پاکستان ریفارمز رپورٹ 2026 جاری: 135 اداروں میں 600 سے زائد اصلاحات، شفافیت اور ڈیجیٹل گورننس پر زور
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
مشعل پاکستان، جو ورلڈ اکنامک فورم (WEF) کا کنٹری پارٹنر انسٹیٹیوٹ ہے، نے پاکستان ریفارمز رپورٹ 2026 کا اجرا کیا۔ یہ رپورٹ پاکستان میں گورننس اصلاحات کی سب سے جامع دستاویز بندی پیش کرتی ہے، جس میں 2025 کے دوران 135 وفاقی وزارتوں، ڈویژنز اور منسلک اداروں میں 600 سے زائد اصلاحات ریکارڈ کی گئی ہیں، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 5 گنا زیادہ ہیں۔
مزید پڑھیں: معاشی اصلاحات اور ترقیاتی تعاون پر وزیراعظم اور صدرعالمی بینک کا اتفاق
رپورٹ کے مطابق اصلاحات کا زیادہ تر دائرہ توانائی، قانون و انصاف، اور ڈیجیٹل گورننس و آئی ٹی شعبوں پر مرکوز ہے، اور 200 سے زائد اقدامات ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے نافذ کیے جا چکے ہیں، جس سے شفافیت میں اضافہ اور صوابدیدی اختیارات میں کمی آئی ہے۔
مالیاتی اور توانائی کے شعبے میں اصلاحات کے نتیجے میں پاور سیکٹر میں 1.
تقریبِ اجرا میں وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی ڈاکٹر مصدق ملک نے حکومت کے عزم کو دہرایا، اور وزیر اطلاعات نے کہا کہ شفاف اور حقائق پر مبنی اصلاحاتی رپورٹنگ عوامی اعتماد بڑھاتی ہے اور بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ پاکستان کی ساکھ مضبوط کرتی ہے۔
مشعل پاکستان کے چیف ایگزیکٹو آفیسر عامر جہانگیر نے کہا کہ رپورٹ اصلاحات کی بڑھتی ہوئی پختگی، عمل درآمد، ڈیجیٹلائزیشن اور نظام سازی کو ظاہر کرتی ہے، جبکہ شریک بانی پوریش چوہدری نے کہا کہ رپورٹ شہریوں، محققین اور مستقبل کے پالیسی سازوں کو ریاستی ڈھانچے میں بنیادی تبدیلیوں کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔
مزید پڑھیں: آئی ایم ایف کی جانب سے وزیراعظم شہباز شریف کی تعریف، حکومت نے کونسی قابل تعریف معاشی اصلاحات کی ہیں؟
رپورٹ کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ اصلاحات کی بڑی تعداد اقوام متحدہ کے پائیدار ترقیاتی ہدف 16 (امن، انصاف اور مضبوط ادارے) سے ہم آہنگ ہے، اور یہ پاکستان کے عزم کو ظاہر کرتی ہے کہ ادارہ جاتی صلاحیت کو مضبوط کرنا اصلاحات کی مرکزی ترجیح ہے۔
مشعل پاکستان کا مقصد قومی مکالمے کو وقتی اعلانات سے ہٹا کر شفاف اور شواہد پر مبنی گورننس کے ارتقا کی سمت میں لے جانا ہے تاکہ طویل المدتی اصلاحاتی پیشرفت کی نگرانی ممکن ہو سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
WEF پاکستان ریفارمز رپورٹ 2026 ڈاکٹر مصدق ملک عامر جہانگیر مشعل پاکستان ورلڈ اکنامک فورم
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاکستان ریفارمز رپورٹ 2026 ڈاکٹر مصدق ملک عامر جہانگیر مشعل پاکستان ورلڈ اکنامک فورم مشعل پاکستان اصلاحات کی کرتی ہے
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔