عمان مذاکرات کی بحالی اسلامی جمہوریہ ایران کی سفارتی فتح
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
اسلام ٹائمز: ٹرمپ نے بیان دیا کہ ایران بڑی مشکل میں ہے اور ہمارا بہت جدید اسلحہ خطے میں پہنچ چکا ہے اس پر رہبر معظم کا بیان آ گیا جس میں آپ نے فرمایا:یہ حقیقت کہ امریکی کبھی جنگ کی باتیں کرتے ہیں اور ہوائی جہازوں اور بحری بیڑوں وغیرہ کی بات کرتے ہیں، یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ ماضی میں امریکیوں نے اپنی بیانات میں بارہا دھمکیاں دی ہیں اور کہا ہے کہ تمام آپشن میز پر ہیں۔ جنگ کا آپشن بھی شامل ہے۔ اب یہ شخص (ٹرمپ) بھی تواتر سے یہ دعویٰ کر رہا ہے کہ ہم جہاز لے کر آئے ہیں اور.
امریکہ جال بچھاتا ہے اور اس پر بڑی پلاننگ کرتا ہے۔ وہاں موجود تھنک ٹینکس اور دیگر ادارے بڑی باریک بینی سے ہر چیز کا تجزیہ کرکے اپنے پتے شو کرتے ہیں۔ تازہ واردات مذاکرات کے لیے استنبول کا انتخاب تھا اور اس میں ایک اہم تبدیلی ترکی، پاکستان اور دیگر ممالک کی شمولیت تھی۔ بین الاقوامی سفارتی امور کے ماہرین یہ جانتے ہیں کہ ہر بات کو ایک مطلب اور پیغام ہوتا ہے۔ امریکہ نے خطے میں اپنی پورے طاقت جمع کرلی ہے اور اب جو بھی فوجی صلاحیت تھی ساری کی ساری خلیج فارس اور اس کے اردگرد میں جمع کر چکا ہے۔ یہ دباؤ کی ٹرمپ حکمت عملی ہے جس میں ایک ہی بار مسلسل میڈیا کی پوری طاقت اور تمام ذرائع کو مطلوبہ مقصد کو حاصل کرنے پر لگا دیا جاتا ہے۔ آپ کو یاد ہوگا کچھ عرصہ پہلے امن کا نوبل انعام حاصل کرنے کے لیے کیسے پورے میڈیا کو ایک طرف لگا دیا تھااس وقت یہ لگ رہا تھا کہ دنیا کا سب سے اہم مسئلہ ٹرمپ کو نوبل انعام ملنے کا فیصلہ ہے۔ اسی طرح گرین لینڈ کی طرف رخ کیا تو وہاں بھی پورے یورپ کو باندھ کر پورے نشانے پر رکھا۔ حد یہ تھی کہ یورپی ممالک اور میڈیا میں یہ خبریں آ رہی تھیں کہ امریکی افواج گرین لینڈ پر قبضے کے لیے کاروائی کر سکتی ہیں اور جس کو روکنے کے لیے چند مضحکہ خیز اقدامات نیٹو نے بھی اٹھائے تھے۔ ایران میں یہی حکمت عملی اختیار کی گئی مگر ساتھ ہی کچھ اور پتے بھی پھینکے گئے ہیں۔ تہران کے پرامن احتجاج کو اپنے ایجنٹوں کے ذریعے متشدد کروایا گیا۔ اسی طرح اب خلیج فارس میں دوسری جنگ عظیم کے بعد کی سب سے بڑی فوجی موومنٹ ہو رہی ہے۔
امریکہ بڑے طریقے سے ایران کے پڑوسیوں کو انوالو کیا اور ایران کو استنبول میں مذاکرات پر راضی کرنے کا ٹاسک دیا۔ ایرانی وزیر خارجہ پہلے دن سے کہہ رہے تھے کہ ہم آبرومندانہ مذاکرات کے لیے تیار ہیں اور جنگ مسلط کی گئی تو اس کے لیے بھی تیار ہیں۔ اس لیے فورا ان مذاکرات کو قبول کر لیا گیا کہ اس بات پر متفق ہیں کہ مذاکرات ہونے چاہیں۔ یہاں تک امریکی سمجھے کہ ایران ہماری چال کا شکار ہوگیا ہے، اب ہم مذاکرات میں ایٹمی پروگرام، میزائل پروگرام اور امریکہ سیکرٹری خارجہ کے مطابق ایران میں مظاہرہ کرنے والوں کو بھی شامل کریں گے۔ جب میڈیا پر بھرپور تشہیر ہو چکی اور امریکہ نے بھی مذاکرات کے لیے افراد نامزد کر دیئے تو اب ایران کی طرف سے یہ مطالبہ کیا گیا کہ مذاکرات استنبول کی بجائے مسقط میں ہوں گے اور یہ پرانے مذاکرات کی ہی بحالی ہوگی۔، اسی طریقہ کار کے مطابق امریکہ کے ساتھ مزاکرات کیے جائیں گے۔ یوں ایران نے پوری گیم ہی پلٹ دی اگر ایران شروع میں ہی یہ مطالبہ رکھتا کہ پرانے مذاکرات کو بحال کیا جائے تو حالات کی ذمہ داری ایران پر ڈالی جاتی مگر ایران نے بڑی حکمت عملی سے اب مذاکرات سے فرار کی ذمہ داری کا آپشن امریکہ کی طرف منتقل کر دیا۔ امریکیوں نے اپنے چینلز سے جو بھی دھمکیاں وہ دے سکتے وہ دیں کہ مذاکرات نہ کئے تو یہ ہو جائے گا وہ ہو جائے گا جواب دیا گیا کہ پہلے وہ کر لیں پھر مذاکرات ہو جائیں گے۔ اسلامی جمہوریہ اسلامی جمہوریہ ایران کی بہت بڑی کامیابی ہے کہ وہ مذاکرات کو ایٹمی موضوع تک محدود رکھنے میں کامیاب ہو گیا۔
آپ امریکی مشکل کو سمجھنا چاہتے ہیں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا وہ انٹرویو ضرور سنیں جس میں وہ کہہ رہا ہے کہ ہمارے صدر جس بھی دوست یا دشمن روس ہو یا چین اس کے صدر سے براہ راست بات کر سکتے ہیں مگر ایران میں ایسا نہیں ایران کا اصل اختیار رہبر کے پاس ہے ان سے بات نہیں ہو سکتی۔ جے ڈی وینس نظام کے تحفظ کے دائرے کی طاقت کا اعلانیہ اعتراف کر رہے ہیں۔ یہ مذاکرات اعصاب کی مضبوطی کا بھی امتحان ہیں۔ آپ دیکھیں بدھ کو امریکی فضائیہ کا تیسرا ای-11 اے طیارہ یونان کے جزیرے کریٹ پر واقع خانیا انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے روانہ ہوا۔ تقریباً چار گھنٹے بعد یہ سعودی عرب میں پرنس سلطان ایئر بیس پر پہنچا۔ یہ مذاکرات کے دوران دباؤ کی ایک کوشش تھی۔ اس کا جواب یوں دیا گیا کہ یہ خبر جاری کر دی گئی کہ سب سے جدید طویل فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائلوں میں سے ایک خرم شہر فور کو پاسدارانِ انقلاب کے زیرِ زمین مراکز میں ایک میں نصب کر دیا گیا ہے۔ خرم شہر۔ فور دو ہزار کلومیٹر تک اپنے ہدف کو نشانہ بنا سکتا ہے اور یہ پندرہ سو کلوگرام وزنی دھماکہ خیز وارہیڈ لے جانے کی بھی صلاحیت رکھتا ہے۔
ٹرمپ نے بیان دیا کہ ایران بڑی مشکل میں ہے اور ہمارا بہت جدید اسلحہ خطے میں پہنچ چکا ہے اس پر رہبر معظم کا بیان آ گیا جس میں آپ نے فرمایا:یہ حقیقت کہ امریکی کبھی جنگ کی باتیں کرتے ہیں اور ہوائی جہازوں اور بحری بیڑوں وغیرہ کی بات کرتے ہیں، یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ ماضی میں امریکیوں نے اپنی بیانات میں بارہا دھمکیاں دی ہیں اور کہا ہے کہ تمام آپشن میز پر ہیں۔ جنگ کا آپشن بھی شامل ہے۔ اب یہ شخص (ٹرمپ) بھی تواتر سے یہ دعویٰ کر رہا ہے کہ ہم جہاز لے کر آئے ہیں اور... ایرانی قوم کو ان باتوں سے خوفزدہ نہ کرو، ایرانی عوام ان دھمکیوں سے متاثر ہونے والے نہیں۔ ہم جنگ شروع نہیں کریں گے، نہ کسی بھی ملک پر حملے کا ارادہ رکھتے ہیں لیکن ایران کے عوام حملہ آور کو منہ توڑ جواب دیں گے۔ یقیناً امریکیوں کو معلوم ہونا چاہیئے کہ اگر انہوں نے جنگ شروع کی تو اس بار یہ جنگ ایک علاقائی جنگ ہوگی۔ یہاں علاقائی جنگ بہت اہم ہے اس ایک جملے نے ماحول میں توازن پیدا کر دیا۔ مذاکرات کی تفصیل باہر نہیں آئی بس امید افزا باتیں کی گئی ہیں مگر اعتبار کرنا مشکل ہے پچھلی بار بھی مذاکرات میں الجھا کر وار کر دیا گیا تھا۔ اچھے کی امید رکھیں اور برے کی تیاری رکھیں اور یہی حکمت عملی لگ رہی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: مذاکرات کے حکمت عملی کرتے ہیں دیا گیا ہیں اور کے لیے گیا کہ کر دیا کی بات ہے اور
پڑھیں:
باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
ایک نئی جنگ شروع ہوتی نظر آرہی ہے۔ یمن کے حوثیوں نے بحیرہ احمر سے باب المندب بند کر دیا ہے۔پہلے امریکا ایران جنگ کی وجہ سے دنیا جنگ کا شکار ہے۔ پوری کوشش کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا۔آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے دنیا میں تیل کی قیمتیں اوپر جا رہی ہیں۔ اب باب المندب کی بندش تیل کی قیمتوں کو مزید اوپر لے کر جائے گی۔ جس کی وجہ تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ اور ایک بحرانی کیفیت بنتی نظر آرہی ہے۔
باب المندب کی بندش کے بعد حوثیوں نے سعودی عرب کے دو تیل کے ٹینکرز کو بھی تباہ کر دیا ہے۔ ایک تیل کے ٹینکر کو میزائیل لگنے کی سعودی عرب نے تصدیق کر دی ہے۔ عالمی منڈی کا رحجان یہی رہا ہے کہ جب تیل کا ایک ٹینکر تباہ ہوتا ہے تو انشورنس ختم ہو جاتی ہے۔
کوئی کمپنی بھی اپنا جہاز وہاں سے گزارنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ اس لیے حوثیوں کو باب المندب بند کرنے کے لیے دو جہاز ہی تباہ کرنے تھے ۔ باقی جہاز خود ہی آنے سے انکار کر دیں گے۔ اس لیے باب المندب بند ہوگیا ہے۔ اب جب تک یا تو حوثی اس کو کھولنے کا اعلان نہ کریں یا حوثیوں کی اس کو بند کرنے کی صلاحیت ختم نہ ہوجائے تب تک یہ کھل نہیں سکتا۔
حوثیوں کی جانب سے بندش کے اعلان کے بعد پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی ایک شدید سخت بیان جاری کیا تھا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ اگر کسی پاکستانی جھنڈے کے حامل جہاز پر حملہ کیا گیا تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔اس کے علاوہ باب المندب کی بندش کی مذمت بھی کی گئی تھی اور اس کے خلاف سخت رد عمل جاری کیا گیا تھا۔ لیکن اس بیان کے اگلے ہی دن سعودی عرب کے دو جہازوں پر حملہ کر دیا گیا ہے۔ یہ درست ہے کہ یہ پاکستانی جہاز نہیں تھے۔ لیکن یہ سعودی عرب کے جہاز تھے اور پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ بھی تھا۔
باب المندب بند کرنا لگتا ہے ایران کے لیے ناگزیر تھا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کم ہی سہی لیکن ایک مناسب مقدار میں اپنا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کر رہے تھے۔ اس لیے ان کی تیل کی برآمد چل رہی تھی۔ کنویں بند نہیں ہو رہے تھے۔ وہاں کوئی خاص بحران نہیں تھا۔
دنیا کو بھی تیل مل رہا تھا اور ایسی خبریں آرہی تھیں کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ایسی تیل کی لائنیں بچھا رہے ہیں کہ اگلے دو سال میں ان کا آبنائے ہرمز پر انحصار ختم ہو جائے گا۔ وہ اپنا سارا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کرنے کی پوزیشن میں ہونگے۔ یہ تیاری ایران کے آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھنے کی اہمیت کو کم کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔ اس لیے شائد ایران کو بھی سمجھ آگئی ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز سے جو بھی فائدہ اٹھانا ہے اس کی مدت کم ہے۔ عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات متبادل بندوبست تیزی سے کر رہے ہیں۔
شائد اسی لیے ایران نے بھی حوثیوں کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ باب المندب بند کر دیں ۔ کیونکہ ایران کے پاس بھی وقت کم ہے۔ویسے بھی چند دن پہلے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر نے ان کی طرف سے یہ بیان دیا تھا کہ اگر امریکا نے ایران پر بمباری بند نہ کی تو ایران جنگ کو وسیع کر دے گا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ باب المندب بند کرنا جنگ کو وسیع کرنے کی ایک شکل ہے۔ جنگ پھیل گئی ہے۔ ایران جنگ کو پھیلانا چاہتا تھا تو اس نے پھیلا دی ہے۔
باب المندب سے دنیا کے تیل کی سات فیصد ترسیل ہوتی ہے۔ اس لیے سات فیصد کی ترسیل بند ہو گئی ہے۔ لیکن یہ صرف اتنی بات نہیں کئی ماہ سے یو اے ای اور سعودی عرب کے درمیان جاری سرد جنگ بھی یک دم ختم ہوگئی ہے۔ باب المندب بند ہونے کی خبر کیا آئی سعودی عرب اور یو اے ای میں صلح ہوگئی دونوں کے وزراء نے ایک دوسرے کے ساتھ تصویر پوسٹ کر دیں کہ ہم بھائی ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش تو انھیں اکٹھا نہیں کر سکی لیکن باب المندب کی بندش نے انھیں اکٹھا کر دیا۔ اب آگے کا منظر نامہ کیا ہو سکتا ہے۔ پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ موجود ہے۔
اگر سعودی عرب باب المندب کھلوانے کے لیے حوثیوں کے ساتھ جنگ شروع کرتا ہے اور جواب میں حوثی سعودی عرب پر حملہ کرتے ہیں تو پاکستان اپنے دفاعی معاہدہ کے تحت سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہونے کا پابند ہوگا۔ کیسے اور کتنا، اس سوال کا ابھی تک کسی کے پاس کوئی جواب نہیں۔ لیکن حوثیوں نے یہ خبردار کیا ہے کہ اگر ان پر کسی بھی قسم کا کوئی بھی حملہ کیا گیا تو وہ سعودی عرب کی تیل اور دیگر تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے۔ایک عمومی رائے یہ ہے کہ اتنی سخت بمباری کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا تو کیا صرف بمباری سے باب المندب کھلوایا جا سکے گا۔ حوثی بھی جواب میں میزائل ماریں گے۔
یہ درست ہے کہ ان کے پاس ایران جتنے میزائل نہیںہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے پاس میزائل ہیں۔ انھوں نے ماضی میں اسرائیل اور سعودی عرب پر میزائیل مارے بھی ہیں۔ شاید حوثیوں کو یہ لگ رہا ہے کہ جیسے ایران کی دیگر پراکسیوں کو ختم کیا جا رہا ہے۔ اگر وہ اس جنگ سے باہر رہتے ہیں تو بعد میں ان کی باری بھی آئے گی۔ اس لیے جنگ میں شامل ہونے کا یہ بہترین وقت ہے۔ باب المندب اور آبنائے ہرمز کا معاملہ اکٹھے طے کیا جائے، مل کر بات کی جائے، اس سے طاقت بڑھ جائے گی۔
اب سوال یہی ہے کہ پاکستان ایران امریکا لڑائی میں تو غیر جانبدار رہا۔ جس کی وجہ سے وہ آج تک ثالث ہے۔ لیکن کیا وہ باب المندب کی بندش اور سعودی عرب اور حوثیوں کی لڑائی میں بھی غیر جانبدار رہے گا۔ عملی طور پر یہ ممکن نظر نہیں آرہا۔ پاکستان کو سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا۔ اس کے علاوہ کوئی اور حل نظر نہیں آرہا۔ امریکا ایران میں مصروف ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باب المندب کھلوانے کے لیے کردار ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن پہلی ترجیح ایران ہی ہوگا۔ ایسے میں یہ لڑائی فی الحال سعودی عرب کو خود ہی لڑنی ہوگی۔ اگر پاکستان اس لڑائی میں شریک ہوتا ہے تو پھر اس کی ثالث کی پوزیشن بھی ختم ہو جائے گی۔ ایران پاکستان کو بھی لڑائی میں فریق سمجھے گا۔ خدشہ ہے کہ پاکستان بھی نہ چاہتے ہوئے لڑائی میں شامل ہو جائے گا۔ ہم پہلے بھی ایران کو بتا چکے ہیں کہ سعودی عرب ہماری ریڈ لائن ہے۔ لیکن شائد حوثی پاکستان کی اس بات کو نہیں سمجھیں گے، وہ سعودی عرب پر حملے کریں گے۔
اس تناظر میں دیکھا جائے تو لڑائی وسیع ہو رہی ہے۔ ایک خطرناک منظر نامہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حوثیوں کے خلاف لڑائی میں پاکستان سعودی عرب ، یو اے ای ، امریکا اور اسرائیل مل کر لڑ رہے ہوں۔ یہ بھی لڑائی کی کوئی اچھی شکل نہیں ہوگی۔ لیکن اس کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ممکن ہے۔