سانحہ ترلائی، ایم ڈبلیو ایم سندھ کے تحت تعزیتی تقریبات، احتجاجی مظاہرے اور ریلیاں
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
رہنماؤں نے کہا کہ یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں، بلکہ مسلسل ٹارگٹ کلنگ، بم دھماکے اور مذہبی مقامات پر حملے اس بات کا ثبوت ہیں کہ حکومت صرف بیانات اور دعووں تک محدود ہو چکی ہے، ملک میں منعظم انداز میں ان عوامل کو پروان چڑھایا جارہا ہے جن کے براہ راست صہیونی دہشتگرد ایجنسی مساد و بھارتی خفیہ ایجنسی راء سے تعلق ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین کی جانب سے سانحہ اسلام آباد مسجد خدیجۃ الکبریٰ میں ہونے والی بزدلانہ دہشتگردی کے خلاف ملک بھر میں یومِ سوگ منایا گیا۔ اس موقع پر ایم ڈبلیو ایم صوبہ سندھ کے ضلعی دفاتر میں 50 سے زائد مقامات پر تعزیتی تقریبات،احتجاجی مظاہرے اور ریلیاں نکالی گئیں، جن میں عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ تقریبات سے خطاب کرتے ہوئے ایم ڈبلیو ایم کے رہنماؤں علامہ باقر عباس زیدی، علامہ حیات عباس نجفی، علامہ صادق جعفری سمیت دیگر نے کہا کہ مسجد جیسی مقدس جگہ میں معصوم نمازیوں کو نشانہ بنانا کھلی دہشتگردی ہے، مگر اس سے بھی بڑا المیہ یہ ہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے مجرمانہ خاموشی اور مسلسل غفلت کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے۔
رہنماؤں نے کہا کہ حکومت عوام کی جان و مال کے تحفظ میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے اور کالعدم جماعتوں کے دہشتگرد اسلام آباد سمیت ملک بھر میں دندناتے پھر رہے ہیں، نفرت انگیز بیانیہ تفرقہ بازی کے بیانات، جلسے جلوسوں کے باوجود حکومت ان جماعتوں کے خلاف کاروائی کرنے سے قاصر ہے۔ رہنماؤں نے کہا کہ یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں، بلکہ مسلسل ٹارگٹ کلنگ، بم دھماکے اور مذہبی مقامات پر حملے اس بات کا ثبوت ہیں کہ حکومت صرف بیانات اور دعووں تک محدود ہو چکی ہے، ملک میں منعظم انداز میں ان عوامل کو پروان چڑھایا جارہا ہے جن کے براہ راست صہیونی دہشتگرد ایجنسی مساد و بھارتی خفیہ ایجنسی راء سے تعلق ہے، اگر ریاست اپنی بنیادی ذمہ داری پوری نہیں کر سکتی تو اسے عوام کو جواب دینا ہوگا۔
انہوں نے سخت الفاظ میں کہا کہ ہم اس خونِ ناحق پر خاموش نہیں بیٹھیں گے، حکومت ہوش کے ناخن لے، دہشتگردی کے واقعات کو ’’روٹین‘‘ بناکر نظرانداز کرنا بند کرے اور فوری طور پر شفاف تحقیقات، اصل مجرموں کی گرفتاری اور سہولت کاروں کو بے نقاب کرے۔ رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ سانحہ مسجد خدیجۃ الکبریٰ کی فوری عدالتی تحقیقات کرائی جائیں، شہداء کے لواحقین کو انصاف اور مکمل تحفظ فراہم کیا جائے، مذہبی مقامات کی سیکیورٹی یقینی بنائی جائے، ناکام سیکیورٹی پالیسیوں کے ذمہ داروں کے خلاف کاروائی کی جائے، اسلام آباد سمیت ملک بھر کالعدم جماعتوں نفرت انگیز کفر کا فتوی دینے والے ایجنٹوں کو فوری گرفتار کیا جائے۔ آخر میں رہنماؤں نے واضح کیا کہ مجلس وحدت مسلمین مظلوموں کی آواز بنتی رہے گی اور جب تک قاتلوں کو کیفرِ کردار تک نہیں پہنچایا جاتا، ہمارا پر امن احتجاج جاری رہے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: نے کہا کہ
پڑھیں:
سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) علیمہ خان کا سہیل آفریدی کو مشورہ، کہا سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔(جاری ہے)
علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔