’ مشکل جیو پولیٹیکل حالات کے باوجود پاکستان کی اصلاحاتی رفتار برقرار ‘
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
مشعل پاکستان نے پاکستان ریفارمز رپورٹ 2026 کا اجراء کر دیا جس کے مطابق مشکل جیو پولیٹیکل حالات کے باوجود اصلاحاتی رفتار برقرار رہی۔
ریفارمز رپورٹ کے مطابق پاکستان ریفارمز رپورٹ کے مطابق گورننس میں بڑے پیمانے پر اصلاحات کی پیشرفت ہوئی، ایک سال میں 135 اداروں میں 600 سے زائد اصلاحات نافذ ہوئیں جبکہ اصلاحات کے حجم میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 5 گنا اضافہ ہوا۔
اصلاحاتی عمل میں توانائی کا شعبہ سرفہرست رہا، مجموعی اصلاحات کا 40 فیصد حصہ صرف انرجی سیکٹر کا رہا۔ پاور سیکٹر میں آئی پی پیز کے ساتھ نئے معاہدوں سے 1.
رپورٹ کے مطابق ڈیجیٹل پاکستان کیلئے 200 سے زائد اصلاحات ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے نافذ ہوئیں۔ ریکوڈک منصوبے میں پیش رفت اور گیس پالیسی کے تحت 11 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے اہداف مقرر کیے گئے۔ حکومت نے استحکام سے طویل المدتی ریاستی صلاحیت کی تعمیر کی جانب منتقلی کا عزم ظاہر کیا۔
پاکستان ریفارمز رپورٹ میں قانون و انصاف اور آئی ٹی کے شعبوں میں ساختی تبدیلیاں ریکارڈ ہونے، اصلاحاتی عمل سے عالمی سطح پر پاکستان کی ساکھ میں مزید بہتری اور اقوام متحدہ کے پائیدار ترقیاتی ہدف پر خصوصی توجہ دیے جانے کا ذکر کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق مشکل جیو پولیٹیکل حالات کے باوجود اصلاحاتی رفتار برقرار رہی۔
وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک نے رپورٹ اجراء کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شفافیت اور شواہد پر مبنی پالیسی سازی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، حقائق پر مبنی اصلاحاتی رپورٹنگ سے عوامی اعتماد میں اضافہ ہوتا ہے۔
مشعل پاکستان کے چیف ایگزیکٹو آفیسر عامر جہانگیر نے کہا کہ رپورٹ گورننس میں تبدیلی کی دستاویز بندی بارے میں ہے، رپورٹ کا ایڈیشن 2026 اصلاحاتی عمل کی بڑھتی پختگی کا اظہار ہے جبکہ رپورٹ کا مقصد اصلاحات کے سفر کو دستاویزی شکل دینا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: رپورٹ کے مطابق ریفارمز رپورٹ
پڑھیں:
کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
سپریم کورٹ آف پاکستان نے 5 سالہ کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کرنے والے مجرم سنی مسیح کی اپیل مسترد کرتے ہوئے اس کی سزائے موت برقرار رکھنے کا فیصلہ سنا دیا۔
عدالت عظمیٰ نے اپنے اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ اپنی مرضی سے نشہ کرکے جرم کا ارتکاب کرنے والا شخص اپنے مجرمانہ عمل سے استثنیٰ کا دعویٰ کرنے کا حق نہیں رکھتا۔
3 رکنی بینچ، جس میں جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ، جسٹس صلاح الدین پہنور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے، نے مجرم کی اپیل پر فیصلہ جاری کیا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ صرف اس صورت میں کیا جا سکتا ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا اس کے علم میں لائے بغیر نشہ آور چیز دی گئی ہو۔
عدالتی فیصلے کے مطابق مجرم سنی مسیح کے خلاف 5 سالہ کمسن بچی کو زیادتی کا نشانہ بنانے اور قتل کرنے کا مقدمہ 22 جنوری 2014 کو سبی میں درج کیا گیا تھا۔
ٹرائل کورٹ نے جرم ثابت ہونے پر مجرم کو سزائے موت سنائی تھی، جسے بعد ازاں ہائیکورٹ نے بھی برقرار رکھا اور اب سپریم کورٹ نے بھی اس فیصلے کی توثیق کردی ہے۔
دوران سماعت مجرم کے وکیل نے مؤقف اختیار کیاکہ وقوعہ کے وقت ملزم نشے کی حالت میں تھا، اس لیے سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا جائے۔
تاہم سپریم کورٹ نے اس استدعا کو مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ کسی شخص کو ایسے عمل کی سزا نہیں دی جا سکتی جس کے ارتکاب کا اس کا ارادہ نہ ہو، لیکن رضاکارانہ طور پر نشہ کرکے اسے اپنے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ مجرم نے خود تسلیم کیاکہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔
عدالت نے واضح کیاکہ جو شخص اپنی مرضی سے شراب نوشی کرتا ہے وہ بعد میں مجرمانہ ذمہ داری سے استثنیٰ کا مطالبہ نہیں کر سکتا۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ مجرم نے بے دردی کے ساتھ کمسن بچی کو قتل کیا، لہٰذا اس کی اپیل خارج کرتے ہوئے سزائے موت برقرار رکھی جاتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews سزائے موت برقرار قتل کیس کمسن بچی وی نیوز