رہنماؤں نے کہا کہ یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں، بلکہ مسلسل ٹارگٹ کلنگ، بم دھماکے اور مذہبی مقامات پر حملے اس بات کا ثبوت ہیں کہ حکومت صرف بیانات اور دعووں تک محدود ہو چکی ہے، ملک میں منعظم انداز میں ان عوامل کو پروان چڑھایا جارہا ہے جن کے براہ راست صہیونی دہشتگرد ایجنسی مساد و بھارتی خفیہ ایجنسی راء سے تعلق ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین کی جانب سے سانحہ اسلام آباد مسجد خدیجۃ الکبریٰ میں ہونے والی بزدلانہ دہشتگردی کے خلاف ملک بھر میں یومِ سوگ منایا گیا۔ اس موقع پر ایم ڈبلیو ایم صوبہ سندھ کے ضلعی دفاتر میں 50 سے زائد مقامات پر تعزیتی تقریبات،احتجاجی مظاہرے اور ریلیاں نکالی گئیں، جن میں عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ تقریبات سے خطاب کرتے ہوئے ایم ڈبلیو ایم کے رہنماؤں علامہ باقر عباس زیدی، علامہ حیات عباس نجفی، علامہ صادق جعفری سمیت دیگر نے کہا کہ مسجد جیسی مقدس جگہ میں معصوم نمازیوں کو نشانہ بنانا کھلی دہشتگردی ہے، مگر اس سے بھی بڑا المیہ یہ ہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے مجرمانہ خاموشی اور مسلسل غفلت کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے۔

رہنماؤں نے کہا کہ حکومت عوام کی جان و مال کے تحفظ میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے اور کالعدم جماعتوں کے دہشتگرد اسلام آباد سمیت ملک بھر میں دندناتے پھر رہے ہیں، نفرت انگیز بیانیہ تفرقہ بازی کے بیانات، جلسے جلوسوں کے باوجود حکومت ان جماعتوں کے خلاف کاروائی کرنے سے قاصر ہے۔ رہنماؤں نے کہا کہ یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں، بلکہ مسلسل ٹارگٹ کلنگ، بم دھماکے اور مذہبی مقامات پر حملے اس بات کا ثبوت ہیں کہ حکومت صرف بیانات اور دعووں تک محدود ہو چکی ہے، ملک میں منعظم انداز میں ان عوامل کو پروان چڑھایا جارہا ہے جن کے براہ راست صہیونی دہشتگرد ایجنسی مساد و بھارتی خفیہ ایجنسی راء سے تعلق ہے، اگر ریاست اپنی بنیادی ذمہ داری پوری نہیں کر سکتی تو اسے عوام کو جواب دینا ہوگا۔

انہوں نے سخت الفاظ میں کہا کہ ہم اس خونِ ناحق پر خاموش نہیں بیٹھیں گے، حکومت ہوش کے ناخن لے، دہشتگردی کے واقعات کو ’’روٹین‘‘ بناکر نظرانداز کرنا بند کرے اور فوری طور پر شفاف تحقیقات، اصل مجرموں کی گرفتاری اور سہولت کاروں کو بے نقاب کرے۔ رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ سانحہ مسجد خدیجۃ الکبریٰ کی فوری عدالتی تحقیقات کرائی جائیں، شہداء کے لواحقین کو انصاف اور مکمل تحفظ فراہم کیا جائے، مذہبی مقامات کی سیکیورٹی یقینی بنائی جائے، ناکام سیکیورٹی پالیسیوں کے ذمہ داروں کے خلاف کاروائی کی جائے، اسلام آباد سمیت ملک بھر کالعدم جماعتوں نفرت انگیز کفر کا فتوی دینے والے ایجنٹوں کو فوری گرفتار کیا جائے۔ آخر میں رہنماؤں نے واضح کیا کہ مجلس وحدت مسلمین مظلوموں کی آواز بنتی رہے گی اور جب تک قاتلوں کو کیفرِ کردار تک نہیں پہنچایا جاتا، ہمارا پر امن احتجاج جاری رہے گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: نے کہا کہ

پڑھیں:

بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے

لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔23 جولائی ۔2026 ) صوبائی دارالحکومت لاہور میں علامہ اقبال ٹاﺅن مین بلیوارڈکی سروس روڈپربھیکے وال کے نزدیک 10فٹ گہرا شگاف پڑگیا ہے‘اسی طرح جوہر ٹاﺅن مصروف ترین شاہراہ خیابان فردوسی پر ایک اورگڑھا پڑ گیاہے گزشتہ تین روز کے دوران مذکورہ سڑک پریہ دوسرا گڑھا پڑا. بارش کے بعد مرکزی شاہراہ پر گڑھنے پڑنے سے حادثات کا خدشہ بڑھ گیا حکام کے مطابق سڑک کی مرمت کا کام شروع ہوگیا گڑھا پڑنے سے ٹریفک کی روانی جزوی طور پر متا ثر ہوئی دوسری جانب اقبال ٹاﺅن میں بھیکے والے موڑ جانب فاروق ہسپتال سروس روڈ پر 10 فٹ گہرا شگاف پڑ گیا.

(جاری ہے)

سڑک کے درمیان پڑنے والے گہرے شگاف کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہو رہی ہے شگاف پڑنے سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، متعلقہ افسران اور واسا کی ٹیمیں موجود ہیں ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ متعلقہ محکموں نے سروس روڈ پر شگاف پر کرنے کیلئے کام شروع کردیا. واضح رہے کہ 17جولائی کو ہونے والی بارش سے فیروزپور روڈ پرنشتر کالونی کے قریب سروس روڈ کا ایک حصہ بیٹھ گیا تھا جس کے نتیجے میں وہاں کھڑی تین موٹر سائیکلیں گڑھے میں جا گریں تھیں.

شہریوں کا کہنا ہے کہ پورے شہر کے اندر یہی حال ہے بارشوں میںمتوسط آبادیوںکے اندر سڑکوں کے بیٹھ جانے کے واقعات زیادہ ہوتے ہیں مگر انہیں کوریج نہیں ملتی‘نجی یونیورسٹی کے لیکچرار معاذالاسلام سول انجینئرنگ پڑھاتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ بدقسمتی سے پاکستان میں سب سے زیادہ بدعنوانی اس شعبے میں ہے ناقص میٹریل اور زمین کی کمپریشن عالمی لیول کی نہیں کی جاتی .

ان کا کہنا ہے کہ ٹھیکے دار اب کئی دن مٹی کو کمپریس کرنے میں نہیں لگا اور نہ ہی میٹریل ڈالنے کے بعد ٹھیک طریقے سے اسے کمپریس کیا جاتا ہے ‘مٹی نرم ہونے سے اگر پانی راستہ بنالے تو چند ہفتوں میں ہی اس ایریا کے نیچے زمین کھوکھلی ہوجاتی ہے اور بارشوں کے دوران شگاف پڑنے لگتے ہیں. انہوں نے بتایا کہ لاہور فیصل آباد موٹر وے کو جب تجرباتی طور پرچھوٹی گاڑیوں کے لیے کھولا گیا تھا تو لاہور سے فیصل آباد کے سفر کے دوران انہوں نے نوٹ کیا تھا کہ کئی سو ارب کی لاگت سے بنی اس سڑک میں لیول کا بھی خیال نہیں رکھا تھا اور یہ موٹروے مکمل طور پر ناہموار تھا جس پر انہوں نے کچھ دیگر انجینئرز کے ساتھ مل کر ایک تجزیاتی رپورٹ این ایچ اے اور پنجاب حکومت کو ارسال کی تھی تاہم آج تک ہمیں اس پر کوئی جواب نہیں ملا.

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن