پاکستان 2030 تک مصنوعی ذہانت میں ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا، وزیراعظم شہباز شریف
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
وزیراعظم شہباز شریف نے اعلان کیا ہے کہ حکومت 2030 تک آرٹیفیشل انٹیلیجنس یعنی مصنوعی ذہانت کے شعبے میں ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گی۔
اسلام آباد میں انڈس اے آئی ویک 2026 کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اس حکومتی اقدام کا مقصد ملک میں جدید ٹیکنالوجی پر مبنی مضبوط اے آئی ایکو سسٹم کی تشکیل ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان ’اے آئی‘ کے میدان میں آگے بڑھنے لگا، نوجوان ماہرین اور اسٹارٹ اپس کے لیے بے شمار مواقع
یہ قومی سطح کا اہم ٹیکنالوجی ایونٹ 9 سے 15 فروری تک جاری رہے گا، جہاں پالیسی، اختراع، سرمایہ کاری اور باصلاحیت افرادی قوت ایک جگہ جمع ہوتی ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے امید ظاہر کی کہ یہ سرمایہ کاری پاکستان کو ڈیجیٹل معیشت کی جانب تیزی سے گامزن کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔
Indus AI week is INSANE.
— Habibullah Khan (@Huk06) February 9, 2026
اپنے خطاب میں وزیراعظم شہباز شریف نے اعلان کیا کہ مصنوعی ذہانت کا نصاب نہ صرف وفاق کے زیرانتظام اسکولوں بلکہ آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کے تمام اسکولوں میں متعارف کرایا جائے گا۔
انہوں نے زور دیا کہ یہ منصوبہ بلوچستان کے دور دراز علاقوں تک بھی نافذ کیا جائے گا تاکہ نوجوانوں کو قیادت اور ڈیجیٹل معیشت کے تقاضوں کے لیے تیار کیا جا سکے۔
مزید پڑھیں: پاکستانی طلبہ نے دنیا کو ’اے آئی‘ میں پیچھے چھوڑ دیا، عالمی سطح پر پذیرائی
وزیراعظم نے مزید بتایا کہ حکومت 2030 تک ملک بھر سے ایک ہزار طلبہ کو مصنوعی ذہانت کے شعبے میں مکمل فنڈڈ پی ایچ ڈی اسکالرشپس فراہم کرے گی، جس کا مقصد پاکستان میں عالمی معیار کا تحقیقی مرکز قائم کرنا ہے۔
اس کے علاوہ ایک قومی پروگرام کے تحت 10 لاکھ نان آئی ٹی پروفیشنلز کو اے آئی مہارتوں کی تربیت دی جائے گی تاکہ ان کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہو اور معاشی مواقع بہتر بنائے جا سکیں۔
مزید پڑھیں: ’گو ٹیلی کمیونیکیشنز گروپ‘ کا پاکستان میں اے آئی ہب قائم کرنے کا فیصلہ
انہوں نے کہا کہ زراعت، معدنیات اور کان کنی سمیت مختلف شعبوں میں مصنوعی ذہانت کے استعمال پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔
وزیراعظم کے مطابق پاکستان کی آبادی کا تقریباً 60 فیصد نوجوانوں پر مشتمل ہے اور حکومت انہیں بااختیار بنانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کو بنیادی ہتھیار کے طور پر استعمال کرے گی۔
مزید پڑھیں:مصنوعی ذہانت: کون سی نوکریاں ختم اور کون سی جنم لے رہی ہیں؟
وزیراعظم شہباز شریف نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان عالمی شراکت داروں کے ساتھ مل کر جدید ٹیکنالوجی کے اس چیلنج کو قبول کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
انہوں نے کہا کہ انڈس اے آئی ویک پاکستان کے تکنیکی منظرنامے کو بدلنے میں سنگِ میل ثابت ہوگا اور یہ اقدام ملک کے لیے ایک حقیقی ’گیم چینجر‘ ہوگا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آرٹیفیشل انٹیلیجنس اسکالرشپس انڈس اے آئی ویک ایکو سسٹم بلوچستان شہباز شریف مصنوعی ذہانت وزیر اعظم
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: آرٹیفیشل انٹیلیجنس اسکالرشپس انڈس اے آئی ویک ایکو سسٹم بلوچستان شہباز شریف مصنوعی ذہانت وزیراعظم شہباز شریف نے مصنوعی ذہانت سرمایہ کاری کے لیے کرے گی اے آئی
پڑھیں:
برآمدات بڑھانے کیلئے مؤثر اقدامات ترجیح ہیں: وزیرِ اعظم شہباز شریف
وزیرِ اعظم شہباز شریف—فائل فوٹووزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ صنعتی مصنوعات کی پیداوار میں اضافے سے برآمدات بڑھانے کے لیے مؤثر پالیسی اقدامات ترجیح ہیں۔
وزیرِاعظم کی زیرِ صدارت سرمایہ کاری میں اضافے، شعبہ جاتی اصلاحات اور پالیسی اقدامات پر جائزہ اجلاس ہوا جس میں متعلقہ وزارتوں کی جانب سے مختلف زیرِغور پالیسی تجاویز پر بریفنگ دی گئی۔
اجلاس میں وفاقی وزراء اسحاق ڈار، محمد اورنگزیب، احد چیمہ، عطاء تارڑ شریک ہوئے۔
نوجوانوں کو جدید علم اور مہارتوں سے آراستہ کرنا وقت کی ضرورت ہے، اے آئی کے فوائد اور چیلنجز دونوں ہیں: شہباز شریف
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِاعظم شہباز شریف نے کہا کہ ملکی معیشت کی پائیدار ترقی کے لیے صنعت کا فروغ اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ توانائی کی ضروریات متبادل توانائی ذرائع سے پوری کرنے کے لیے بھر پور کام ہو رہا ہے۔
وزیرِ اعظم کا مزید کہنا ہے کہ توانائی بچانے اور سستی ٹرانسپورٹ کے لیے الیکٹرک وہیکلز پالیسی ضروری ہے۔
وزیرِاعظم شہباز شریف نے یہ بھی کہا کہ تمام اصلاحات اور اقدامات میں انتظامی شفافیت اور بہترین کارکردگی اولین ترجیح ہے۔