لیبیا کے ساحل کے قریب کشتی الٹنے سے 53 تارکین وطن ہلاک اور لاپتا
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
لیبیا کے شمال مغربی ساحل کے قریب تارکینِ وطن کو لے جانے والی ربڑ کی کشتی الٹنے سے کم از کم 53 افراد ہلاک یا لاپتا ہو گئے، جن میں 2 شیر خوار بچے بھی شامل ہیں۔ بین الاقوامی تنظیم برائے مہاجرت نے پیر کے روز اس المناک واقعے کی تصدیق کی۔
تنظیم کے مطابق کشتی 5 فروری کی رات تقریباً 11 بجے الزاویہ سے روانہ ہوئی اور تقریباً 6 گھنٹے بعد زوارہ کے شمال میں بحیرۂ روم میں الٹ گئی۔ عینی شاہدین اور بچ جانے والوں کے بیانات کے مطابق کشتی میں سوار تمام 55 افراد سمندر میں جا گرے۔
یہ بھی پڑھیے: لیبیا کشتی حادثہ: انسانی اسمگلنگ میں ملوث ایجنٹ گرفتار
لیبی حکام کی جانب سے کیے گئے سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن کے دوران صرف دو نائجیرین خواتین کو زندہ بچایا جا سکا۔ ایک خاتون نے بتایا کہ اس حادثے میں ان کے شوہر جان کی بازی ہار گئے، جبکہ دوسری خاتون نے اپنے دو کمسن بچوں کے ڈوبنے کی اطلاع دی۔
بین الاقوامی تنظیم برائے مہاجرت کی ٹیموں نے لیبی حکام کے تعاون سے دونوں خواتین کو ساحل پر پہنچنے کے بعد فوری طبی امداد فراہم کی۔
بچ جانے والی خواتین کے مطابق کشتی میں پانی داخل ہونا شروع ہوا تھا جس کے بعد وہ بے قابو ہو کر الٹ گئی۔ کشتی میں سوار افراد افریقی ممالک سے تعلق رکھنے والے مہاجرین اور پناہ گزین تھے جو یورپ پہنچنے کی کوشش کر رہے تھے۔
یہ بھی پڑھیے: ترکیہ میں طیارہ حادثہ، لیبیا کے آرمی چیف محمد الحداد ساتھیوں سمیت جاں بحق
تنظیم کے اعداد و شمار کے مطابق جنوری 2026 میں وسطی بحیرۂ روم میں خراب موسمی حالات کے باعث مختلف حادثات میں کم از کم 375 تارکینِ وطن ہلاک یا لاپتا ہوئے، جبکہ خدشہ ہے کہ سینکڑوں اموات کا اندراج نہیں ہو سکا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: کے مطابق
پڑھیں:
یو اے ای ویزا آن ارائیول کی نئی شرائط اور فیس جاری
دبئی: یو اے ای ویزا آن ارائیول سے متعلق متحدہ عرب امارات نے نئی شرائط، فیس اور درخواست کے طریقہ کار کی تفصیلات جاری کر دی ہیں۔ نئی ہدایات کے تحت مخصوص ممالک کے اہل شہری امارات پہنچنے پر 14 یا 60 روزہ ویزا حاصل کر سکیں گے، تاہم اس کے لیے مقررہ شرائط پر پورا اترنا لازمی ہوگا۔
دبئی کی جنرل ڈائریکٹوریٹ آف آئیڈینٹیٹی اینڈ فارنرز افیئرز (GDRFA) کے مطابق بھارت، انڈونیشیا، ویتنام، تھائی لینڈ، فلپائن، کینیا اور جنوبی افریقہ کے شہری، اور ان کے ہمراہ سفر کرنے والے اہل خانہ، اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
حکام کے مطابق درخواست گزار کے پاس کم از کم چھ ماہ کے لیے کارآمد پاسپورٹ، سفید پس منظر والی حالیہ رنگین تصویر اور امریکا، برطانیہ، یورپی یونین، کینیڈا، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، جاپان، جنوبی کوریا یا سنگاپور کی جانب سے جاری کردہ قابل قبول رہائشی پرمٹ یا ویزا ہونا ضروری ہے۔
اعلامیے کے مطابق 14 روزہ ویزا آن ارائیول کو صرف ایک مرتبہ مزید 14 دن کے لیے توسیع دی جا سکتی ہے، جبکہ 60 روزہ ویزا میں توسیع کی سہولت دستیاب نہیں ہوگی۔
جی ڈی آر ایف اے نے بتایا کہ ویزا کے لیے درخواست اس کی سرکاری ویب سائٹ یا اسمارٹ ایپ کے ذریعے جمع کرائی جا سکتی ہے۔ درخواست کی منظوری کے بعد ویزا رجسٹرڈ ای میل پر ارسال کیا جائے گا، جبکہ عام طور پر درخواستوں پر 48 گھنٹوں کے اندر کارروائی مکمل کر لی جاتی ہے۔
فیس کے حوالے سے جاری تفصیلات کے مطابق 14 روزہ ویزا آن ارائیول کی فیس 172.50 درہم جبکہ 60 روزہ ویزا کی فیس 422.50 درہم مقرر کی گئی ہے۔
جی ڈی آر ایف اے کا کہنا ہے کہ اس سہولت کا مقصد بین الاقوامی مسافروں کے لیے سفری عمل کو مزید آسان بنانا، سیاحت کو فروغ دینا اور زیادہ سے زیادہ سیاحوں کو متحدہ عرب امارات کی جانب راغب کرنا ہے۔
ادارے کے اعداد و شمار کے مطابق سال 2026 کے پہلے چھ ماہ کے دوران اس پروگرام کے تحت 73 ہزار 551 ویزے جاری کیے جا چکے ہیں، جو اس سہولت کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کی نشاندہی کرتے ہیں۔
اہم وضاحت: جاری کردہ شرائط میں پاکستانی پاسپورٹ ہولڈرز شامل نہیں ہیں۔ یہ سہولت صرف ان مخصوص ممالک کے شہریوں کے لیے ہے جن کا جی ڈی آر ایف اے نے اعلان کیا ہے۔