے مسلمانوں کو اپنی شناخت، اپنی قوت اور اپنے مستقبل پر اعتماد کرنا سکھایا، وحدت اور بیداری کا پیغام دیا اور ظلم و استبداد کے مقابلے میں حق و عدالت کی آواز بلند کرنے کا حوصلہ عطا کیا۔ یہی وہ میراث ہے، جس نے انہیں بیسویں صدی کی مؤثر ترین اسلامی شخصیات کی صف اول میں لا کھڑا کیا اور جسکی بازگشت آج بھی عالم اسلام کے مختلف گوشوں میں سنائی دیتی ہے۔ تحریر: مجتبیٰ شجاعی

بیسویں صدی کی تاریخ میں ایسی عظیم اور غیر معمولی شخصیات نے جنم لیا، جنہوں نے اپنے افکار، کردار اور جدوجہد کے ذریعے دنیا کی سیاسی، سماجی اور فکری سمتوں کا رُخ موڑ دیا اور زمانے کی تقدیر بدل دی۔ حضرت امام خمینیؒ انہی نابغۂ روزگار اور درخشاں شخصیات میں شمار ہوتے ہیں، جنہوں نے نہ صرف ایران کی سیاسی تاریخ کو ایک نیا رخ عطا کیا، بلکہ پورے عالم اسلام کی فکری، ثقافتی اور سیاسی زندگی پر گہرے اور دیرپا اثرات مرتب کیے۔ ان کی قیادت میں برپا ہونے والا اسلامی انقلاب محض ایک سیاسی تبدیلی نہ تھا بلکہ ایک ایسی فکری اور تہذیبی تحریک تھی، جس نے عالم اسلام میں دین، سیاست، آزادی، بیداری اور اجتماعی شعور کے بارے میں نئی بحثوں کو جنم دیا۔

بانی انقلاب اسلامی حضرت امام خمینیؒ نے جب اپنی تحریک کا آغاز کیا، اس وقت عالم اسلام کا بیشتر حصہ سیاسی استبداد، بیرونی طاقتوں کے اثر و نفوذ، معاشی پسماندگی اور تہذیبی بحران کا شکار تھا۔ نوآبادیاتی دور کے اثرات ابھی تک مسلم معاشروں پر نمایاں تھے اور بہت سی اقوام اپنی تاریخی شناخت اور فکری خود اعتمادی سے محروم دکھائی دیتی تھیں۔ ایسے ماحول میں اسلامی انقلاب کی کامیابی نے مسلم دنیا کو یہ پیغام دیا کہ اسلام صرف عبادات اور انفرادی زندگی تک محدود مذہب نہیں، بلکہ ایک زندہ اور متحرک نظام حیات ہے، جو معاشرے کی تنظیم، ریاست کی تشکیل اور اجتماعی مسائل کے حل کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔

انقلاب اسلامی کی کامیابی کا سب سے بڑا اثر یہ تھا کہ اس نے مسلمانوں میں خود اعتمادی اور خود شناسی کے ایک نئے احساس کو جنم دیا۔ ایک طویل عرصے تک یہ تصور عام رہا تھا کہ ترقی اور جدیدیت کا راستہ صرف مغربی نمونوں کی تقلید سے ہو کر گزرتا ہے، لیکن امام خمینیؒ نے اس نظریئے کو عملاً چیلنج کیا۔ انہوں نے امت مسلمہ کو اپنی تہذیبی میراث، دینی اقدار اور داخلی صلاحیتوں پر اعتماد کرنے کی دعوت دی۔ ان کا پیغام یہ تھا کہ مسلمان اگر اپنی فکری بنیادوں سے وابستہ رہیں تو وہ نہ صرف اپنی آزادی اور وقار کا تحفظ کرسکتے ہیں بلکہ ترقی اور استحکام کی نئی منازل بھی طے کرسکتے ہیں۔

اسی فکری بیداری کے ساتھ امام خمینیؒ نے وحدت اسلامی کے تصور کو بھی غیر معمولی اہمیت دی۔ ان کے نزدیک عالم اسلام کو درپیش اکثر مسائل کی جڑ باہمی انتشار اور فرقہ وارانہ تقسیم تھی۔ وہ اس بات پر زور دیتے تھے کہ فقہی اور مسلکی اختلافات کو دشمنی کا سبب بنانے کے بجائے مسلمانوں کو اپنے مشترکہ عقائد، مشترکہ تاریخ اور مشترکہ مقاصد پر توجہ مرکوز کرنی چاہیئے۔ اسی سوچ کے تحت انہوں نے اسلامی وحدت کو اپنی سیاسی اور فکری جدوجہد کا بنیادی ستون قرار دیا اور امت مسلمہ کو ایک وسیع تر اسلامی اخوت کے تصور سے روشناس کرایا۔

وحدت اسلامی کے اس تصور کے ساتھ ساتھ امام خمینیؒ نے مظلوم اقوام کی حمایت کو بھی اپنی فکر کا اہم حصہ بنایا۔ ان کے نزدیک ظلم خواہ کسی بھی شکل میں ہو اور مظلوم کسی بھی خطے، مذہب یا مسلک سے تعلق رکھتا ہو، اس کی حمایت اور مدد ایک انسانی اور اسلامی فریضہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فلسطین کا مسئلہ ان کی فکر میں مرکزی حیثیت اختیار کر گیا۔ انہوں نے فلسطینی عوام کی جدوجہد کو صرف ایک قومی مسئلہ نہیں بلکہ پورے عالم اسلام کا مشترکہ مسئلہ قرار دیا۔ "یومِ القدس" کا اعلان دراصل اسی سوچ کا مظہر تھا، جس کے ذریعے انہوں نے مسئلہ فلسطین کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کی کوشش کی۔

امام راحل حضرت امام خمینیؒ کی قیادت اور انقلاب اسلامی کے تجربے نے دنیا بھر کی اسلامی تحریکوں کو بھی متاثر کیا۔ مختلف ممالک میں سرگرم دینی اور سیاسی حلقوں نے انقلاب اسلامی کو ایک ایسی مثال کے طور پر دیکھا، جس نے عوامی طاقت، مذہبی قیادت اور سیاسی عزم کے امتزاج سے ایک مضبوط نظام کو شکست دی۔ اگرچہ ہر ملک کے حالات اور تقاضے مختلف تھے، تاہم انقلاب اسلامی نے یہ احساس ضرور پیدا کیا کہ عوامی شعور اور نظریاتی استقامت کے ذریعے بڑی سیاسی تبدیلیاں ممکن ہیں۔

فکری سطح پر حضرت امام خمینیؒ کا ایک اہم کارنامہ دین اور سیاست کے تعلق کو ازسرنو موضوعِ بحث بنانا تھا۔ جدید دور میں یہ تصور بڑی حد تک رائج ہوچکا تھا کہ مذہب کو صرف انفرادی اور روحانی معاملات تک محدود رہنا چاہیئے، لیکن امام خمینیؒ نے اسلام کی جامعیت پر زور دیتے ہوئے یہ مؤقف اختیار کیا کہ دین انسانی زندگی کے تمام شعبوں کے لیے رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ ان کے اس نظریئے نے مسلم دنیا میں حکومت اسلامی، عوامی شرکت، دینی قیادت اور ریاست کے اسلامی تشخص کے بارے میں وسیع علمی مباحث کو جنم دیا۔

سیاسی میدان میں امام خمینیؒ کی فکر کا ایک نمایاں پہلو استعمار اور عالمی بالادستی کے خلاف مزاحمت تھا۔ وہ سمجھتے تھے کہ سیاسی آزادی اسی وقت معنی خیز ہوسکتی ہے، جب اس کے ساتھ فکری، ثقافتی اور معاشی آزادی بھی موجود ہو۔ ان کے نزدیک کسی بھی قوم کی عزت اور خود مختاری کا انحصار اس بات پر ہے کہ وہ اپنی داخلی صلاحیتوں پر اعتماد کرے اور بیرونی طاقتوں کے تسلط سے آزاد رہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا استقلال اور خود انحصاری کا پیغام دنیا کے مختلف مسلم معاشروں میں وسیع پذیرائی حاصل کرنے میں کامیاب ہوا۔

ثقافتی اعتبار سے بھی امام خمینیؒ نے مسلم معاشروں میں اسلامی شناخت کے احیاء میں نمایاں کردار ادا کیا۔ انہوں نے بارہا اس بات کی نشاندہی کی کہ تہذیبی خود فراموشی اور فکری مرعوبیت کسی بھی قوم کو اس کی اصل طاقت سے محروم کر دیتی ہے۔ اس لیے وہ اسلامی اقدار، دینی تعلیمات اور تہذیبی ورثے کی حفاظت کو ترقی اور بیداری کے لیے ناگزیر قرار دیتے تھے۔ ان کے یہ افکار خصوصاً نوجوان نسل میں ایک نئے فکری رجحان کا باعث بنے اور انہیں اپنی تہذیبی شناخت پر فخر کرنے کا حوصلہ ملا۔

بانی انقلاب کی شخصیت صرف ایک سیاسی رہبر تک محدود نہیں تھی بلکہ وہ ایک ممتاز فقیہ، عارف، فلسفی اور مفکر بھی تھے۔ ان کی علمی اور فکری کاوشوں نے انہیں عالم اسلام کے دانشور طبقے میں ایک منفرد مقام عطا کیا۔ ان کی فقہی، عرفانی اور سیاسی تصانیف مختلف زبانوں میں ترجمہ ہوئیں اور دنیا بھر کے علمی مراکز میں ان پر تحقیق کا سلسلہ جاری رہا۔ اس طرح ان کے افکار محض سیاسی حلقوں تک محدود نہیں رہے، بلکہ علمی اور فکری دنیا میں بھی وسیع اثرات کے حامل ثابت ہوئے۔

4 جون 1989ء میں حضرت امام خمینیؒ کی رحلت نے پورے عالم اسلام کو سوگوار کر دیا۔ ان کے جنازے میں لاکھوں انسانوں کی شرکت اس حقیقت کا واضح ثبوت تھی کہ امام خمینیؒ کسی مخصوص طبقہ، کسی مخصوص مسلک یا صرف ایک ملک کے رہنما نہیں بلکہ ایک بین الاقوامی اسلامی شخصیت کی حیثیت اختیار کرچکے تھے۔ آج ان کی رحلت کے کئی عشروں بعد بھی ان کے افکار، نظریات اور سیاسی تصورات عالم اسلام کی فکری اور سیاسی زندگی میں زندہ ہیں۔ استقلال، وحدت اسلامی، دفاع مظلوم، عوامی شرکت اور اسلامی تشخص جیسے موضوعات اب بھی مسلم دنیا کے اہم مباحث میں شامل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ معاصر عالم اسلام کی سیاسی و فکری تاریخ کا مطالعہ امام خمینیؒ کے کردار اور اثرات کے جائزے کے بغیر نامکمل تصور کیا جاتا ہے۔

مختصراً یہ کہا جا سکتا ہے کہ امام خمینیؒ نے عالم اسلام میں ایک ایسی فکری اور سیاسی بیداری کو جنم دیا، جس کے اثرات آج بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے مسلمانوں کو اپنی شناخت، اپنی قوت اور اپنے مستقبل پر اعتماد کرنا سکھایا، وحدت اور بیداری کا پیغام دیا اور ظلم و استبداد کے مقابلے میں حق و عدالت کی آواز بلند کرنے کا حوصلہ عطا کیا۔ یہی وہ میراث ہے، جس نے انہیں بیسویں صدی کی مؤثر ترین اسلامی شخصیات کی صف اول میں لا کھڑا کیا اور جس کی بازگشت آج بھی عالم اسلام کے مختلف گوشوں میں سنائی دیتی ہے۔ (مضمون نگار صحافی اور ریسرچ اسکالر ہیں)

متعلقہ مضامین

  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ
  • اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
  • محکمہ موسمیات نے تیزہواؤں اور گرج چمک کیساتھ بارش کی پیش گوئی کردی
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  • جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے کی کوشش ناکام، 2 خواتین آف لوڈ، ایجنٹس گرفتار
  • کراچی: احسن آباد میں نجی نرسنگ انسٹیٹیوٹ سے لڑکی کی لاش برآمد
  • بحرین میں محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی شیعیان علیؑ کیخلاف کریک ڈاون میں تیزی
  • دوسرا ون ڈے: پاکستان کا آسٹریلیا کیخلاف ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے