پاکستان بزنس فورم کا حکومت سے ڈبے والے دودھ کی قیمت 50 روپے لیٹر کم کرنے کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پاکستان بزنس فورم (پی بی ایف) نے حکومت سے ڈبا پیک دودھ بنانے والی کمپنیوں کو مؤثر طور پر ریگولیٹ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
پاکستان بزنس فورم کے مطابق ڈیری مصنوعات روزمرہ استعمال کی بنیادی ضرورت ہیں، مگر اس شعبے میں مناسب نگرانی کا فقدان ہے۔ فورم کا کہنا ہے کہ دودھ بنانے والی کمپنیاں ریٹیل مارکیٹ میں فی لیٹر دودھ 360 سے 380 روپے تک فروخت کر رہی ہیں، جبکہ خریداری قیمت اور لاجسٹکس اخراجات شامل کرنے کے باوجود دودھ کی اصل لاگت تقریباً 180 روپے فی لیٹر بنتی ہے۔
پی بی ایف کے مطابق بھارت اور بنگلادیش میں ٹیٹرا پیک دودھ کی قیمت پاکستانی کرنسی میں 250 سے 270 روپے فی لیٹر کے درمیان ہے، جبکہ پاکستان میں معروف ڈیری کمپنیوں کی 2025 میں آمدنی 60 سے 100 ارب روپے تک رہی ہے۔
پاکستان بزنس فورم کے چیف آرگنائزر احمد جواد نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت ڈیری مصنوعات پر جی ایس ٹی کی شرح 7 فیصد مقرر کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ مہنگائی کم کرنے کے حکومتی دعوے عملی شکل اختیار نہیں کر پا رہے، اس لیے ٹیٹرا پیک دودھ کی قیمت میں فی لیٹر کم از کم 50 روپے کی فوری کمی کرائی جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پاکستان بزنس فورم فی لیٹر دودھ کی
پڑھیں:
پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں سمیت مختلف شعبوں کے لیے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے گورننس، ٹیکنالوجی، توانائی اور خواتین کی فلاح و بہبود کو خصوصی ترجیح دی جائے گی۔
دستاویزات کے مطابق پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) اچیومنٹ پروگرام کے تحت ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 70 ارب روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ کابینہ ڈویژن کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے 2 ارب روپے جبکہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے منصوبوں کے لیے ایک ارب 70 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پی ایس ڈی پی 2026-27 میں پارلیمنٹ لاجز کی اپ گریڈیشن کے لیے 5 کروڑ 60 لاکھ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اسی طرح نیشنل آرکائیوز آف پاکستان کی بحالی اور جدید خطوط پر استوار کرنے کے منصوبے کے لیے 5 ارب 50 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔
توانائی کے شعبے میں سرکاری عمارتوں میں شمسی توانائی کے نظام کی بہتری اور توانائی بچت اقدامات کے لیے 19 کروڑ 40 لاکھ روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
وفاقی دارالحکومت میں جدید ٹیکنالوجی حب کے قیام کے لیے اسلام آباد ٹیکنوپولس منصوبے پر ایک ارب 58 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ فیڈرل پبلک سروس کمیشن (FPSC) کے امتحانی نظام کو ڈیجیٹل بنانے کے لیے 70 کروڑ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
خواتین کی فلاح و بہبود کے منصوبوں کے تحت اسلام آباد میں ورکنگ ویمن ہاسٹل کے قیام کے لیے 16 کروڑ 70 لاکھ روپے جبکہ خواتین افسران کے لیے رہائشی سہولیات کی فراہمی کے منصوبے پر 82 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ڈیجیٹل گورننس، سرکاری اداروں کی استعداد کار بڑھانے، توانائی بچت اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔